• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہدایتکار پریہ درشن نے کامیڈی فلمیں بنانے سے بیزاری کا اظہار کردیا

Updated: September 03, 2026, 4:02 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ کی مقبول ترین کامیڈی فلموں میں شمار ہونے والی ’’ہیرا پھیری‘‘ نے ہدایت کار پریہ درشن کو کامیڈی کا بادشاہ تو بنا دیا، لیکن خود ہدایت کار کا کہنا ہے کہ انہیں کامیڈی فلموں کی شوٹنگ کرنا بالکل پسند نہیں۔ ’’ہیرا پھیری‘‘ کی زبردست کامیابی کے بعد ان کے کریئر کا رخ مسلسل کامیڈی کی طرف ہوگیا، جس سے وہ خود خوش نہیں تھے۔

Priyadarshan.Photo:INN
پریہ درشن۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ کی مقبول ترین کامیڈی فلموں میں شمار ہونے والی ’’ہیرا پھیری‘‘ نے ہدایت کار  پریہ درشن  کو کامیڈی کا بادشاہ تو بنا دیا، لیکن خود ہدایت کار کا کہنا ہے کہ انہیں کامیڈی فلموں کی شوٹنگ کرنا بالکل پسند نہیں۔ پریہ درشن نے انکشاف کیا ہے کہ’ ’ہیرا پھیری‘‘ کی زبردست کامیابی کے بعد ان کے کریئر کا رخ مسلسل کامیڈی کی طرف ہوگیا، جس سے وہ خود خوش نہیں تھے۔
 ایک انٹرویو میں پریہ درشن نے اپنے کریئر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے فلمی سفر کا آغاز سنجیدہ فلموں سے کیا تھا۔ ان کے مطابق ’’’گردش‘‘ اور ’’وراثت‘‘ جیسی فلموں نے انہیں شناخت دی، لیکن ۲۰۰۰ء میں ریلیز ہونے والی ’’ہیرا پھیری‘‘ نے ان کے کریئر کو بالکل مختلف سمت میں موڑ دیا۔ پریہ درشن نے کہا ’’میں نے سنجیدہ فلموں سے آغاز کیا تھا۔ ’’گرد ش ‘‘نے میرے لیے کام کیا، وراثت بھی کامیاب رہی۔ پھر ’’ہیرا پھیری‘‘ نے میری زندگی مشکل بنا دی۔ اس کے بعد بس کامیڈی، کامیڈی اور کامیڈی ہی ہوتی رہی۔ سچ کہوں تو مجھے کامیڈی کی شوٹنگ کرنا بالکل پسند نہیں۔‘‘ پریہ درشن کے مطابق ’’ہیرا پھیری‘‘ کی کامیابی نے انہیں ایسی شناخت دی جس سے نکلنا آسان نہیں تھا۔ ۲۰۰۱ء سے  ۲۰۲۱ء کے درمیان ان کی ۲۰؍ ہندی فلموں میں سے تقریباً ۱۶؍ فلمیں کامیڈی صنف  سے تعلق رکھتی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے:سوَرا بھاسکر کا وضاحتی بیان: ’’میں نے رانی پدماوتی کو کبھی بزدل نہیں کہا‘‘

ان کی کچھ دیگر فلمیں مکمل کامیڈی نہ ہونے کے باوجود مزاحیہ عناصر سے بھرپور تھیں، جن میں ’’بھول بھلیاں‘‘ اور ’’بلو‘‘ شامل ہیں۔ ان کی حالیہ ہندی فلم ’’بھوت بنگلہ‘‘میں بھی ہارر کے ساتھ کامیڈی کا امتزاج دکھائی دیا۔تاہم اب ’’حیوان‘‘ (Haiwaan) کے ذریعے پریہ درشن کامیڈی کے دائرے سے باہر نکل کر سنجیدہ فلم سازی کی طرف واپسی کرنا چاہتے ہیں۔ پریہ درشن نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی کامیڈی فلموں میں مزاح کا انداز روایتی ’’جوک‘‘ یا زبردستی ہنسانے والے مناظر پر مبنی نہیں ہوتا۔
ان کے مطابق وہ ایسے کردار تخلیق کرنا پسند کرتے ہیں جو خود کو سنجیدگی سے پیش کرتے ہیں، لیکن انہیں ایسے غیر متوقع حالات میں ڈال دیا جاتا ہے جو ناظرین کے لیے مزاحیہ بن جاتے ہیں۔ ہدایت کار نے بتایا کہ وہ اداکاروں کو محض ہنسانے کے لیے ضرورت سے زیادہ تاثرات دینے یا مصنوعی انداز میں کامیڈی کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک  حالات اور کرداروں کا قدرتی ردعمل  ہی کامیڈی پیدا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اسالنکا وہائٹ بال ٹیم کا نائب کپتان مقرر، انگلینڈ کے خلاف ٹی ۲۰؍ سیریز میں واپسی

 کامیڈی میں کئی برس گزارنے کے بعد پریہ درشن نے محسوس کیا کہ انہیں اپنی پسند کی سنجیدہ فلم سازی کی طرف واپس جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی مخصوص ’’ڈائریکٹر کی شناخت‘‘ یا ایک ہی طرح کی فلموں کے ساتھ خود کو محدود نہیں کرنا چاہتے۔ ’’حیوان‘‘ اسی سوچ کا نتیجہ ہے، جس کے ذریعے وہ سنجیدہ موضوعات اور ڈرامائی انداز کی طرف واپس آ رہے ہیں۔
’’ ہیرا پھیری۳‘‘ کا کیا ہوا؟
دوسری جانب ’’ہیرا پھیری ۳‘‘ بھی گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل تنازعات اور قانونی مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ فلم کے حوالے سے بنیادی تنازع یہ ہے کہ’’ہیرا پھیری‘‘ کے نام اور کرداروں کے حقوق اصل میں کس کے پاس ہیں۔  جنوبی  ہندوستان کی پروڈکشن کمپنی  سیون آرٹس انٹرنیشنل (Seven Arts International)  نے فرنچائز کے نام اور کرداروں پر اپنے حقوق کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان حقوق کی ملکیت پروڈیوسر  فیروز اے نڈیاڈوالا  کے پاس درست طور پر نہیں ہے۔ نڈیاڈوالا نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔ اس قانونی تنازع نے فلم کے مستقبل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK