Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانگریس وندے ماترم پردو دوہاتھ کیلئے تیار

Updated: August 21, 2026, 12:49 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi

دفاع کے بجائے جارحانہ تیور اپنائے، پون کھیڑا نے سوال کیا کہ ’’ہم امیت شاہ کی سنیں یا گاندھی ، امبیڈکر، مولاناآزاد اور پٹیل کی مانیں؟‘‘

Congress MP and spokesperson Pawan Khera spearheaded the Congress party`s aggressive stance on Vande Mataram. Picture: INN
کانگریس کے رکن پارلیمان اور ترجمان پون کھیڑا نے وندے ماترم پر کانگریس کے جارحانہ رخ کی قیادت کی۔ تصویر: آئی این این

ملک پر راشٹر گیت کے طورپر پورا وندے  ماترم تھوپے جانے کے خلاف کانگریس نے حکمراں محاذ سے دو دوہاتھ کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔ بدھ کو  پارٹی کی ورکنگ کمیٹی  میں  اس فیصلے کے بعد کہ وہ  اپنی تقریبات میں  پہلے دو بند ہی گائے گی، جمعرات کو امیت شاہ نے  ۱۹۳۷ء کی کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اس قرارداد کو ’’منہ بھرائی کی سیاست‘‘کا نتیجہ کہاجس کو مہاتما گاندھی، ڈاکٹر امبیڈکر، مولانا آزاد، سردارپٹیل  اور رابندر ناتھ ٹیگور  جیسے صف اول کے مجاہدین آزادی کی تائید حاصل تھی۔ اس کے بعد کانگریس   نے  دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کے بجائےجارحانہ تیوروں کا مظاہرہ کرتے ہوئے بی جےپی کو آڑے ہاتھوں لیا اور یاد دہانی کرائی کہ جب کانگریس  وندے ماترم کے ۲؍ بند پڑھنے کافیصلہ کررہی تھی اس وقت ہندو مہاسبھا  مسلم لیگ کے ساتھ مل کر حکومتیں بنارہی تھی اور آر ایس ایس کے نظریہ ساز ’’بھارت چھوڑو‘‘ تحریک کی مخالفت کررہے تھے، نیز سبھاش چندر بوس کی فوج سے لڑنے کیلئے برطانوی فوج میں  نوجوانوں کی بھرتیاں کروارہے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: بھاگوت کے دورے سے قبل USCIRF کا آر ایس ایس لیڈروں پر پابندی کا مطالبہ

امیت شاہ پر آئین ساز اسمبلی کی توہین کا الزام 

پون کھیڑا نے امیت شاہ کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ہم تو اس آدمی کی بے شرمی کو دیکھ کر حیران ہیں۔ یہ پہلے اپنا موازنہ سردار پٹیل سے کرواتا تھااب سردار پٹیل کی مذمت کررہے ہیں۔‘‘  انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ’’۱۹۳۷ء میں  جو  قرارداد منظور ہوئی اس کو سردار پٹیل، مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو، سی راجا گوپالا چاری، نیتا جی سبھاش چندر بوس اورمولانا ابولکلام آزاد نے گرودیو رابندر ناتھ ٹیگو ر کی صلاح  پر پاس کیا تھا۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ ’’کیا امیت شاہ ان سب  سے بھی   بڑے ہوگئے؟‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ ’’کیا یہ ملک کی آئین ساز اسمبلی  سے بھی بڑے ہوگئے جس نے  ۲؍ بند کو منظوری دی تھی؟‘‘ کانگریس ترجمان  نے سوال کیا کہ ’’ہم گاندھی، امبیڈکر،مولانا آزاد اور پٹیل کی مانیں یا امیت شاہ کی مانیں۔‘‘ 

’ملک عوام سے بنتا ہے، ہندوستان کے عوام صرف ہندو نہیں‘

اس سوال پر کہ بی جےپی اسے ’’ہندو نیشنلزم ‘‘ کا موضوع بنا کر جارحانہ رخ اختیار کرسکتی ہے، کانگریس کے ترجمان اور رکن پارلیمان  پون کھیڑا نے کہا کہ’’وندے ماترم  یا جن گن من کیا ہے، یہ ملک کو سلام اور اس کیلئے احترام کا اظہار  ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک کیا ہے؟ ’ڈسکوری آف انڈیا‘    میں پنڈت نہرو کے مشہور الفاظ میں ،  پہاڑ، ندیوں اور سمندر سے مل کرملک نہیں  بنتا، ملک ہندوستان  کے عوام سے بنتا ہے، ہندوستان کے عوام کون ہیں؟‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: کانگو میں ایبولا کے مریضوں کی تعداد ۵؍ہزارسے متجاوز

امیت شاہ کا مجاہدین آزادی پر’منہ بھرائی‘ کا الزام 

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نےکانگریس کو آڑے ہاتھوں  لیتے ہوئے مجاہدین آزادی  پر ہی منہ بھرائی کی سیاست کا الزام لگا دیا ۔انہوں نے کہا کہ ’’۱۹۳۷ءمیں منہ بھرائی کی سیاست کیلئے  کانگریس نے ہی ’وندے ماترم‘ کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ وہیں سے ۲؍ قومی نظریہ کو تقویت ملی اور ملک کی تقسیم ہوئی...مودی حکومت نے اس تاریخی غلطی کی اصلاح کی اور مکمل گیت کو قانونی حیثیت دی لیکن راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس ایک بار پھر اسی ووٹ بینک کیلئےخوشامد کی سیاست کے راستے پر گامزن ہے۔ ‘‘ انہوں  نے کانگریس کے فیصلے کو ملک مخالف اور پارلیمنٹ کی توہین قرار دیا۔ 

پون کھیڑا نے سوال کیا کہ ’’ کیا صرف ہندو ہندوستان کے عوام ہیں؟‘‘ انہوں نے بی جےپی کو للکارتے ہوئےکہا کہ ’’نیشنلز م کی بات نہ کریں، بھاڑ میں جائے بی جےپی کا  یہ جھوٹا نیشنلزم  ، وہ اس کی بہت بھاری قیمت چکائیں گے، ایک بار انہیں الیکشن تو ہارنے دیجئے؟‘‘ 

یہ بھی پڑھئے:’’ بطور وزیراعظم اس سال نریندر مودی کی آخری سالگرہ ہوگی‘‘

’’امیت شاہ کی ہمت کیسے ہوئی گاندھی کےخلاف بولنے کی‘‘

کانگریس ورکنگ کمیٹی کے فیصلے کو امیت شاہ کے ذریعہ ’’منہ بھرائی کی سیاست‘‘قرار دینے پر  سپریہ سرینیت نے کہا کہ ’’امیت شاہ کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ مہاتما گاندھی ،سردار پٹیل اور رابندر ناتھ ٹیگور کو ملک مخالف کہیں۔‘‘ انہوں نے راہل گاندھی کے خلاف حالیہ مقدمہ  میں خود ساورکر کے پڑپوتے   کے اعترافات کا حوالہ دیتے ہوئے امیت شاہ اور بی جےپی کو للکاراکہ ’’آپ کی تاریخ بہت سیاہ  ہے۔ ‘‘کانگریس کی ترجمان نے یاد دلایا کہ ’’جب  ملک بھارت چھوڑو تحریک کے ذریعہ انگریزوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کررہاتھا تب آپ کے اجداد میں شامل شیاما پرساد مکھرجی مسلم لیگ کے ساتھ حکومت بنارہے تھے۔‘‘ پارٹی کے سینئر لیڈر گردیپ سپال  نے بھی وہی حوالہ دیا اور کہا کہ’’مسلم لیگ کی(صوبائی) حکومت  میں جن سنگھ کے وزیر شیاما پرساد مکھرجی برٹش حکومت کو چٹھی لکھ رہے تھے کہ ان کی (مسلم لیگ  اور  جن سنگھ )حکومت بھارت چھوڑو آندولن کوکچلنے کیلئے ہر طرح سے تیار ہے۔‘‘ انہوں نے حقارت کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ ’’ یہ لوگ ہمیں سکھائیں  گے کہ ملک سے محبت کیا ہوتی ہے؟‘‘ سپال سنگھ نے یاد دہانی کرائی کہ ’’۱۸۹۶ء میں کانگریس نے ہی  طے کیاتھا کہ وندے ماترم ہمارا قومی گیت ہوگا اور تب سے کانگریس کے ہر اجلاس میں اس کے پہلے دو بند گائے جاتے ہیں۔‘‘انہوں نے  بی جےپی کو متنبہ کیا کہ ’’اگر وہ گڑے مردے اکھاڑیں گے تو ان کے سارے کالے کرتوت بھی عوام کے سامنے آئیں گے۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK