۲۰۰۷ءمیں جب ابھیشیک بچن اور ایشوریہ رائےکی شادی ہوئی تو اسے ملک کی سب سے بڑی اور مشہورشادیوں میں شمار کیا گیا۔
EPAPER
Updated: June 23, 2026, 11:03 AM IST | Agency | Mumbai
۲۰۰۷ءمیں جب ابھیشیک بچن اور ایشوریہ رائےکی شادی ہوئی تو اسے ملک کی سب سے بڑی اور مشہورشادیوں میں شمار کیا گیا۔
۲۰۰۷ءمیں جب ابھیشیک بچن اور ایشوریہ رائےکی شادی ہوئی تو اسے ملک کی سب سے بڑی اور مشہورشادیوں میں شمار کیا گیا۔ پورا ملک اس شاہانہ تقریب کی تصاویر دیکھنے کیلئے بے تاب تھا، لیکن شادی کی تقریبات کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے بالی ووڈ کی تاریخ کے سب سے بڑے میڈیا بائیکاٹ کو جنم دیا۔
فوٹوگرافروں اور بچن خاندان کے درمیان تعلقات اس قدر کشیدہ ہو گئے کہ میڈیا کے ایک بڑے طبقے نے تقریباً ایک ماہ تک امیتابھ بچن اور ان کے خاندان کی تصاویر کھینچنے سے انکار کر دیا۔ اس واقعے نے فلمی دنیا میں خاصی ہلچل مچا دی تھی۔حال ہی میں معروف فوٹوگرافر ہرشوردھن پاٹھک نے ایک انٹرویو میں اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ابھیشیک اور ایشوریہ کی شادی ملک کی سب سے بڑی خبروں میں شامل تھی۔ میڈیا کے لیے یہ ایک انتہائی اہم تقریب تھی اور ہر فوٹوگرافر اس تاریخی شادی کی تصاویر حاصل کرنا چاہتا تھا۔انہوںنےبتایا کہ شادی کی سرکاری فوٹوگرافی کا اختیار ایک مخصوص شخص کو دیا گیا تھا، تاہم دیگر فوٹوگرافر بھی مختلف طریقوں سے تصاویر لینے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان: ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ فلم ختم ہونے کے بعد بھی سنیما ہالز میں خاموشی
ان کے مطابق چار دن تک جاری رہنے والی تقریبات کے دوران میڈیا نمائندوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ہرش وردھن پاٹھک کا کہنا تھا کہ فوٹوگرافر گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہتے تھے، کبھی دور سے تصاویر لینے کی کوشش کرتے اور کبھی کسی جھلک کے انتظار میں وقت گزارتے تھے۔ اسی دوران مبینہ طور پر سکیورٹی عملے کا رویہ ان کے ساتھ مناسب نہیں تھا۔ان کے مطابق بعض اوقات سکیورٹی اہلکار میڈیا نمائندوں کی جانب پانی کے پاؤچ پھینک دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کے انتظامات بھی ایسے انداز میں کیے جاتے تھے جس سے فوٹوگرافروں کو محسوس ہوتا تھا کہ ان کے ساتھ عزت و احترام کا برتاؤ نہیں کیا جا رہا۔ یہی وجہ تھی کہ میڈیا کے بہت سے افراد سخت ناراض اور مایوس ہو گئے۔بعد ازاں متعدد فوٹوگرافروں نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ آئندہ ان کی تصاویر نہیں لیں گے۔تقریباً ایک ماہ بعد جب امیتابھ بچن اپنی فلم ’چینی کم‘کے پریس شو میں شریک ہوئےتو وہاں درجنوں فوٹوگرافر موجود تھے، مگر کسی نے بھی ان کی تصویر نہیں کھینچی۔بتایا جاتا ہے کہ امیتابھ بچن کئی مرتبہ فوٹوگرافروں کے سامنے سے گزرے، لیکن کسی نے اپنا کیمرہ ان کی طرف نہیں کیا۔ اس سے انہیں اندازہ ہوا کہ کوئی بڑا مسئلہ ہو چکا ہے۔یہ بائیکاٹ بالی ووڈ کی تاریخ کے سب سے منظم اور بڑے میڈیا احتجاج کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ اس کا دائرہ صرف امیتابھ بچن تک محدود نہیں تھا بلکہ جیا بچن ابھیشیک بچن اور ایشوریہ رائے بھی اس میں شامل تھے۔بعد میں امیتابھ بچن نے فوٹوگرافروں سے ملاقات کی اور ان کے تحفظات سننے کے بعد مبینہ طور پر ان کے ساتھ پیش آئے رویےپر معذرت بھی کی۔