Updated: September 03, 2026, 6:00 PM IST
| Mumbai
سپریم کورٹ نے قانون کے طلبہ کے حق میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (BCI) کو لاء کالجوں یا یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹس ایکٹ کے تحت بار کونسل کے تادیبی اختیارات صرف رجسٹرڈ وکلاء تک محدود ہیں۔ یہ فیصلہ نالسار لاء یونیورسٹی کے دو سابق طلبہ کی درخواست پر آیا، جنہوں نے طلبہ کے خلاف بی سی آئی کی کارروائی اور وکالت میں انرولمنٹ پر پابندی کی کوشش کو چیلنج کیا تھا۔
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (BCI) کے پاس قانون کی پڑھائی کررہے طلبہ کے خلاف کوئی بھی تادیبی یا ڈسپلنری کارروائی کرنے کا کوئی اختیار یا دائرہ کار نہیں ہے۔ عدالت نے صاف کہا کہ ایڈووکیٹس ایکٹ ۱۹۹۱؍ کے تحت بار کونسل کے تمام اختیارات صرف اور صرف رجسٹرڈ وکلاء تک محدود ہیں، اسلئے وہ طلباء کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی۔
یہ بھی پڑھئے: افغانستان: گزشتہ سال دولاکھ تین ہزار سے زائد ویزے جاری کیے گئے: سرکاری ترجمان
یہ فیصلہ نالسار (NALSAR) لاء یونیورسٹی کے دو سابق طلبہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر شنوائی کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان طلبہ نے بار کونسل آف انڈیا اور اس کے چیئرمین منن کمار مشرا کے اس قدم کو عدالت میں چیلنج کیا تھا، جس کے تحت ۲۰۲۶ء بیچ کے طلبہ پر بطورِ وکیل رجسٹریشن (Enrolment) کرنے پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی تھی۔ طلبہ کا اعتراض یہ تھا کہ ان کے کنوکیشن پروگرام میں چیف جسٹس آف انڈیا کو بطور مہمانِ خصوصی کیوں مدعو کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غلاموں کی تجارت میں ملوث ممالک کو معاوضہ دینا ہوگا: اقوام متحدہ کی کمیٹی
درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ بار کونسل کے اس طرح کے انتباہی خطوط سے طلباء کے اندر خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور ان کی اظہارِ رائے کی آزادی کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ عدالت کی سماعت کے دوران بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا پیش ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ نالسارکو طلباء کے خلاف انکوائری کا حکم دینے اور ریاستی بار کونسلوں کو بھیجے گئے تمام خطوط فوری طور پر واپس لے لئے گئے ہیں۔ اس پر سپریم کورٹ نے ان تمام خطوط کو کالعدم اور ناکارہ قرار دیتے ہوئے معاملے کو نمٹا دیا۔