Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’عزیز دوست‘‘ امریکہ کا ہندوستان کے ایک اور جہاز پر حملہ

Updated: June 12, 2026, 9:24 AM IST | New Delhi

۳؍ ملاح ہلاک، مرکزی حکومت سخت برہم، احتجاج درج کرایا، معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا۔

The United States has blockaded the Gulf of Oman. (Photo: PTI)
خلیج عمان میں امریکہ نے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔(تصویر: پی ٹی آئی)

مغربی ایشیائی خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان ہندوستان کے ’’عزیز دوست‘‘ امریکہ نے تین دنوں میں تین ہندوستانی تجارتی جہازوں پر حملے کئےہیں جس میں تین ہندوستانی ملاح ہلاک ہو گئے جبکہ دیگرعملے کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی حملوں پر ہندوستان نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کے سامنے سخت احتجاج درج کرایا ہے اور تجارتی جہازوں پر حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مغربی ایشیا میں ہندوستانی جہازوں پر یہ تیسرا حملہ ہےجس کے بعد خطے میں تجارتی بحری جہازوں کی سلامتی کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ 
 عمان میں ہندوستانی سفارت خانے نے تازہ ترین واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ شناص بندرگاہ کے قریب ایک جہاز کو پیش آنے والے واقعے پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور مقامی حکام کے ساتھ رابطہ برقرار ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق۸؍ جون کو ایم ٹی میریویکس،۹؍ جون کو ایم ٹی سیٹیبیلو اور۱۱؍ جون کو ایم ٹی’’ جل ویر‘‘ امریکی میزائل حملوں کی زد میں آئے۔ ان تینوں جہازوں پر بڑی تعداد میں ہندوستانی ملاح خدمات انجام دے رہے تھے۔وزارت خارجہ کے مطابق ایم ٹی سیٹیبیلو پر ہونے والے حملے میں ڈیک کیڈٹ آدتیہ شرما، انجن فٹر شیوانند چورسیا اور چیف انجینئر پٹنالا سریش ہلاک ہوگئے۔دوسری جانب دیگر جہازوں پر موجود درجنوں ہندوستانی ملاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور بعض مقامات پر بچاؤ کارروائیاں جاری ہیں۔
 ہندوستانی وزارت خارجہ نے گزشتہ روز ہی نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے قائم مقام سفیر جیسن میکس کو طلب کرکے باضابطہ احتجاج درج کرایا تھا اور تازہ معاملےکی تصدیق ہونے کے بعد دوبارہ ان سے رابطہ کرکے اپنا احتجاج درج کروایا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان اپنے بحری عملے کی سلامتی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ اسے یہ حملہ ناقابل قبول ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے امریکی حکام سے واضح طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ایسے حملے فوری طور پر بند کئےجائیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے مذاکرات اور سفارتکاری کا راستہ اختیار کیا جائے۔وزارت خارجہ کے مطابق ہندوستان نےتجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا ہے۔ ہندوستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں خاموش نہ رہے۔

ہندوستان نے  بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ اور جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے ایڈیشنل سیکریٹری مکیش منگل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ عمان کی رائل نیوی کی مدد سے جہازوں کے عملے کو محفوظ نکالنے کا کام تیزی سے انجام دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ، ہندوستانی بحریہ اور دیگر متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور تمام ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔رندھیر جیسوال نے کہا کہ مسلسل سمندری حملے انتہائی تشویشناک ہیں اور یہ خطے میں جاری تنازع کا براہ راست نتیجہ ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ جہازوں پر حملے بند ہونے چاہئیں  اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے فوری طور پر مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ رندھیر جیسوال کے مطابق ہندوستان بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کا حامی ہے اور چاہتا ہے کہ مغربی ایشیا میں جلد از جلد امن و استحکام بحال ہو۔  واضح رہے کہ  آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تجارت، تیل کی سپلائی اور جہاز رانی کے شعبے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔دریں اثناء ہندوستانی حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں موجود ہندوستانی ملاحوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ ممالک اور اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔حکومت ہند نے حملوں میں ہلاک ہونے والے تینوں ملاحوں کے اہل خانہ کے لئے دس، دس لاکھ روپے مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK