مناسب معاوضے کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: July 29, 2026, 11:28 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
مناسب معاوضے کا مطالبہ کیا۔
ویرار-علی باغ کوریڈور پروجیکٹ سے متاثرہ کسانوں کو مناسب معاوضہ دلانے کے مطالبے پر منگل کو مانکولی ناکہ سے تھانے کلکٹر آفس تک بڑا پیدل مارچ منعقد کیا گیا جس کی قیادت رکن پارلیمنٹ سریش مہاترے (بالیا ماما) نے کی جبکہ بھیونڈی کے۱۴؍دیہاتوں کے متاثرہ کسانوں، خواتین اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سریش مہاترے نے الزام لگایا کہ مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن ( ایم ایس آر ڈی سی) کے بعض افسران کسانوں کو مناسب معاوضہ دینے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ویرار-علی باغ کوریڈور کیلئے حاصل کی جانے والی زمین کا معاوضہ اسی علاقے میں بلٹ ٹرین منصوبے سے متاثرہ کسانوں کو ملنے والے معاوضے سے کم رکھا گیا ہے جو کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مخالفت کے باوجوداندھیری کے سیون ہلز اسپتال کی نجکاری منظور
شدید بارش کے باوجود احتجاجی مارچ جاری رہا اور مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ زمینوں کا منصفانہ معاوضہ فوری طور پر ادا کیا جائے۔ تھانے کلکٹر آفس کے سامنے منعقدہ جلسے سے سینئر لیڈرآر سی پاٹل، شیو سینا (یوبی ٹی) کے لیڈروشواس تھلے اور رکن پارلیمنٹ سریش مہاترے نے خطاب کیا۔سریش مہاترے نے کہا کہ اس مسئلے پر ریاستی وزیر محصولات چندرشیکھر باونکُلے سے ملاقات کے دوران مثبت یقین دہانی ملی تھی۔ تاہم اعلیٰ افسران کی منفی رویے کے باعث کسانوں کو انصاف نہیں مل رہاہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ احتجاج محض شروعات ہے، اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اس سے بھی زیادہ سخت تحریک چلائی جائے گی۔ بعد ازاں سریش مہاترے کی قیادت میں ایک وفد نے ضلع کلکٹر ڈاکٹر شری کرشن پنچال سے ملاقات کرکے میمورنڈم پیش کیا۔ کلکٹر نے وفد کو یقین دلایا کہ کسانوں کے مطالبات سے متعلق حکومت کو مثبت رپورٹ بھیجی جائے گی اور زیادہ سے زیادہ معاوضہ دلانے کیلئے موثر پیروی کی جائے گی۔