غزہ میں بنیادی نظام خاتمے کے قریب ، جبکہ میونسپل حکام نے انسانی صحت کی تباہی کا انتباہ دے دیا، ان کے مطابق ایندھن میں شامل کی جانے والی اشیاء، ڈیزل اور اسپیئر پارٹس کی قلت غزہ میں پانی، سیوریج اور فضلہ کے نظام کو خاتمے کی طرف دھکیل رہی ہے۔
EPAPER
Updated: June 18, 2026, 10:03 PM IST | Gaza
غزہ میں بنیادی نظام خاتمے کے قریب ، جبکہ میونسپل حکام نے انسانی صحت کی تباہی کا انتباہ دے دیا، ان کے مطابق ایندھن میں شامل کی جانے والی اشیاء، ڈیزل اور اسپیئر پارٹس کی قلت غزہ میں پانی، سیوریج اور فضلہ کے نظام کو خاتمے کی طرف دھکیل رہی ہے۔
یونین آف غزہ اسٹرپ میونسپلٹی نے جمعرات کو ایک آنے والی انسانی، صحت اور ماحولیاتی تباہی کے بارے میں خبردار کیا کیونکہ غزہ میں بنیادی میونسپل خدمات ختم ہونے کے قریب ہیں۔یونین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ پانی، سیوریج اور فضلہ کے انتظام کی خدمات اسرائیل کی طرف سے صنعتی تیل، ڈیزل، اسپیئر پارٹس، ٹائر، پمپ اور دیگر آلات کی داخلے پر عائد پابندیوں کی وجہ سے بگڑ رہی ہیں جو اہم سہولیات کو چلانے اور برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔اس میں کہا گیا کہ صنعتی تیل کی قلت سب سے سنگین خطرہ ہے، کیونکہ جنریٹر، پانی کے کنویں، سیوریج اسٹیشن اور میونسپل مشینری براہِ راست ان پر منحصر ہیں، اور مزید کہا کہ ان کا ختم ہونا آپریشن کو روک سکتا ہے چاہے محدود ڈیزل کی فراہمی موجود ہو۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین: ہسپانوی رکن کی جرأت رندانہ، ٹرمپ کو ’نسل کش‘ قرار دیا
واضح رہے کہ میونسپلٹیاں اور پانی کے حکام گھریلو استعمال اور پینے کے لیے روزانہ۱۴۰۰۰۰؍ کیوبک میٹر سے زیادہ پانی فراہم کرنے کے لیے درجنوں کنویں اور اسٹیشن چلاتے ہیں۔وہ رہائشی علاقوں میں بہاؤ کو روکنے کے لیے روزانہ تقریباً۶۰؍ ہزار کیوبک میٹر سیوریج بھی سمندر میں پمپ کرتے ہیں۔یونین نے کہا کہ غزہ بھر میں روزانہ ۳؍ ہزار کیوبک میٹر سے زیادہ فضلہ اکٹھا کیا جاتا ہے، لیکن ایندھن اور اسپیئر پارٹس کی مسلسل قلت جمع کرنے اور نقل و حمل کے کاموں کو روک سکتی ہے۔اس نے کہا کہ اس طرح کی بندش فضلہ کو رہائشی علاقوں اور پناہ گاہوں میں جمع کرنے کا باعث بنے گی، جس سے بیماریوں، وباؤں، کیڑوں اور چوہوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔یونین نے خبردار کیا کہ میونسپل سروسز سسٹم کا ممکنہ خاتمہ صحت عامہ کو خطرے میں ڈالے گا اور غزہ کی پٹی میں۲۰؍ لاکھ سے زیادہ افراد کے حالات کو مزید خراب کرے گا۔بعد ازاں یونین نے اس صورتحال اور اس کے انسانی اور ماحولیاتی نتائج کے لیے اسرائیلی ناکہ بندی کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا۔مزید برآں بیان میں کہا گیا، ’’وقت ختم ہو رہا ہے،‘‘اور خبردار کیا گیا کہ آپریشنل مواد کی فراہمی میں مزید تاخیر ایک وسیع پیمانے پر انسانی اور ماحولیاتی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاہدہ کے باوجود جنوبی لبنان پر حملے، ایران کا اسرائیل کو انتباہ
واضح رہے کہ فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر۲۰۲۳ء سے اسرائیلی حملوں میں تقریباً۷۳؍ ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور۱۷۳۰۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔اس میں مزید کہا گیا کہ حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی پابندی کے باوجود، اسرائیل نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے، جبکہ دوسرے مرحلے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل نے غزہ میں خوراک، ادویات، طبی سامان، پناہ گاہیں اور پہلے سے تیار شدہ مکانات کی متفقہ مقدار کو داخل ہونے سے روکا ہے، جہاں تقریباً۲۴؍ لاکھ افراد، جن میں۱۵؍ لاکھ بے گھر رہائشی شامل ہیں، تباہ کن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔