فریحہ زماں تیراکی میں وہ معصوم چہرہ جس کی پیدائش۲۲؍مارچ۱۹۹۱ءمیں ہندستان کی مشرقی ریاست آسام میں ہوئی اور یہیں ان کی پرورش بھی ہوئی۔
EPAPER
Updated: March 23, 2026, 10:26 AM IST | New Delhi
فریحہ زماں تیراکی میں وہ معصوم چہرہ جس کی پیدائش۲۲؍مارچ۱۹۹۱ءمیں ہندستان کی مشرقی ریاست آسام میں ہوئی اور یہیں ان کی پرورش بھی ہوئی۔
ہندستان میں یوں تو متعد د ایتھلیٹ گیمس ہیں لیکن تیراکی کو جو اہمیت حاصل ہے وہ شاید کسی اور گیم کو نہیں۔ کیونکہ یہ شعبہ ایسا ہے جس میں بہت کم عمری میں ہی بہترین ایتھلیٹ تیار ہوجاتےہیں اور۱۵؍، ۲۰؍سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے یہ ایتھلیٹ ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی اپنا نام روشن کردیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی خواتین نےاس شعبے میں کافی نام کمایا ہے اور یہ خواتین کسی سےپیچھے نہیں رہی ہیں۔ فریحہ زماں تیراکی میں وہ معصوم چہرہ جس کی پیدائش۲۲؍مارچ۱۹۹۱ءمیں ہندستان کی مشرقی ریاست آسام میں ہوئی اور یہیں ان کی پرورش بھی ہوئی۔ انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ سوئمنگ پر بچپن سےہی توجہ مرکوز کی اور تیراکی کو اپنے مستقبل کے طور پر منتخب کیا۔
زماں نےبنگلور کے بسنت گیری سوئمنگ پول میں ملک کے ایک سرکردہ کوچ پردیپ کمار سے تربیت لی۔ اس سے قبل انہوں نے پونے میں کوچ تپن کمار پانیگراہی کے تحت اپنی جدید تربیت شروع کی تھی۔ اس کے بعد سے، وہ اسکول کی سطح پر اور مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کر چکی ہے۔ اس پیشہ سے وابستہ ہوکر وہ شروع سے ہی ہندوستان کا نام پوری دنیا میں بلندیوں پر لے جانے کی خواہش مند رہی ہیں۔ فریحہ نے بہت کم عمر میں تیراکی شروع کردی تھی۔ ریاستی اور ضلعی سطح کے کئی مقابلوں میں حصہ لینے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے کھلے پانی میں تیرنا شروع کیا۔ تیراکی کے لئے انہوں نے اپنے بل بوتے پر ریاستی سطح پر بہت محنت کی۔ اس میں ان کے والدین نے ان کا بہت ساتھ دیا۔ ان کی والدہ نے اپنی نوکری چھوڑ کر ان کے مستقبل پر توجہ دی۔ سخت محنت اور لگن سےچھوٹے مقابلوں میں حصہ لیتے لیتے انہوں نےاپنی توجہ بڑے مقابلوں پر رکھی اورمسلسل کوششوں اور محنت سے آگے بڑھتی رہیں۔ انہوں نے اپنےتیراکی کریئر میں قابل ستائش کام کیا ہے اور کچھ سنگ میل طے کیے ہیں۔ فریحہ زمان نےڈھاکہ میں منعقد ایس اےایف گیمز میں ہندوستان کیلئےاپنا دوسراگولڈ میڈل جیتا۔ پھر ۵۰؍میٹر بیک اسٹروک میں طلائی تمغہ جیتنےکےبعد آسام کی تیراک نے۴۱۰۰؍میٹر ریلے میں طلائی تمغہ جیتا۔ اس مقابلے میں گوری دیسائی، رچا مشرا اور تلسا پربھو ہندوستانی خواتین ریلے ٹیم کے دیگر کھلاڑی تھے۔
یہ بھی پڑھئے: رچا گھوش مانچسٹر سپر جائنٹس اور دپتی شرما سن رائزرز لیڈز کے لئے کھیلیں گی
فریحہ زماں ایک تیز تیراک ہیں جنہوں نے ۵۰؍میٹربیک اسٹروک ایونٹ میں ۳۱ء۲۲؍منٹ کے وقت کے ساتھ قومی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ کولمبو میں ۲۲؍اگست۲۰۰۶ءکو۱۰؍ویں ساؤتھ ایشین گیمز میں ہندوستانی تیراک فریحہ زماں خواتین کے۲۰۰؍ میٹربیک اسٹروک کے فائنل میں حصہ لے کرطلائی تمغہ جیتا۔ اس مقابلے میں ان کی ہم وطن مادھوی گری اور پاکستان کی کرن خان نےبالترتیب چاندی اور کانسہ کا تمغہ حاصل کیاتھا۔
۲۰۱۰ءمیں ۱۹؍ویں دولت مشترکہ کھیلوں میں ۵۰؍میٹر بیک اسٹروک کے مقابلے میں انہوں نے یہ دوری ۳۱؍ منٹ ۳۴؍ سیکنڈ میں پوری کی۔ دسویں ایشین گیمس۲۰۰۶ءمیں ۵۰؍میٹر کی دوری انہوں نےایک گھنٹہ۹؍منٹ اور۵؍سیکنڈ میں مکمل کی۔ یہ مقابلہ ۱۰۰؍میٹربیک اسٹروک کا تھا۔ ۲۰۰۹ء میں ۱۳؍ویں فینا ورلڈ چیمپئن شپ میں ۴۰۰؍میٹر میڈلےریلےمیں حصہ لیا۔ انہوں نے یہ دوری ۴؍گھنٹے۵۳؍منٹ اور۲؍سیکنڈ میں پوری کی۔ فریحہ ان خاتون کھلاڑیوں میں سے ایک ایسی ہیں، جنہیں نمایاں طور پر ایک بہترین تیراک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔