Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوشل میڈیا سے بچوں کو بچانے کی کوشش تیز

Updated: August 28, 2026, 11:49 AM IST | Agency | New York

امریکہ میں ۱۸؍ سال سے کم عمر کے نوجوانوں اور بچوں کیلئے دن میں صرف ۲؍ گھنٹے کی ڈیفالٹ حد، رات ۱۲؍ سے صبح ۶؍ بجے تک ایپ بند رہے گی۔

Social media is a losing proposition for children. Picture: INN
بچوں کیلئے سوشل میڈیا نقصان کا سودا ہے۔ تصویر: آئی این این

’میٹا‘ پر بچوں کو سوشل میڈیا کی لت لگانے کا سنگین الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ اس معاملہ میں میٹا کو مقدمہ کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق امریکہ میں بچوں اور نوعمروں کی حفاظت سے متعلق ایک بڑے مقدمے کو ختم کرنے کیلئے میٹا نے سمجھوتہ کرلیا  ہے۔میٹااس معاملے میں تقریباً ۱۷؍ارب ڈالر ادا کرے گی اور بچوں کیلئے اپنی دونوں ہی ایپس میں کئی بڑی تبدیلیاں کرے گی۔ ان میں فیس بک اور انسٹاگرام پر ملا کر دن میں ۲؍ گھنٹے کی ڈیفالٹ حد اور رات ۱۲؍ بجے سے صبح ۶؍ بجے تک بچوں کے  ذریعے ایپ کے استعمال پر پابندی شامل ہے۔ دراصل امریکہ کی کئی ریاستوں کے اٹارنی جنرل نے ۲۰۲۳ء میں میٹا پر مقدمہ کیا تھا۔ الزام تھا کہ کمپنی نے فیس بک اور انسٹاگرام میں ایسے فیچر بنائے ہیں، جن سے بچوں اور نوعمروں کے ذریعہ ان ایپس کا استعمال ضرورت سے زیادہ بڑھ رہا  ہے۔ ریاستوں کا کہنا تھا کہ اس سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو نقصان پہنچ رہا  ہے۔   

یہ بھی پڑھئے: شام: امریکی پابندیاں ہٹنے کے بعد صدر احمد الشرع نے پہلی ویزا ادائیگی کی

بہرحال، فیس بک اور انسٹاگرام میں سب سے بڑی تبدیلی  ۱۸؍ سال سے کم عمر صارفین کیلئے ہوگی۔ ان کے  لئے دن میں ۲؍گھنٹے کی حد طے کی جائے گی۔ یعنی بچے اور نوعمرافراد فیس بک اور انسٹاگرام کو ملا کر روزانہ ۲؍ گھنٹے ہی دیکھ سکیں گے۔ اس ڈیفالٹ کو تبدیل کرنے کیلئے والدین کی اجازت ضروری ہوگی۔ دونوں ایپس پر گزارا گیا وقت اسی مجموعی حد میں شمار ہوگا۔ اس کے علاوہ  ایک بڑی تبدیلی یہ کی جائے گی کہ رات میں ایپس بند رہیں گی۔ رات ۱۲؍ بجے سے صبح ۶؍ بجے تک نوعمر افراد فیس بک اور انسٹاگرام کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔ علاوہ ازیں صبح ۸؍بجے سے دوپہر ۳؍بجے تک ڈیفالٹ طور پر نوٹیفکیشن ’’میوٹ‘‘ رہیں گے۔ تاہم براہ راست پیغامات اور سیکوریٹی سے متعلق ضروری الرٹ آتے رہیں گے۔ایک خاص تبدیلی یہ بھی کی جائے گی کہ مسلسل استعمال کے دوران نوعمروں کو باقاعدگی سے وقفہ لینے کیلئے’’ ریمائنڈر‘‘ دکھائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ عمر کی جانچ کے لئے زیادہ سخت ٹیکنالوجی، آسان پیرنٹل کنٹرول اور بچوں کو نقصان پہنچانے والے مواد سے بچانے کیلئے اضافی حفاظتی اقدامات کئے جائیں گے۔ کچھ ایسے فیچر بھی محدود کئے جائیں گے جن پر بچوں کی ذہنی صحت کو لے کر سوال اٹھتے رہے ہیں، جیسے پبلک لائک اکاؤنٹ اور کچھ بیوٹی فلٹرز۔

اس درمیان ’میٹا‘ کا کہنا ہے کہ صرف اس کی ایپس پر سختی کرنے سے مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوگاکیونکہ بچے دوسرے پلیٹ فارمس پر جا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے سمجھوتے کی باقی رقم کا ایک حصہ یوٹیوب اور ٹک ٹاک کی جانب سے اقدامات کرنے پر منحصر ہے۔ دونوں کمپنیوں کو بچوں کے لئے ایک گھنٹے کی روزانہ حد، رات میں استعمال پر پابندی اور عمر کی جانچ جیسے اقدامات نافذ کرنے ہوں گے۔ انہیں میٹا کے برابر طے شدہ رقم بھی ادا کرنی ہوگی۔بہرحال، میٹا کا کہنا ہے کہ نوعمروں کے لیے محفوظ آن لائن تجربہ اس کی ترجیح ہے۔ سمجھوتے میں میٹا نے کسی غلطی یا قانونی ذمہ داری کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سمجھوتے کی کامیابی اس بات پر منحصر کرے گی کہ دوسرے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی اسی طرح کے اقدامات کریں۔ یہ سمجھوتہ ابھی عدالت کی منظوری پر منحصر ہے۔ کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں حتمی منظوری کے بعد ہی سمجھوتے کی شرائط نافذ ہوں گی۔ واضح رہے کہ  میٹا کی قانونی مشکلات اس سے پوری طرح ختم نہیں ہوتی ہیں۔ کمپنی کے خلاف بچوں اور سوشل میڈیا سے متعلق دوسرے مقدمے بھی جاری ہیں۔اس امریکی سمجھوتے کا ہندوستان یا دیگر کسی ملک میں براہ راست قانونی اثر نہیں ہوگا لیکن بچوں کی آن لائن حفاظت کو لے کر یہ فیصلہ دنیا بھر کی ٹیک کمپنیوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ ہندوستان میں بھی بچوں کے ڈیٹا اور آن لائن حفاظت کو لے کر قواعد بنائے گئے ہیں۔ اس لئےیہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عمر کی جانچ، پیرنٹل کنٹرول اور بچوں کے اسکرین ٹائم جیسے اقدامات ہندوستانی بازار میں کس طرح نافذ  کئے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس معاملے کی سماعت اگست ۲۰۲۶ء میں کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں شروع ہوئی تھی۔ سمجھوتہ ہونے کے بعد اب یہ مقدمہ ٹرائل کے طور پر آگے نہیں چلے گا تاہم حتمی منظوری عدالت کو دینی ہے۔ کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل کے مطابق سمجھوتے میں ریاستوں کو ۱۸؍ ارب ڈالرتک مل سکتے ہیں۔ اس رقم کا بڑا حصہ طے شدہ ہے جبکہ تقریباً ۵؍ ارب ڈالر سے زیادہ حصہ کچھ شرائط پر منحصر ہے۔ یہ اضافی رقم تبھی جاری ہوگی جب یوٹیوب اور ٹک ٹاک بھی بچوں کیلئے اسی طرح کے حفاظتی اقدامات کریں اور طے شدہ رقم ادا کریں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیل کی جانب سے حملوں کی دھمکی کے بعد معصوم فلسطینی بچہ اپنی پسندیدہ پتنگیں پھاڑنے پر مجبور

آسٹریلیا
آسٹریلیا نے دسمبر ۲۰۲۵ء میں ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کیلئے تمام طرح کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کردی تھی۔

انڈونیشیا
مارچ ۲۰۲۶ء میں انڈونیشیا نے۱۶؍ سال سے کم عمر کے بچوں کیلئے ٹک ٹاک، فیس بک ، انسٹا گرام اور یوٹیوب پر پابندی عائد کردی تھی۔

فرانس 
 فرانس نے ۱۵؍ سال سے کم عمر کے بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ پابندیاں  اگلے ماہ ستمبر سے نافذ ہو جائیں گی۔ 

برطانیہ
برطانیہ نے بھی اپنے یہاں ایسی ہی پابندیوں کی تجویز پیش کی ہے جس پر ملک میں بحث جاری ہے۔ پابندیاں اگلے سال سے نافذ ہوں گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK