تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں گزشتہ رات ایک بار میں آگ لگنے سے کم از کم ۲۷؍ افراد ہلاک ہوگئے اور آٹھ لوگ سنگین طور پر زخمی ہو گئے۔ ملک کے وزیر اعظم انوتن چرن ویراکول نے یہ معلومات دیں۔
EPAPER
Updated: July 13, 2026, 10:34 AM IST | Bangkok
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں گزشتہ رات ایک بار میں آگ لگنے سے کم از کم ۲۷؍ افراد ہلاک ہوگئے اور آٹھ لوگ سنگین طور پر زخمی ہو گئے۔ ملک کے وزیر اعظم انوتن چرن ویراکول نے یہ معلومات دیں۔
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں گزشتہ رات ایک بار میں آگ لگنے سے کم از کم ۲۷؍ افراد ہلاک ہوگئے اور آٹھ لوگ سنگین طور پر زخمی ہو گئے۔ ملک کے وزیر اعظم انوتن چرن ویراکول نے یہ معلومات دیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق آدھی رات کے ٹھیک بعد فائر بریگیڈ کو موقع پر بلایا گیا۔ انہوں نے دیکھا کہ لوگ آگ کے شعلوں سے گھرے ہوئے بار کے مرکزی دروازے سے باہر بھاگ رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:مالیگاؤں ـ: بیشتر ’بی ایل اوز‘ غائب ،رائے دہندگان سخت پریشان
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آگ ڈرنکس اور لائیو میوزک کے لیے مشہور اس جگہ پر اسٹیج کے پاس لگی اور تیزی سے پھیل گئی، جس سے بجلی چلی گئی اور کمرہ دھوئیں سے بھر گیا۔ ایکس پر پوسٹ کئے گئے ویڈیو میں بار سے آگ کے شعلے نکلتے نظرآ رہے ہیں اور لوگ باہر بھاگ رہے ہیں، کچھ لوگ چیخ رہے ہیں تو کچھ گر رہے ہیں۔ وزیر اعظم انوتن چرن ویراکول نے کہا کہ آگ لگنے کی سرکاری وجہ کا ابھی پتا لگایا جا رہا ہے۔
ایک ویڈیو سے لی گئی تصویر میں بار سے آگ کا گولا نکلتا دکھ رہا ہے۔ اس فوٹیج میں مرکزی دروازے سے آگ کے شعلے نکلتے دکھ رہے ہیں اور لوگ جان بچانے کے لیے آگ کے بیچ سے بھاگ رہے ہیں۔ فائر فائٹرز آدھی رات کے ٹھیک بعد موقع پر پہنچے۔
بتایا جاتا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے ۱۱؍ بجے کے آس پاس وہاں سے گزر رہے ایک ڈرائیور نے بار میں آگ لگی دیکھی تھی۔ اس نے مقامی نیوز آؤٹ لیٹ ڈیلی نیوز کو بتایا کہ وہ اپنی کار سے باہر نکلا اور دو لوگوں کو بچانے کے لیے کھڑکیاں توڑیں۔ وزیر اعظم انوتن نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے ایک موسیقار سے بات کی، جو آگ لگنے کے وقت اپنی پیشکش دے رہا تھا، اس نے بتایا کہ کیا ہوا تھا۔‘‘انہوں نے بتایا کہ کٹ آؤٹ سوئچ میں آگ لگی تھی اور اس کے بعد سب کچھ بہت تیزی سے ہوا۔ دھماکے ہوئے اور ہر کوئی دھوئیں اور آگ کے شعلوں سے بچنے کے لیے بھاگنے کی کوشش کرنے لگا۔ ان میں سے کئی لوگ باہر نہیں نکل پائے کیونکہ وہ بلڈنگ کے پچھلے حصے میں چلے گئے تھے اور دھوئیں اور آگ سے بچنے کے لیے ٹوائلٹ میں چھپنے کی کوشش کر رہے تھے اور وہیں ہمیں زیادہ تر لاشیں ملیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئےٖ:عامر خان، کبیر خان اور آسٹریلوی پروڈیوسرز کا ’’سلکیارا۴۱‘‘ بنانے کا اعلان
خبروں کے مطابق فائر فائٹرز تقریباً آدھے گھنٹے میں آگ پر قابو پانے میں کامیاب رہے، لیکن اس کے باوجود - نو مرد اور ۱۸؍ خواتین کی موت ہو گئی اور ۶۰؍ سے زیادہ لوگوں کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے، جن میں سے آٹھ سنگین طور پر زخمی ہیں۔ بینکاک کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر سوریا چائی رویوان نے کہا کہ ابتدائی جانچ سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ تر متاثرین کی موت دھواں اندر جانے (دم گھٹنے) سے ہوئی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اس کی تصدیق کے لیے مزید جانچ کی ضرورت ہے۔