Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنترمنتر پر مظاہرہ ختم ہوا مگر وہ بے شمار کہانیوں کے سبب ہمیشہ یاد رکھا جائیگا

Updated: August 03, 2026, 7:32 PM IST | Mumbai

جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج نے غیر سنجیدہ نظر آنے والی اس نئی نسل اوراس کی طاقت کو سمجھنے کا موقع دیا جسے اب تک لاپروا، سست اورموبائل میں غرق رہنےوالی کہہ کر نظر انداز کیا جاتا رہاہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

غیر سنجیدہ نظر آنے والی سنجیدہ نسل نے اپنی تخلیقی صلاحیت کا لوہا منوا لیا

 جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی  کے احتجاج نے غیر سنجیدہ نظر آنے والی  اس نئی نسل  اوراس کی طاقت کو سمجھنے کا موقع دیا جسے اب تک لاپروا، سست اورموبائل میں غرق رہنےوالی کہہ کر نظر انداز کیا جاتا رہاہے۔خود کو ’’کُول‘‘ قرار دینےوالی اس نسل نے ’’کُول‘‘رہتے ہوئے ،احتجاج کو انجوائمنٹ میں بدل دیا،  جن پولیس اہلکاروں نے ان پر لاٹھیاں برسائیں ،کبھی انہیں گلاب پیش کرکے شرمندہ کیا تو کبھی ’’واستے گونی ہوئیاں‘‘ کےسمجھ میں نہ آنےوالے نعرہ  کے ذریعہ ان کے ردعمل  سے لطف اندوز ہوئے۔   جین زی نے احتجاج کو صرف سڑک تک محدود نہیںرکھا بلکہ  جنتر منتر پر اٹھنے والا پلے کارڈ کیمرہ کے سامنے آتا  اور پھر انسٹا گرام کے ذریعہ پورے ملک میں نوجوانوں کے موبائل فون کی اسکرین پر پھیل جاتا۔ نعرہ ریل ریل میں تبدیل ہوجاتا اور  پولیس کی کارروائی میم میں بدل جاتی۔

یہ احتجاج جتنا جنتر منتر پر تھا،اس سے کئی گنا زیادہ نوجوانوں  کے موبائل اوران کے انسٹا گرام اکاؤنٹس پر تھا۔   یعنی   انسٹا گرام ’ورچوئل‘ جنتر منتر میں تبدیل ہوچکاتھا۔  اس مظاہرہ کی سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ نئی نسل اپنی ناراضگی کااظہار غصہ سے نہیں بلکہ طنز ومزاح کے ذریعہ کررہی تھی اور ایسا طنز کے غیرت مند کیلئے  ڈوب مرنے کا مقام ہو۔ مثال کے طور پر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ نہ دینے پر کسی نے طنز کیا کہ ملک میں روزگار کے مواقع  بہت کم ہیں اسی لئے  شاید  وزیر ِ محترم استعفیٰ نہیں دے رہے۔ایک نوجوان  دوسرے نے اسے کارپوریٹ ملازمت سے جوڑتے ہوئے مذاق کیا کہ شاید وہ تنخواہ  اور ’فل اینڈ فائنل سیٹلمنٹ‘ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ۲۰؍ جولائی کو جب پارلیمنٹ مارچ کے موقع پر پولیس نے لاٹھی لے کر دوڑایا تو یہ ان نوجوانوں نے دوڑتے ہوئے اپنے ویڈیو ریکارڈ کرلئے۔ کسی نے اسے موبائل گیم’سب سے سرفر‘کی میوزک کےساتھ شیئر کیا تو کسی نے ’’چک دے انڈیا‘‘یا پھر’’بھاگ ملکھا بھاگ‘‘جیسی فلموں کے گانوں کو بیک گراؤنڈ میں  سیٹ کردیا۔ کسی نے بھاگتے ہوئے اپنا ویڈیو شیئر کیا اور کیپشن لکھ دیا کہ ’’تھینکس فار دی کارڈیو، دہلی پولیس۔‘‘ کارڈیو ٹریڈ مل پر دوڑنے کی ورزش ہے جس کا مقصد دل کو مضبوط کرنا ہے۔  ایک ایک لمحہ کا ویڈیو بنالینے میں یقین رکھنےوالی اس نسل نے اپنے گھروں  سے احتجاج کیلئے نکلتے ہوئے بھی ویڈیو ریکارڈ کر کے ریل بنا دیا۔  ایک طالبہ نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ’’ حکومت کے زوال کو دیکھنے کے لیے تیار ہو رہی ہوں، لباس کے ساتھ ’ریڑھ کی ہڈی، جھمکے اور آئینی حق‘ بھی پہن لیا ہے۔‘‘ ایک  طالبہ نے  مظاہرہ سے واپسی پر اپنے میک اَپ کے  حوالہ سے پیغام دیا کہ’’ میک اَپ کا فاؤنڈیشن (بنیاد) حکومت کے مقابلے میں زیادہ مضبوط نکلا۔‘‘جنتر منتر   پر احتجاج کے ساتھ ہی نوجوان  سوشل میڈیا کیلئے ’’کنٹینٹ‘‘ بھی تیار کررہے تھے۔ یہ وہ کنٹینٹ تھا جو اُن کی مقبولیت میں  اضافہ  اور حکومت کی فضیحت کا ذریعہ بن رہا تھا۔ یہاں لہرائے جانے والے پلے کارڈ  ’کانٹینٹ  تھے ۔تختیوں پر تخلیقی صلاحیتیں اپنا لوہا منوا رہی تھیں۔  ایسے دلچسپ نعرے اور پیغامات  تھے کہ لوگ تصویریں  کھینچ کر سوشل میڈیا پر شیئر کئے بغیر نہ رہ سکے۔اس طرح نیشنل میڈیا کے نظر انداز کرنے کے باوجود یہ احتجاج تیزی سے عوام تک پہنچا اور  ہر گزرتے دن مزید لوگوں کو شرکت پر آمادہ کرتا رہا۔احتجاج میں آنے والا ہر نوجوان  رپورٹر بھی تھا اورکیمرہ مین بھی۔  یہاں کوئی  بیٹ مین بناہوا تھاتو کوئی  اسپائیڈر مین۔ کوئی  سپرمین اور آئرن مین تو کوئی ’’گوچو پوچو‘‘ جیسے الفاظ کے ساتھ وزیرتعلیم کو مخاطب کرکے استعفیٰ مانگ رہاتھا۔  جین زی  کے اس  احتجاج  کا پیغام بہت عام ہے کہ:ہم اپنا مطالبہ بھی کریں گے اور اسے اس انداز میں کریں گے کہ آپ اسے نظر انداز نہیں کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: احتجاج کی بیلنس شیٹ: سرمایہ کس نے لگایا؟ قیمت کس نے ادا کی؟ منافع کتنا ہوا؟

طلبہ میں مقبول رہا ’’مجھے کو اپنے بینک کی کتاب دیجئے!‘‘

مظاہروں کیلئے جہاں نعروں کی ضرورت ہوتی ہے وہیں شاعری بھی مظاہرین کو کافی سہارا دیتی ہے۔ حالیہ مظاہروں میں یوں تو کئی نظمیں اور گیت گونجتے رہے مگر اُن میں سے ایک کو الگ الگ لوگوں نے اپنے اپنے طریقے سے گایا اور جو اصل گیت تھا اُس میں اپنی پسند کے حساب سے تبدیلیاں بھی کیں۔ یہ گیت ہے: مجھ کو اپنے بینک کی کتاب دیجئے، دیش کی تباہی کا حساب دیجئے‘‘۔ اس گیت کے تیور ایسے ہیں کہ ایک ایک لفظ دلوں میں اُتر جائے۔ اس سے قبل کہ ہم آپ کو اس گیت کے اصل خالق کا نام بتائیں، آئیے اس کا ایک بند سن لیں:

’’مجھ کو اپنے بینک کی کتاب دیجئے/ دیش کی تباہی کا حساب دیجئے/ گاؤں گاؤں زخمی فضائیں ہوگئیں/ زہریلی گھر کی ہوائیں ہوگئیں/ مہنگی شراب سے دوائیں ہوگئیں/ جائیے عوام کو جواب دیجئے/ مجھ کو اپنے بینک کی کتاب دیجئے‘‘ 

یہ گیت معروف شاعر منظر بھوپالی نے ۱۹۹۰ء کی دہائی میں لکھا تھا جب مہنگائی، بدعنوانی اور بے روزگاری سنگین مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ منظر صاحب نے اسے پہلی مرتبہ امریکہ کے ایک مشاعرہ میں پڑھا تھا۔ حالیہ مظاہروں کے یوٹیوب ویڈیوز پر آپ سن سکتے ہیں کہ اس گیت میں اپنے حساب سے ترمیم کرکے اسے موجودہ وقت کے مسائل سے ہم آہنگ کر لیا گیا ہے۔ ایک ویڈیو میں کچھ اس طرح کے الفاظ ملتے ہیں: ’’مجھ کو اپنی بینک کی کتاب دیجئے/ دیش کی تباہی کا حساب دیجئے/ یووا سارے دیش کے سڑک پر آگئے/ نیٹ پیپر لیک پر تم چپی کھا گئے/ بھگوان کو بھی لو‘ٹ کے ٹھینگا دکھا گئے / جنتا کرے مانگ تو جواب دیجئے/ دیش کی تباہی کا حساب دیجئے۔

یہ بھی پڑھئے: جوہر یونیورسٹی، جو مسلم نام کی وجہ سے کچھ لوگوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے

 جے این یو سے جنترمنتر تک ، ہرطرف  نیہا بورا ہی! 

جنتر منتر پر طلبہ تحریک نے  ایک تاریخ رقم کی ہے۔اس تحریک سے قبل تک ہم ممبئی والے ۲۶؍ جولائی ۲۰۰۵ء کو تباہ کن سیلاب کیلئے یاد رکھتے تھے لیکن اب ۲۶؍ جولائی ۲۰۲۶ء  کو یاد رکھا جائے گا۔ لیکن جب کسی تحریک کی تاریخ لکھی جاتی ہے تو اس میں صرف نعرے نہیں ہوتے بلکہ چہرے بھی اس کی پہچان بن جاتے ہیں۔ جنتر منتر پر طلبہ کی اس تحریک نے ملک کو نیہا بورا کی شکل میں ایک ایسی ہی ممتاز شخصیت دی، ایک طالب علم قائد جس نے نہ صرف اپنی پُراثر تقریروں سے بلکہ اپنی جدوجہد، استقامت اور۲۳؍ دن کی بھوک ہڑتال سے بھی ملک بھر کے لاکھوں نوجوانوں کی توجہ حاصل کی۔

جنتر منتر کی تحریک بھلے ہی دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے ساتھ ختم ہو گئی ہو، لیکن اس تحریک کی تصویروں، نعروں اور جدوجہد میں اگر کوئی چہرہ سب سے زیادہ زیر بحث رہا تو وہ  نیہا بورا ہیں۔ ان کیلئے یہ محض ایک احتجاج نہیں تھا بلکہ اس نسل کی آواز تھی جو تعلیمی نظام، مساوی مواقع اور جمہوری حقوق پر سوال اٹھا رہی تھی۔ مظاہرہ ختم ہوجانے کے بعد بھی وہ پوری طرح سے سرگرم ہیں اور طلبہ کے مسائل کے حل کیلئے  بہار سمیت کئی جگہوں کا دورہ کرچکی ہیں۔جنترمنتر پر احتجاج کے دوران ان کی ایک تقریر جو پولیس لاٹھی چارج کے بعد کی گئی تھی، تاریخ کے سنہرے صفحات میں یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ’ہم یاد رکھیں گے‘ کو بار باہر دہرایا تھا۔ نیہا بورا نے دہلی پولیس اور پولیس کمشنر کے ساتھ ہی وزیرداخلہ اور وزیراعظم کو بھی چیلنج کیا تھا کہ آپ کی جارحیت کو نئی نسل یاد رکھے گی۔

نیہا بورا اتراکھنڈ کی رہنے والی ہیں۔ ان کے بچپن کا کچھ حصہ مغربی بنگال میں بھی گزارا۔ نیہا نے دہلی یونیورسٹی سے بی اے  اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔فی الحال وہ جے این یو سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ نیہا بورا اس وقت آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مختلف مقابلہ جاتی امتحانات میں دینی مدارس کے فارغین کی نمایاں کامیابی امید افزا

 ابھیجیت دِپکے، سورو داس اور اشوتوش رانکا

کاکروچ جنتا پارٹی کے وجود میں آنے اور جنتر منتر پر احتجاج کے بعد تین نام ابھیجیت دپکے، سورو داس اور اشوتوش رانکا تیزی کے ساتھ اُبھرے۔ اس کے بعد لوگوں میں تجسس پیدا ہوا کہ یہ تینوں کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ کیا کرتے ہیں، کتنا پڑھے لکھے ہیں ؟ اور ان کا پس منظر کیا ہے؟ آئیے!کچھ ان کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں۔

ابھجیت دپکے نے پونے سے صحافت کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ چلے گئے، جہاں انہوں نے بوسٹن یونیورسٹی سے  ’پی آر‘ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔اس کے بعد وہ ملازمت کے مواقع تلاش کررہے تھے کہ اسی دوران چیف جسٹس آف انڈیا کے ایک بیان سے انہیںکاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) کی بنیاد ڈالنے کا خیال پیدا ہوا۔  ۲۰۲۰ء سے ۲۰۲۳ء کے درمیان دپکے کا تعلق عام آدمی پارٹی سے بھی تھا۔ اس دوران انہوں نے سوشل میڈیا کی حکمت عملی اور انتخابی مہم پر کام کیا تھا۔۲۰۲۰ء میں دہلی کے اسمبلی انتخابات کے دوران انہوں نے نوجوانوں تک پہنچنے کیلئے’ میم‘ پر مبنی ڈیجیٹل مہم میں بھی کردار ادا کیا تھا۔

سورو داس  سی جے پی کے اہم ترجمان ہیں۔ وہ ایک تفتیشی صحافی ہیں اور قانون، عدلیہ اور سماجی مسائل پر بڑے پیمانے پر رپورٹنگ کر چکے ہیں۔

سورو داس نومبر۲۰۲۵ء میں انڈیا گیٹ پر آلودگی مخالف مظاہرے میں بھی شامل تھے۔۲۰۱۶ءسے۲۰۱۹ء کے درمیان انہوں نے’بی اے ان جرنلزم اور ماس کمیونی کیشن‘ میں اپنی گریجویشن کی تعلیم مکمل کی ہے۔

اس تنظیم کے تیسرے اہم رکن یعنی ترجمان، اشوتوش رانکا، انجینئر نگ اور عوامی پالیسی کے پس منظر سے آتے ہیں۔ انہیں مشاورت اور مفاد عامہ کی مہم کا تجربہ ہے۔ انہوں نے  ’آئی آئی ٹی‘ کانپور سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کی ہے۔اس کے بعد انہوں نے برطانیہ کے لندن اسکول آف اکنامکس سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کیا۔ اشوتوش رانکا نے لندن میں میک کینسی اینڈ کمپنی کے ساتھ بھی کام کیا ہے، جہاں انہوں نے مشاورت اور عالمی پالیسی منصوبوں میں تجربہ حاصل کیا۔

یہ بھی پڑھئے: اسکولوں کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کیلئے اچھی پہل

بیباکی سے اپنی بات رکھنے والی طالبہ دانش علی

گزشتہ دنوں راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی تھی جہاں جنتر منتر پراحتجاج کرنے والی تین طالبات بھی تھیں۔ ان میں سے ایک نیہا بورا، دوسری انجلی اور تیسری طالبہ دانش علی تھیں۔ جنترمنتر کے احتجاج میں نیہا کے ساتھ ہی دانش بھی کافی سرگرم رہیں  اوراس تحریک کی وجہ سے قومی سیاسی منظرنامے پر مزید توجہ کا مرکز بن کر ابھریں۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ دانش علی کون ہیں؟ یہ جواہر لال یونیورسٹی (جے این یو) میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ، طلبہ یونین کی جوائنٹ سیکریٹری اور ’اے آئی ایس اے‘ یعنی ’آئیسا‘ کی سرگرم کارکن ہیں۔ گزشتہ سال ہونے والے طلبہ یونین کے انتخاب میں انہیں اے بی وی پی کے مقابلے ۲۲۹؍ ووٹ زیادہ ملے تھے۔دانش علی جے این یو میں ’سینٹر فار ہسٹوریکل اسٹڈیز‘ سے تحقیق کر رہی ہیں۔ ان کا تعلق ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع نرسنگھ پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے ۔تعلیم کے ساتھ ہی دانش علی نے کھیلوں میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وہ تھرو بال اور کرکٹ میں ریاستی سطح کی کھلاڑی رہ چکی ہیں۔ ان کے والد ایک سرکاری اسکول کے ریٹائرڈ ٹیچر ہیں جبکہ والدہ ایک سرکاری اسکول میں پرنسپل کے عہدے پر فائز ہیں۔دانش علی نے ایس جی ٹی بی خالصہ کالج سے تاریخ میں گریجویشن کیا، جس کے بعد انہوں نے۲۴۔۲۰۲۲ءکے بیچ میں  جے این یو میں تاریخ میں ماسٹرز میں داخلہ لیا۔ اب وہ وہیںسے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔

جنتر منتر کے مظاہرے کو کامیاب بنانے کیلئے انہوں نےبھی دن رات ایک کیا ہے۔ وہاں مظاہرین کو کھانا کھلانے والے محمد جنید کے یہاں کارروائی ہوئی تو سب سے پہلے اس کی جانکاری دانش علی ہی نے فراہم کی تھی۔ وہ تاریخی بیانئے (Historical Narratives) پر تحقیق کر رہی ہیں، تاہم تعلیم کے ساتھ  ہی وہ طلبہ سیاست میں بھی بھرپور سرگرم ہیں۔ جے این یو جیسے تعلیمی ادارے میں، جہاں آزادیٔ اظہار اور فکری مباحثے کی مضبوط روایت موجود ہے، ان کا تعلیمی پس منظر انہیں ایک مضبوط شناخت عطا کرتا ہے۔ دانش علی کا خیال ہے کہ تاریخ صرف کتابوں کے صفحات تک محدود نہیںبلکہ آج کی جدوجہد اور سماجی تحریکوں میں بھی اس کی جھلک نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چراگاہوں میں صرف بکریاں نہیں چرتی تھیں، یہ نسل نو کیلئے درسگاہ بھی ہوتی تھی

جنترمنتر کی ایک اہم دریافت  ہیں محمد عرفان

دہلی کی  ایک کالونی میں رہنے والے۳۵؍ سالہ پھیری والے محمد عرفان اس وقت سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز ہیں۔ وہ کبھی کبھار اپنے والد کے ساتھ برف بیچنے کا کام بھی کرتے ہیں۔ ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہے، نہ ہی وہ کسی طلبہ تنظیم کے رکن ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ محمد عرفان کبھی اسکول گئے ہی نہیں لیکن گوگل اور یوٹیوب کے ذریعے انہوں نے آئین، جمہوریت اور کارکنوں کے حقوق کے بارے میں جانکاری حاصل کی اور اب اس پر کھل کو بولتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ جنتر منتر پر اُن کی تقریر نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔ ان کی تقریر کے منظر عام پر آنے کے بعد راہل گاندھی بھی خود کو روک نہیں سکے اور ملاقات کیلئے ان کے گھر چلے گئے اور انہیں پارلیمنٹ  میں آنے کیلئے بھی مدعو کیا۔ سوشل میڈیا جو آج کل نوجوانوں کی آواز پہنچانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے،  پر لوگ یہ بھی کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ جنتر منتر کا حاصل ابھیجیت دپکے نہیں، محمد عرفان ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک بڑے ہندی نیوز چینل نے ان کا انٹرویو کیا تھا۔ انٹرویو لینے والے ان کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب وہ بول رہا تھا تو سچ مچ میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔ لوگ اکثر نظریاتی باتیں کرتے ہیں لیکن عرفان کی باتوں میں کوئی تصنع نہیں تھا۔ اس نے وہی کچھ کہا جو وہ خود جی رہاتھا۔ اسلئےوہ کبھی رکا نہیں، اٹکا نہیں۔ یہ میرے کریئر کا بہترین انٹرویو تھا۔‘‘ بات صرف اس ایک صحافی کی نہیںبلکہ  سوشل میڈیا پر اس انٹرویو کو دیکھنے والے لاکھوں افراد بھی متاثر ہوئے۔عرفان پڑھے لکھے نہیں ہیں لیکن جاہل بھی نہیں ہیں۔یہ ان کے باشعور ہونے کی دلیل ہے کہ وہ کسی بھی معلومات پر فوراًکوئی رائے  قائم نہیں کرتے بلکہ مختلف ذرائع سے اس کی تصدیق کرتے ہیں، پھرکسی نتیجے پر پہنچتے ہیں۔اب جبکہ لوگ انہیں جاننے لگے ہیں، اپنی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مشہور ہونے کیلئے جنتر منتر نہیں گئے تھے۔ ان کے مطابق ملک میں کوئی بھی مزدوروں اور غیر منظم شعبے میں کام کرنے والوں کی پروا نہیں کرتاکیونکہ مزدور سڑکوں پر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور روز کنواں کھودتے ہیں اور پانی پیتے ہیں، اگر وہ ایک دن بھی کام پر نہیں  گئے تواُس دن اپنا گزارہ کیسے کریں گے؟

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے بیشتر اخبارات نے تعلیمی بدعنوانی، پیپر لیک اور طلبہ کے احتجاج پر لکھا

محمد جنید نے اپنے کام سے ملک کا دل جیت لیا

غازی آباد کے محمد جنید ملک، جو جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران ان کی خدمت کرنے کے بعد سرخیوں میں آئے تھے، اِس وقت پولیس کی کارروائیوں کے حوالے سے خبروں میں ہیں۔طلبہ کی خدمت کو ان کا جرم ٹھہرایا جارہا ہے لیکن وہ بھی بلند حوصلے والے انسان ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کے اسی عمل  نے انہیں ملک بھر کا چہیتا بنا دیا ہے۔ ایک طبقہ بھلے ہی ان پر اعتراض کرے لیکن ملک کا بڑا طبقہ انہیں ہیرو مانتا ہے۔

محمدجنید نے بتایا کہ وہ پیشے سے وکیل ہیں اور جوڈیشیل سروس ایگزامینیشن کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس احتجاج کے دوران اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے انہوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں جو فی الحال بہت سارے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔پولیس کارروائیوں کے بعد جب لوگوں نے ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ۶؍ جون کو پہلی مرتبہ سی جے پی کے احتجاج میں شامل ہونے کیلئے جنتر منتر آئے تھے۔ اس کے بعد۲۰؍ جون کو احتجاج ہوا اور اسی دن جنید کا سرکاری ملازمت کا امتحان تھا۔جنید۲۰؍ جون کو امتحان دینے کے بعد جنتر منتر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہمظاہرین طلبہ کے پاس شدید گرمی میں پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولتوں کا بھی فقدان ہے۔ اسی دن انہوں نے پانی کا اسٹال لگانے کا فیصلہ کیا۔

محمد جنید کے مطابق ان کی شروعات صرف پانی سے ہوئی تھی۔ بعد ازاں اسنیکس، چائے اور کھانے کا انتظام بھی کیا گیا۔ شروع میں چند دوستوں نے خرچ میں حصہ داری کی لیکن آہستہ آہستہ لوگ اپنے طور پر آگے آنے لگے۔اس طرح   بہت سے لوگ رضاکارانہ طور پر پانی، کھانا اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کرنے لگی۔اس کے بعد انہوں نے اپنا چرخ خود ہی سنبھالا۔ انہوں  نے بتایا کہ۲۰؍ جون کو احتجاج شروع ہونے کے بعد سے وہ گھر نہیں گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل احتجاج کے مقام پر رہ کر طلبہ کی مدد کر رہے ہیں۔ پولیس کی کارروائی کے الزامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی پیاسے کو پانی دینا اور بھوکے کو کھانا کھلانا جرم سمجھا جاتا ہے تو وہ بار بار یہ’ جرم‘ کریں  گے۔ الزامات لگنے کے بعد گزشتہ دنوں ان سے اکھلیش یادو نے بھی ملاقات کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK