Updated: July 13, 2026, 2:02 PM IST
|
Agency
| London
چیک جمہوریہ کی ۲۱؍ سالہ ٹینس اسٹار لنڈا نوسکووا نے گزشتہ رات اپنی ہم وطن کارولینا موچووا کو سنسنی خیز فائنل میں ۲۔۶ ، ۷۔۵،۳۔۶؍ سے شکست دے کر پہلی مرتبہ ومبلڈن خواتین سنگلز کا خطاب اپنے نام کر لیا۔
چیک جمہوریہ کی کھلاڑی لنڈا نوسکووا ومبلڈن ٹرافی کے ساتھ ۔تصویر:پی ٹی آئی
چیک جمہوریہ کی ۲۱؍ سالہ ٹینس اسٹار لنڈا نوسکووا نے گزشتہ رات اپنی ہم وطن کارولینا موچووا کو سنسنی خیز فائنل میں ۲۔۶ ، ۷۔۵،۳۔۶؍ سے شکست دے کر پہلی مرتبہ ومبلڈن خواتین سنگلز کا خطاب اپنے نام کر لیا۔
نوسکووا نے شاندار ۲؍ ہفتوں پر مشتمل مہم کے بعد گزشتہ ۱۵؍برسوں کی کم عمر ترین ومبلڈن چمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ ان کے کریئر کا پہلا گرینڈ سلیم فائنل تھا، جس میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے انہوں نے اپنے کریئر کے ۳؍ سنگلز ٹائٹلز میں سب سے باوقار خطاب جیتا۔
وہ چیک لیجنڈ پیٹرا کوویتووا کے بعد کم عمر ترین ومبلڈن چمپئن بھی بن گئی ہیں۔ کوویتووا، جنہوں نے ۲۰۱۱ءمیں اپنا پہلا ومبلڈن خطاب جیتا تھا، رائل باکس میں موجود رہ کر نوسکووا کی تاریخی فتح کی گواہ بنیں۔ نوسکووا اور کوویتووا اب وہ ۲؍ چیک کھلاڑیاں ہیں جنہوں نے اپنے پہلے ہی گرینڈ سلیم فائنل میں ومبلڈن کا خطاب جیتا۔ موچووا نے زبردست مزاحمت کرتے ہوئے مجموعی طور پر ۵؍ چمپئن شپ پوائنٹس بچائے، جو کسی بھی گرینڈ سلیم فائنل میں سب سے زیادہ ہیں، تاہم وہ بالآخر کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔
سینٹر کورٹ پر دھوپ اور خوشگوار موسم کے درمیان گزشتہ ۱۰؍ برسوں میں دسویں مختلف ومبلڈن چمپئن کا تاج سجا۔ یہ بھی طے تھا کہ اس بار خواتین کا خطاب چیک جمہوریہ چیک ہی کے حصے میں آئے گاکیونکہ فائنل دونوں چیک کھلاڑیوں کے درمیان کھیلا گیا۔
ومبلڈن کے اوپن ایرا میں یہ صرف دوسرا موقع تھا جب امریکہ کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی ۲؍ خاتون کھلاڑیوں نے سنگلز فائنل کھیلا۔ اس سے قبل ۱۹۷۱ءمیں آسٹریلیا کی ایوون گولاگونگ اور مارگریٹ کورٹ آمنے سامنے آئی تھیں جبکہ ۲۰۰۹ءمیں امریکہ کی سیرینا ولیمز اور وینس ولیمز کے درمیان فائنل ہوا تھا۔
نوسکووا اب جمہوریہ چیک کی پانچویں گرینڈ سلیم چمپئن اور گزشتہ ۴؍ برسوں میں ومبلڈن جیتنے والی تیسری چیک کھلاڑی بن گئی ہیں۔