Updated: July 23, 2026, 3:03 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکار اور فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (FTII) کے چیئرمین آر مادھون نے جاری طلبہ احتجاج پر خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ ہر طالب علم ایسے تعلیمی نظام کا حق دار ہے جو منصفانہ، شفاف اور قابلِ اعتماد ہو۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایف ٹی آئی آئی کے طلبہ نے ان کی خاموشی پر تنقید کی تھی۔
آر مادھون۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ اداکار اور فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (FTII) کے چیئرمین آر مادھون نے جاری طلبہ احتجاج اور تعلیمی نظام سے متعلق تنازع پر پہلی بار عوامی ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نوجوانوں کے خدشات اور مایوسی کو سمجھتے ہیں، اور ہر طالب علم ایسے نظام کا حق دار ہے جو منصفانہ، شفاف اور قابلِ اعتماد ہو۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب جنتر منتر پر جاری احتجاج کے دوران ایف ٹی آئی آئی کے بعض طلبہ نے مادھون کی خاموشی پر سوال اٹھائے تھے۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے انہیں نشانہ بنایا اور ’’غائب‘‘ (Gayab) میم کے ذریعے ان پر تنقید کی کہ وہ طلبہ کے مطالبات پر کوئی مؤقف اختیار نہیں کر رہے۔
اس کے بعد آر مادھون نے ایک تحریری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوانوں کی تشویش اور مایوسی کو محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ہر طالب علم ایسے نظام کا مستحق ہے جو منصفانہ، شفاف اور اعتماد کے قابل ہو۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ بامعنی اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں اور امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریق ایسے اقدامات کریں گے جن سے طلبہ کا اعتماد بحال ہو سکے۔ مادھون نے اپنی اپیل میں یہ بھی کہا کہ احتجاج کے اصل مقصد کو کسی بھی طرح کی سیاست یا دیگر عوامل سے متاثر نہیں ہونے دینا چاہیے اور تمام فریقوں کو نوجوانوں کے بہتر مستقبل کو مقدم رکھنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصلاحات کا عمل تعمیری انداز میں آگے بڑھنا چاہیے تاکہ تعلیمی نظام مزید مضبوط اور شفاف بن سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ایف ٹی آئی آئی طلبہ نے آر مادوھون کے دفتر پر ’’ غائب‘‘ کا پوسٹر آویزاں کیا
تاہم ان کے بیان کے بعد بھی سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا۔ بعض صارفین نے کہا کہ مادھون نے بالآخر طلبہ کے خدشات کو تسلیم کیا، جبکہ دیگر نے ان کے بیان کو تاخیر سے آنے والا اور غیر واضح قرار دیا۔ کئی ناقدین کا کہنا تھا کہ انہوں نے طلبہ کے مخصوص مطالبات یا حکومت کی ذمہ داری پر براہِ راست کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا۔ خبر لکھے جانے تک آر مادھون نے نہ تو کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کی تھی اور نہ ہی جاری احتجاج کے حوالے سے مزید کوئی بیان جاری کیا تھا۔ ان کا مؤقف بنیادی طور پر شفاف اور منصفانہ تعلیمی نظام کی حمایت اور نوجوانوں کے خدشات کے اعتراف تک محدود رہا۔