• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس جنگ میں کامیاب ہو رہا ہے،’ہم دہشت گردوں‘ سے مذاکرات نہیں کریں گے: پوتن

Updated: September 03, 2026, 6:29 PM IST | Mascow

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین جنگ کے حوالے سے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس جنگ میں کامیابی حاصل کر رہا ہے اور یوکرینی قیادت کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں، کیونکہ ان کے بقول وہ ’’دہشت گرد‘‘ ہیں۔ پوتن نے روس کے اندر یوکرینی ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصان کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایک بڑا چیلنج قرار دیا اور خبردار کیا کہ روسی فضائی حدود کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کا ماسکو جواب دے گا۔ اسی دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر پوتن سے ملاقات کی۔

Russian President Vladimir Putin. Photo: INN
روس کے صدر ولادیمیر پوتن۔ تصویر: آئی این این

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے منگل (۳؍ ستمبر) کو کہا کہ روس یوکرین کے ساتھ جنگ میں کامیابی حاصل کر رہا ہے اور انہوں نے یوکرینی قیادت کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو ان کے ساتھ مذاکرات نہیں کر سکتا۔ پوتن نے تسلیم کیا کہ یوکرین کے روس کے اندر کیے گئے حملوں سے حقیقی نقصان ہوا ہے اور ڈرونز کو ایک خاص چیلنج قرار دیا۔ روسی صدر نے یہ بھی کہا کہ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کی جانب سے ایئرلائنز کو یہ انتباہ دینا کہ یوکرینی ڈرونز روسی فضائی حدود کو عملاً بند کر دیں گے، ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ جیسا معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو ماسکو اس کا جواب دینے کا کوئی راستہ تلاش کر لے گا۔

یہ بھی پڑھئے: غلاموں کی تجارت میں ملوث ممالک کو معاوضہ دینا ہوگا: اقوام متحدہ کی کمیٹی

کرغزستان میں سربراہی اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ ’’دہشت گردوں‘‘ کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماسکو جنگ کو منجمد کرنے کے بجائے اسے ختم کرنے کے مقصد سے ہونے والے مذاکرات کیلئے تیار ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نمائندوں سے بات چیت کیلئے اپنی آمادگی کا اعادہ کیا۔ پوتن نے کہا، ’’اگر کوئی اس عمل میں ٹھوس کردار ادا کر سکتا ہے یا کر رہا ہے تو ہم سب اس کے حق میں ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ یہ عمل بے مقصد طور پر آگے نہ بڑھتا رہے۔ تاہم، اگر کوئی ان مذاکرات میں کوئی مثبت پیش رفت لانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو ہماری سمجھ کے مطابق اس وقت کسی حد تک تعطل کا شکار ہیں تو عمومی طور پر ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کنیڈا کے برٹش کولمبیا میں نمودار ہونے والا پراسرار جزیرہ چند ہفتوں بعد ہی غائب!

پوتن نے مزید کہا، ’’مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ دشمن ٹوٹ جائے گا۔‘‘ انہوں نے ان افواہوں کو بھی ’’بالکل بے بنیاد‘‘ قرار دیا کہ روس کو نئی فوجی بھرتی یا بڑے پیمانے پر فوجی متحرک کاری کا حکم دینا پڑے گا۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ہندوستان کیلئے ایک اہم وقت میں ہوئی ہے، کیونکہ نئی دہلی روس کے ساتھ اپنی دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری، ایران کے ساتھ تعلقات اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ جاری روابط کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK