ممبئی کی عدالت نے معروف یوٹیوبر کیری میناٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ فلمساز کرن جوہر کے خلاف کوئی بھی قابلِ اعتراض یا توہین آمیز مواد شائع نہ کریں۔ حکم کے بعد سوشل میڈیا پر آزادیِ اظہار اور ذمہ داری کے توازن پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
EPAPER
Updated: February 11, 2026, 4:14 PM IST | Mumbai
ممبئی کی عدالت نے معروف یوٹیوبر کیری میناٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ فلمساز کرن جوہر کے خلاف کوئی بھی قابلِ اعتراض یا توہین آمیز مواد شائع نہ کریں۔ حکم کے بعد سوشل میڈیا پر آزادیِ اظہار اور ذمہ داری کے توازن پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
بالی ووڈ فلمساز کرن جوہر اور یوٹیوب کے معروف کانٹینٹ کریئیٹر کیری میناٹی کے درمیان قانونی تنازع میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ممبئی کی عدالت نے یوٹیوبر کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کرن جوہر کے خلاف کسی بھی قسم کا قابلِ اعتراض، ہتک آمیز یا نامناسب مواد سوشل میڈیا پر شائع یا نشر نہ کریں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کرن جوہر کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کیری میناٹی کے بعض ویڈیوز اور آن لائن تبصرے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا کہ ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر نشر ہونے والا مواد وسیع پیمانے پر پھیلتا ہے اور اس کے اثرات طویل مدتی ہو سکتے ہیں، لہٰذا عدالت سے فوری مداخلت کی استدعا کی گئی۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد عبوری نوعیت کا حکم جاری کیا، جس کے تحت کیری میناٹی کو ہدایت دی گئی کہ وہ مزید ایسا مواد شائع نہ کریں جو درخواست گزار کے خلاف توہین آمیز سمجھا جائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ فریقین کو آئندہ سماعت میں اپنے مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: راجپال کی مدد کے لیے سلمان اور اجے دیوگن بھی آگے آئے
رپورٹس کے مطابق تنازع اس وقت سامنے آیا جب یوٹیوبر کے کچھ ویڈیوز اور آن لائن تبصروں میں بالی ووڈ شخصیات کا ذکر کیا گیا، جن میں کرن جوہر کا نام بھی شامل تھا۔ انہی مواد کو بنیاد بنا کر قانونی چارہ جوئی کی گئی۔ عدالتی حکم کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بعض صارفین نے عدالت کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر اظہارِ رائے کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے اور کسی کی ذاتی یا پیشہ ورانہ ساکھ کو متاثر کرنا مناسب نہیں۔ دوسری جانب کچھ صارفین نے اسے آزادیِ اظہار کے تناظر میں دیکھا اور مؤقف اپنایا کہ طنز و مزاح یا تنقید کو قانونی تنازع میں بدلنا تشویش کا باعث ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کمال امروہی نے ہر کام کمال عمدگی سے انجام دیا
قانونی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے معاملات میں عدالت عموماً عبوری حکم جاری کرتی ہے تاکہ ممکنہ نقصان کو روکا جا سکے، اور بعد ازاں مکمل دلائل سننے کے بعد حتمی فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ اس کیس میں بھی آئندہ سماعتوں کے دوران یہ طے ہوگا کہ آیا مواد واقعی ہتک آمیز تھا یا نہیں۔ فی الحال کیری میناٹی یا ان کی قانونی ٹیم کی جانب سے باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم یہ معاملہ ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر تخلیقی آزادی اور قانونی حدود کے درمیان توازن کے سوال کو ایک بار پھر نمایاں کر رہا ہے۔