دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل ،امیدوار نے این ٹی اے کے امتحانی نتائج میں سنگین بے ضابطگی کا الزام عائد کیا۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 9:25 AM IST | New Delhi
دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل ،امیدوار نے این ٹی اے کے امتحانی نتائج میں سنگین بے ضابطگی کا الزام عائد کیا۔
نئی دہلی(ایجنسی): نیٹ یوجی ایک امیدوار نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (ین ٹی اے)کے امتحانی نتائج کے نظام میں سنگین بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ امیدوار کا دعویٰ ہے کہ این ٹی اےکے رزلٹ پورٹل پر اس کے نمبر صرف ۲۴؍ گھنٹے کے اندر تین مرتبہ تبدیل ہوئے۔درخواست میں طالب علم نے الزام لگایا ہے کہ اس کے نیٹ اسکور کو پہلے ۶۵۰؍سے کم کرکے ۵۰۰؍ کیا گیا اور پھر اگلے ہی مرحلے میں اسے مزید گھٹا کر ۱۳۵؍کردیا گیا۔ امیدوار نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے اصل ’’او ایم آر‘‘ جوابی پرچے کو محفوظ رکھا جائے اور عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ اس کی جانچ ہوسکے۔
یہ بھی پڑھئے: اراکین پارلیمان کا رام مندر چندہ چوری معاملے کو تمثیلی انداز میں پیش کرکے احتجاج
درخواست گزار کی جانب سے وکیل ونیت جندال نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہوئے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ امیدوار کے امتحان سے متعلق تمام ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کرنے کی این ٹی اے کو ہدایت دی جائے۔ درخواست کے مطابق طالب علم نے ۲۱؍ جون کو نیٹ یوجی کا دوبارہ امتحان دیا تھا۔ عارضی اور حتمی’’آنسر کی ‘‘ کا موازنہ کرنے کے بعد امیدوار نے اندازہ لگایا تھا کہ اس کے تقریباً ۶۲۰؍ نمبر آئیں گے تاہم جب ۱۶؍ جولائی کو نتائج جاری کئے گئے تو اس نے این ٹی اےکے پورٹل پر ابتدائی طور پر اپنے نمبر ۶۵۰؍ دیکھے لیکن امیدوار کے مطابق جب اس نے پورٹل سے لاگ آؤٹ کرکے دوبارہ لاگ اِن کیا تو اس کے نمبر تبدیل ہوکر ۵۰۰؍ ہوگئے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اگلے ہی دن اسکور میں ایک بار پھر تبدیلی ہوئی اور نمبر گھٹ کر محض ۱۳۵؍ رہ گئے۔امیدوار نے ایک اور سنگین الزام عائد کیا کہ این ٹی اےکی ویب سائٹ پر اس کی جو او ایم آر شیٹ دکھائی جارہی ہے، وہ وہ شیٹ نہیں ہے جسے اس نے امتحان کے دوران بھرا تھا۔ اسی بنیاد پر اس نے اپنی اصل فزیکل او ایم آرشیٹ کو عدالت میں پیش کرنے کی درخواست کی ہے۔یہ عرضی فی الحال عدالت میں پیش کی گئی ہے۔ اس پر سماعت کا فیصلہ عدالت بعد میں کرے گی۔