• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ کا ایران کو پابندیوں سے بچانے والے ممالک کو کارروائی کا انتباہ

Updated: September 03, 2026, 6:30 PM IST | Washington

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ کوئی ملک ایران کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد نہ دے، بصورت دیگر اسے بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؛ تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان فی الحال کوئی تجارتی معاہدہ زیرِ بحث ہے۔

US Secretary of State Marco Rubio. Photo: INN
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو۔ تصویر: آئی این این

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات کے بعد ایران کے ساتھ تجارت اور مالی روابط رکھنے والے ممالک کو سخت انتباہ دیا ہے۔ روبیو نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف واضح ہے کہ کوئی ملک ایران کو پابندیوں سے بچنے یا ایسی مالیاتی راہیں بنانے میں مدد نہ دے جن کے ذریعے تہران آمدنی حاصل کرسکے۔ روبیو نے فاکس نیوز ریڈیو کے پروگرام The Brian Kilmeade Show میں مودی پزشکیان ملاقات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان کوئی تجارتی معاہدہ ہے۔‘‘ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ دنیا کے ممالک اپنی خارجہ پالیسیاں خود بناتے ہیں اور کئی ممالک ایرانی حکومت سے رابطے میں ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ نے بھی ماضی میں ایرانی حکومت کے بعض عناصر سے بات چیت کی ہے، لیکن پابندیوں سے بچنے میں مدد کرنا واشنگٹن کے لیے ناقابل قبول ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اگر ٹرمپ اجازت دیں تو غزہ سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کو تیار: اسرائیلی وزیر دفاع

امریکی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ملک ایران کے لیے ایسے ذرائع یا طریقہ کار قائم کرنے میں مدد کرتا ہے جن سے تہران آمدنی پیدا کرکے ’’دہشت گردی کی سرپرستی‘‘ یا جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرسکے تو امریکہ اس ملک کے خلاف بھی پابندیاں عائد کرے گا۔ یہ بیان ہندوستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے کے فوراً بعد آیا ہے، جس نے نئی دہلی کی ایران سے متعلق پالیسی پر واشنگٹن کی نظر کو نمایاں کردیا ہے۔
یاد رہے کہ مودی اور پزشکیان نے ۳۱؍ اگست کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی۔ یہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے آغاز کے بعد دونوں لیڈروں کی پہلی باضابطہ دوطرفہ ملاقات تھی۔ ملاقات میں دونوں نے باہمی تعلقات، تجارت اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ مودی نے ہندوستان اور ایران کے درمیان تجارت کو ’’وسیع اور متنوع‘‘ بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ مودی نے ملاقات کے بعد کہا کہ ہندوستان ایران کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی کو مختلف شعبوں میں مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے تمام مسائل کو ’’بات چیت اور سفارت کاری‘‘ کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں لیڈروں نے شہریوں، شہری بنیادی ڈھانچے، تجارتی جہازوں اور ملاحوں کے تحفظ اور بحری تجارت و آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے پر بھی بات کی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی حملوں کا ایران نے سخت جواب دیا، حالات پھر کشیدہ

ملاقات میں چابہار بندرگاہ اور آبنائے ہرمز بھی اہم موضوعات رہے۔ چابہار ہندوستان کے لیے خاص اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک سمندری رسائی فراہم کرتا ہے اور بین الاقوامی شمال۔جنوب ٹرانسپورٹ راہداری سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ہندوستان ۲۰۲۴ء میں بندرگاہ کے شہید بہشتی ٹرمینل کے آپریشن کے لیے ۱۰؍ سالہ معاہدہ کرچکا ہے۔ چابہار کے معاملے میں نئی دہلی پہلے ہی امریکی پابندیوں کے درمیان راستہ تلاش کررہا ہے۔ ہندوستانی خارجہ سکریٹری وکرم مصری نے ۳۱؍ اگست کو بشکیک میں کہا تھا کہ ہندوستان چابہار منصوبے میں اپنی طویل مدتی وابستگی برقرار رکھنا چاہتا ہے اور متعلقہ فریقوں سے ’’پائیدار راستہ‘‘ تلاش کرنے کے لیے رابطے میں ہے۔ امریکی پابندیوں سے ہندوستانی اداروں کے براہِ راست متاثر ہونے کے خدشات کے باعث نئی دہلی اپنے کردار کو برقرار رکھنے کے متبادل طریقوں پر غور کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یہودی آباد کاروں کے تشدد کے سبب دنیا ہمیں غنڈہ ومجرم سمجھنے پر مجبور: پولیس چیف

ایران کے لیے بھی ہندوستان کی اہمیت صرف تجارت تک محدود نہیں۔ پزشکیان نے مودی سے کہا کہ ہندوستان خطے اور دنیا کے مختلف فریقوں کے ساتھ اپنے وسیع روابط استعمال کرکے جنگ کے بجائے مذاکرات کی طرف واپسی میں مدد کرے۔ ایرانی بیان کے مطابق پزشکیان نے امریکہ پر اپنے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، سائنسی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کا مودی کا اشارہ ایسے وقت میں آیا ہے جب واشنگٹن ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھا رہا ہے۔ امریکی پابندیوں کا دائرہ ایرانی تیل، پیٹرو کیمیکل، جہاز رانی اور مالیاتی ذرائع تک پھیلایا جارہا ہے، جبکہ حالیہ کارروائیوں میں ہندوستان سے متعلق بعض کمپنیوں اور ایک ہندوستانی شہری کو بھی ایران سے مبینہ کاروباری روابط کے معاملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
مودی نے پزشکیان کو نئی دہلی میں ۱۲؍ اور ۱۳؍ ستمبر کو ہونے والی BRICS سربراہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے۔ ہندوستانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ BRICS اور SCO سمیت کثیر ملکی پلیٹ فارموں پر تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے۔ یوں نئی دہلی ایک طرف واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امریکی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کررہا ہے اور دوسری طرف تہران کے ساتھ تجارت، چابہار اور علاقائی سفارت کاری کے اہم روابط بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK