پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل سے اسلام آباد اسپتال منتقل کردیا گیا ،سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے عمران خان کو سخت سیکیورٹی کے تحت دارالحکومت اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 3:49 PM IST | Islamabad
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل سے اسلام آباد اسپتال منتقل کردیا گیا ،سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے عمران خان کو سخت سیکیورٹی کے تحت دارالحکومت اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پاکستان میں کے دارالحکومت اسلام آباد میں شفا انٹرنیشنل اسپتال کے قریب سیکڑوں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے، جن میں سے کچھ کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں، اور اسپتال کی طرف جانے والی سڑکوں کو بند کر دیا گیا۔عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے صحافیوں کو بھیجے گئے ایک تحریری پیغام میں کہا کہ’’ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔‘‘ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ جیل میں ان کی صحت بگڑ گئی ہے اور ان کی دائیں آنکھ کی بینائی بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے۔جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ طبی رپورٹ میں ایسی کوئی حالت سامنے نہیں آئی جس میں فوری علاج کی ضرورت ہو۔
یہ بھی پڑھئے: عائشہ وہاب پہلی افغان نژاد امریکی کانگریس رکن بنیں، AIPAC حامی حریف کو شکست
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے منگل کو ہدایت دی تھی کہ۷۳؍ سالہ خان کو جو اگست۲۰۲۳ء سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اور انہیں متعدد طبی مسائل درپیش ہیں، انہیں شہر کی جیل سے دارالحکومت اسلام آباد کے نجی اسپتال منتقل کیا جائے، جبکہ ان کی پارٹی اور خاندان کے افراد کئی دنوں سے یہ مانگ کررہےتھے۔ بعد ازاں خان کے قریبی ساتھی نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اگر وہ رہا ہوئے تو وہ فوج یا آرمی چیف عاصم منیر سے متصادم نہیں ہوں گے۔حالانکہ یہ تبصرے ان کی جماعت کی سابقہ بیان بازی سے یکسر مختلف ہیں۔
بدھ کو ایک انٹرویو میں، عمران خان کے معاون اور پی ٹی آئی کے ترجمان ذوالفقار بھٹی نے اشارہ دیا کہ ان کی جماعت فوج کے ساتھ مفاہمت کرنے کو تیار ہے، جس سے ممکنہ طور پر پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کے سب سے کشیدہ تصادم میں سے ایک میں نرمی آ سکتی ہے۔بھٹی نے کہا، "اگر کل بالفرض عمران خان رہا کر دیے جائیں، تو وہ کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جو مؤثر طریقے سے ملک کو نقصان پہنچائے،’’ انہوں نے خان کو ’’عظیم القلب‘‘ قرار دیا۔انہوں نے اسٹیبلشمنٹ یا فوجی لیڈروں سے ٹکراؤ کا انکار کیا۔انہوں نے کہا، ’’ آپ اپنی تکلیف پر قابو پائیں، اپنے درد کو روکیں، اور ملک کی بہتری کے لیے اسے نگل لیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: بی این پی لیڈر مرزا فخرالاسلام عالمگیر نئے صدر منتخب
ذہن نشین رہے کہ اس سال کے اوائل میں، خان کا ایک اسپتال میں آنکھ کا علاج ہوا تھا، جہاں ان کے خاندان نے اس وقت کہا تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی زیادہ تر بینائی جاتی رہی ہے۔تین رکنی اعلیٰ عدالت نے حکم دیا ہے کہ خان کو ہفتے میں ایک بار اپنے خاندان سے ملنے اور ہفتے میں دو بار اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت ہوگی۔عدالت نے مزید کہا کہ ان کے علاج کے لیے ماہرین کا ایک پینل تشکیل دیا جائے گا، جس میں ان کی بہن، ڈاکٹر عظمیٰ خان کو شرکت کی اجازت ہوگی۔یاد رہے کہ عمران خان نے۲۰۱۸ء سے۲۰۲۲ء تک وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دیں، جس کے بعد انہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے معزول کردیا گیا۔