جمہوریت میں صرف انتخابی جنگ جیت لینا کافی نہیں ہوتا۔ تمام بڑی لڑائیاں بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی جیتی جاتی ہیں اور بعض اوقات اس کیلئے وقار کے ساتھ شکست تسلیم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: August 03, 2026, 9:01 PM IST | Ashok Lavasa | Mumbai
جمہوریت میں صرف انتخابی جنگ جیت لینا کافی نہیں ہوتا۔ تمام بڑی لڑائیاں بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی جیتی جاتی ہیں اور بعض اوقات اس کیلئے وقار کے ساتھ شکست تسلیم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
۳۰۲؍ سال پہلے دہلی میں ایک یادگار تعمیر کی گئی جس کے نام کا مطلب تھا’’حساب لگانے کا آلہ‘‘۔ لفظ ’’ جنتر‘‘ اصل میں ’’ینتر‘‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں ’’آلہ‘‘ جبکہ ’’منتر‘‘ ماخوذ ہے ’’منترنا‘‘ سے جس کے معنی ’’رائے لینا‘‘ یا ’’حساب لگانا‘‘ ہے۔ اسی یاد گار کے پاس گزشتہ چند ہفتوں میں ا ہم نے جو دیکھا وہ ایک ایسی حکومت تھی جس کے پاس اس طوفان کی شدت کا اندازہ لگانے کا کوئی آلہ نہیں تھا، جوآنےوالاتھا۔ یہ طوفان ہزاروں میل دُور وَرچوئل (آن لائن ) دنیا میں پیدا ہوا اور پھر ایسی رفتار سے آگے بڑھا جس پر قابو پانا مشکل تھا ۔اس نے گھمنڈ اور غرور کی ایک خیالی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس نے ایسے کئی ستونوں کو توڑ کر رکھ دیا جنہیں زعم تھا کہ انہیں کوئی نہیں جھکا سکتا۔اس طوفان نے بظاہر ناقابل تسخیر نظر آنےوالے اسٹیبلشمنٹ کو زخمی اور پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
اگر جمہوریت میں شہریوں اور ان کے منتخب نمائندوں کے تعلق کو کسی ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو وہ لفظ ہے’’اعتماد‘‘۔ یہ اعتماد صرف منتخب نمائندہ اوراسے ووٹ دینےوالوں کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ حلقۂ انتخاب کے تمام عوام کے ساتھ ہوتا ہے۔ منتخب ہونے کے بعد نمائندوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے حلقے کے لوگوں کا اعتماد حاصل کریں جن کی توقعات ان سے وابستہ ہیں۔ اسی طرح اقتدار میں بیٹھے افراد چاہے وہ منتخب ہوئے ہوں یا مقرر کئے گئے ہوں، عوام کی منصفانہ خدمت اسی وقت کر سکتے ہیں جب ان میں ہمدردی کا جذبہ موجود ہو۔
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات میں طلبہ احتجاج، جوہر یونیورسٹی اور ایف ڈی اے زیر بحث رہے
ہمدردی اور عوامی اعتماد کا زوال
دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہرے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اعتماد اور ہمدردی دونوں تقریباً ناپید ہو چکے ہیں۔ ہر احتجاج عوام کے مسائل کے تعلق سے حکومتی سطح پر ہمدردی کے جذبہ کے فقدان کی وجہ سے اعتماد کے ٹوٹنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ بے حسی مظاہرین کے ساتھ صرف پولیس کے برتاؤ سے ظاہر نہیں ہوئی بلکہ حکومت نے طلبہ کے اٹھائے گئے سوالات اور مسائل کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا اس سے بھی جھلک رہی تھی۔ بااختیار عہدوں پر فائز افراد جسمیں عدلیہ بھی شامل ہے، کو عوام کی آواز کو سننا سیکھنا ہوگا، قبل اس کے کہ وہ چیخنے پر مجبور ہوجائیں۔ فی الحقیقت حکومتوں میں ان لوگوں کو بھی سننے کی صلاحیت ہونی چاہئے جو بول نہیں سکتے، جن کی آواز نہیں ہے۔ اس کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ماضی میں کئی طوفان اٹھ چکے ہیں اور مستقبل میں بھی اٹھتے رہیںگے۔
کسی بھی مظاہرہ کا جائزہ لیں تو اس میں۴؍ بنیادی کردار مظاہرین، سیاسی جماعتیں، نظم ونسق برقرار رکھنے والی مشینری اور خاموش اکثریت کی شکل میں ملتے ہیں۔ جب حکومت کسی احتجاج کی شدت کو محسوس نہیں کرپاتی اور اسے نظرانداز کرتی ہے توہ زور پکڑ لیتا ہے اور اس کا سڑکوں پر پھیل جانالازمی ہے ۔ ایسا احتجاج ناانصافی کا شکار ہونے کے احساس میں مبتلا افراد کو بھی اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ اکثر حکومتیں ایسی تحریکوں کو نظر انداز کرتی ہیں تاکہ وہ یا تو خود ہی دم توڑ دیں یا پھر پرتشدد ہو جائیں، جس کے بعد انہیں بدنام کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ عوامی احساسات اور جذبات کو نظر انداز کرنے والی حکومتوں کی یہ چال ہوتی ہےکہ حتجاج نظم ونسق کا مسئلہ بنا دیا جائے تاکہ سیاسی قیادت کے بجائے قانون کو نافذ کرنے والی ریاست کی مشینری ان سے نمٹے۔
پولیس جیسے ریاستی اداروں کے ایسے احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے اپنے طریقہ کار ہوتے ہیں۔ کبھی انہیں خود بخود پرتشدد ہونے دینا تو کبھی نامعلوم شرپسند عناصر کے ذریعے حالات خراب ہونے دینا ۔ شاعر کرشن بہاری نور کے الفاظ میں:
’’جس کے کارن فساد ہوتے ہیں- اس کا کوئی اتا پتا ہی نہیں۔‘‘
اس طرح عوامی غصے سے نمٹنے کی ذمہ داری ان لوگوں سے ہٹ جاتی ہے جن پر تبدیلی لانے کی ذمہ داری تھی اور ان اداروں پر آ جاتی ہے جن کا کام صرف امن و امان برقرار رکھنا ہے۔ اس دوران خاموش اکثریت دور بیٹھ کر تماشا دیکھتی رہتی ہے، اسے یاتو مظاہرین سے ہمدردی تو ہوتی مگرا س میںہمت نہیں کرتی، یا پھر وہ حکمرانوں کے ساتھ کھڑی ہو کر اس مقصد سے بے نیاز رہتی ہے جس کیلئے مظاہرہ ہورہا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’جاپان کی ٹرین میں عمر رسیدہ خواتین نے بھی ہمارے لئے اپنی نشستیں چھوڑ دی تھیں‘‘
ریاست کا اندازہ اور بے خوف نوجوانوں کی مزاحمت
طلبہ اور نوجوانوں کی وجہ سے عام لوگ بھی جذباتی طور پر اس تحریک سے جڑ گئے ۔ پولیس کی جانب سے جب ان نوجوانوں کو سختی سے دبانے کی کوشش کی گئی تو اس نے بڑے پیمانے پر مذمت کو جنم دیا۔ہتھیاروں سے لیس سیکوریٹی فورسیز جب یہ دیکھتی ہیں کہ حکومت سیاسی طور پر مسئلہ حل کرنے سے گریز کررہی ہے توطاقت کا استعمال کرکے مظاہرہ کو ختم کرنا ان کا فطری طریقہ کار بن جاتا ہے۔ دراصل حکومت کی بے اعتنائی پولیس کیلئے شاید اس بات کا اشارہ تھی کہ وہ اپنے اس طریقہ سے مظاہرین سے نمٹے جس کی اسے تربیت دی گئی ہے۔ پولیس کمشنر کی اچانک تبدیلی اور سونم وانگ چک کو سفید چادر میں لپیٹ کر زبردستی وہاں سے ہٹانا حکومت کی نیت اور اس کی پُرفریب سازش کوبے نقاب کرتا ہے۔
تاہم عوامی ردعمل اور بڑی تعداد میں مظاہرہ میں ان کی شرکت نے یہ منصوبہ ناکام بنا دیا۔ حکومت یہ سمجھ ہی نہیں پائی کہ وہ ایسے مظاہرین سے نمٹ رہی ہے جو اس لئے نہیں ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ باغیانہ تیوروں کے حامل ہیں بلکہ اس لئے ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ حکومت کی طاقت کے رعب کو خاطر میں نہیں لاتے ۔ ان کی اصل طاقت بے فکری سے بھرپور وہ جرأت تھی جس میں مشکلات کا بھی مذاق بنا لیتے ہیں۔ انہوں نےحکام کا اس طرح مذاق اڑا یا کہ حکومت کی طاقت ان کے آگے بے بس نظر آنے لگی۔
یہ ہونا بھی تھا کیوں کہ یہ تحریک خود عدلیہ کے اعلیٰ ترین عہدہ پر فائز ایک شخص کے ذریعہ ان کا مذاق اڑائے جانے کے نتیجہ کے طور پر وجود میں آئی تھی حالانکہ مذکورہ شخصیت نے اپنے تبصرہ کے تعلق سے بعد میں سیاس وسابق کے حوالے سے صفائی پیش کی مگر تب تک بداعتمادی کا بیج بویا جا چکا تھا۔ خوش قسمتی سے حکومت کو آخرکار یہ احساس ہوگیا کہ اس کا سامنا ایسے ’’کاکروچیز‘‘ سے ہے جنہیں آسانی سے کچلا نہیں جا سکتا۔
کسی بھی مؤثر احتجاجی آندولن کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے کیونکہ اس میں تمام فریقوں کیلئے سیکھنے کو بہت کچھ ہوتا ہے۔
اول تو عوام کو ان لوگوں سے ڈرے بغیر جنہیں انہوں نے ہی منتخب کیا ہے،بولنا سیکھنا چاہئے۔ جمہوریت صرف آئین میں درج ایک نظامِ حکومت کا نام نہیں بلکہ اسے الیکشن کے دن کے بعد ہر روز برتا جانا چاہئے اور اس کیلئے منتخب نمائندوں سے مسلسل زیادہ مضبوطی اور اختیار کے ساتھ جواب دہی طلب کرنا ضروری ہے۔
دوم، وہ ادارے جو طاقت کااستعمال کرتے ہیں،انہیںسمجھنا چاہیے کہ ایسے واقعات بالآخر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں کیونکہ سیاسی قیادت اکثر انہیں قربانی کا بکرا بنا تی ہے اور نتیجتاً عوام سے ان (سیکوریٹی فورسیز)کی دوری مزید بڑھ جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جین زی کے احتجاج سے پھوٹی کرنیں، عوام کی امیدیں اب نئی نسل پر
سوم،منتخب نمائندوں کو خود کو’’سیوک‘‘ یا عوام کا خادم کہنے سے پہلے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی خادم غرور اور تکبر کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ اگر اقتدار میں بیٹھے افراد عوام کے مطالبات کے تعلق سے بہرے بنے رہتے ہیں تو طویل مدت میں انہیں اس کی قیمت ضرورچکانی پڑے گی۔
جمہوریت کیلئےخوش آئند بات یہی ہے کہ اگر ایک چائے بیچنے والا ملک کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچ سکتا ہے تو عوام کی طاقت ایسے نسبتاً غیر معروف افراد کو بھی سامنے لا سکتی ہے جو طاقتور حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں۔جمہوریت میں صرف انتخابی جنگ جیت لینا کافی نہیں ہوتا۔ تمام بڑی لڑائیاں بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی جیتی جاتی ہیں اور بعض اوقات اس کیلئے وقار کے ساتھ شکست تسلیم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
(بشکریہ: انڈین ایکسپریس)