مالشیج گھاٹ سے آمدورفت بند،ضروری اشیاء کی ترسیل متاثر۔
EPAPER
Updated: July 29, 2026, 11:34 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
مالشیج گھاٹ سے آمدورفت بند،ضروری اشیاء کی ترسیل متاثر۔
موسلادھار بارش کے باعث مالشیج گھاٹ میں قومی شاہراہ نمبر ۶۱؍ کا ایک بڑا حصہ خطرناک حد تک دھنس جانے کے بعد احمد نگر، پونےاور ممبئی کے درمیان مالشیج گھاٹ سے ہونے والی ہر قسم کی آمدورفت مسلسل چوتھے روز بھی بند رہی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سڑک کی حالت انتہائی نازک ہے اور مزید دھنسنے کے امکانات کے سبب کسی بھی بڑے حادثے سے بچنے کے لئے شاہراہ کو غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس دوران تمام گاڑیوں کو متبادل راستوں سے روانہ کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب احمد نگر ضلع کے مختلف علاقوں سے ہونے والے دودھ اور سبزیوں کی سپلائی پر بھی خاصہ اثر پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سائن بریج کی ایک جانب کا کام اب بھی نامکمل
پونے ضلع کلکٹر و ضلع مجسٹریٹ جتیندر ہوڈی کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق احمد نگر اور پونے سے تھانے اور ممبئی جانے والی تمام گاڑیوں کو مالشیج گھاٹ کے بجائے آلے پھاٹا، نارائن گاؤں، کھیڈ، چاکن، لوناؤلہ اور کھوپولی کے راستے بھیجا جا رہا ہے۔ بعد ازاں تھانے ضلع انتظامیہ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو مہسا، کرجت، کھوپولی اور لوناولہ کے متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت دی۔تحصیلدار مرباڑ ابھیجیت دیشمکھ نے بتایا کہ دھانیولی پل سے ساورنے گاؤں تک تقریباً ۱۱؍ مقامات پر سڑک بیٹھ چکی ہے۔ابتدا میں یہاں صرف یکطرفہ ٹریفک جاری تھی مگر مالشیج گھاٹ کے قریب پونے ضلع کی حدود میں حال ہی میں تعمیر کی گئی سیمنٹ کنکریٹ سڑک کا تقریباً۱۰۰؍ میٹر حصہ خطرناک انداز میں دھنسنے لگا ہے جس سے مزید لینڈ سلائیڈنگ اور سنگین حادثات کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ویرار علی باغ کوریڈور سے متاثرہ کسانوں کا تھانے تک پیدل مارچ
انہوں نے بتایا کہ قومی شاہراہ محکمہ کو متبادل راستوں پر ٹریفک منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں جبکہ مالشیج گھاٹ کے اطراف ساورنے اور موروشی گاؤں کے درمیان صرف مقامی گاڑیوں کی محدود آمدورفت کی اجازت دی گئی ہے۔ دوسری جانب مالشیج گھاٹ بند ہونے سے دودھ اور سبزی کی سپلائی کرنے والی گاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہیں۔عیاں رہے کہ مالشیج گھاٹ، احمد نگر، پونے ممبئی اور تھانے جیسے شہروں کو جوڑنے والا ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔ روزانہ اس راستے سے بڑی مقدار میں ضروری سامان کی نقل و حمل ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ایس ٹی بسوں اور نجی گاڑیوں کے ذریعہ مسافروں کی آمد و رفت بھی بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔ تاہم یہ راستہ بند ہونے کی وجہ سے پورے ٹریفک نظام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔