Inquilab Logo Happiest Places to Work

رچا گھوش مانچسٹر سپر جائنٹس اور دپتی شرما سن رائزرز لیڈز کے لئے کھیلیں گی

Updated: March 12, 2026, 5:04 PM IST | Mumbai

انگلینڈ میں منعقد ہونے والے پیشہ ورانہ کرکٹ ٹورنامنٹ ویمنز ہنڈریڈ میں ہندوستانی وکٹ کیپر بلے باز رچا گھوش مانچسٹر سپر جائنٹس اور آل راؤنڈر دپتی شرما سن رائزرز لیڈز کے لیے کھیلیں گی۔

Richa Ghosh.Photo;INN
رِچاگھوش۔ تصویر:آئی این این

 انگلینڈ میں منعقد ہونے والے پیشہ ورانہ کرکٹ ٹورنامنٹ ویمنز ہنڈریڈ میں ہندوستانی وکٹ کیپر بلے باز رچا گھوش مانچسٹر سپر جائنٹس اور آل راؤنڈر دپتی شرما سن رائزرز لیڈز کے لیے کھیلیں گی۔ ویمنز ہنڈریڈ کی پہلی نیلامی میں نیوزی لینڈ کی سوفی ڈیوائن اور آسٹریلیا کی بیتھ مونی سب سے مہنگی کھلاڑی رہیں۔ دونوں کو تقریباً ۳ء۲؍ کروڑ روپے ملے۔ ڈیوائن کو ویلش فائر نے اپنے ساتھ جوڑا، جبکہ مونی کے لیے ٹرینٹ راکٹس نے سب سے بڑی بولی لگائی۔ ہندوستانی وکٹ کیپر بلے باز رچا گھوش کو مانچسٹر سپر جائنٹس نے تقریباً ۵۴؍ لاکھ روپے میں خریدا  جبکہ آل راؤنڈر دپتی شرما کو سن رائزرز لیڈز نے ان کے بیس پرائس یعنی تقریباً ۳۴؍لاکھ روپے میں اپنی ٹیم میں شامل کیا۔
نیلامی میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی موجودگی محدود رہی، لیکن کچھ ناموں کے لیے دلچسپی ضرور دکھائی گئی۔ رچا گھوش کو شامل کر کے مانچسٹر سپر جائنٹس نے اپنے مڈل آرڈر کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف، دپتی شرما سن رائزرز لیڈز کے لیے ایک اہم آل راؤنڈ آپشن ثابت ہو سکتی ہیں؛ ان کی اسپن بالنگ اور نچلے نمبروں کی بلے بازی ٹیم کو توازن فراہم کرتی ہے۔ تاہم، نیلامی کے دوران کچھ ہندوستانی کھلاڑیوں کے لیے کسی بھی فرنچائز نے بولی نہیں لگائی، جن میں اسپن بولر این سری چرنی اور وکٹ کیپر بلے باز یاستیکا بھاٹیا شامل ہیں، جو اس بار فروخت نہ ہو سکیں۔
نیلامی شروع ہونے سے پہلے ہی کئی ہندوستانی کھلاڑیوں کو پری آکشن سائننگ  اور ریٹینشن کے ذریعے ٹیموں نے اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا۔ ہندوستانی کپتان اسمرتی مندھانا مانچسٹر سپر جائنٹس کی جانب سے کھیلیں گی  جبکہ جمیمہ روڈریگز کو سدرن بریو نے نیلامی سے قبل سائن کر کے اپنی ٹیم کا حصہ بنا لیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:آبنائے ہرمز سے ہندوستان کا ٹینکرگزرے گا، جے شنکر اور عراقچی کی گفتگو کے بعد فیصلہ

اس سال ٹورنامنٹ کے ریکروٹمنٹ ماڈل میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ آغاز سے چلی آ رہی ڈرافٹ سسٹم  کی جگہ پہلی بار نیلامی کا انعقاد کیا گیا۔ پہلے کے سیزن میں ٹیمیں کھلاڑیوں کو ڈرافٹ کے ذریعے منتخب کرتی تھیں، لیکن اس بار فرنچائزز کو آئی پی ایل کی طرح کھل کر بولی لگانے کا موقع ملا۔ یہ تبدیلی ٹورنامنٹ کی آٹھوں فرنچائزز میں آنے والے نئے سرمایہ کاروں کے بعد نافذ کی گئی ہے۔ گزشتہ سال ای سی بی نے تمام آٹھ ٹیموں میں اپنی ۴۹؍ فیصد حصہ داری بیرونی سرمایہ کاروں کو فروخت کر دی تھی۔ اس کے بعد متعلقہ میزبان کاؤنٹیز اور نئے سرمایہ کاروں نے ٹیموں میں اپنی حصہ داری کے ساتھ نیا ڈھانچہ تیار کیا۔

یہ بھی پڑھئے:مجھے گندگی میں رہنا پسند نہیں:پرینکا چوپڑہ نے بالی ووڈ چھوڑنے کی وجہ بتائی


ان نئے سرمایہ کاروں میں آئی پی ایل کی کئی فرنچائزیز کے مالکان بھی شامل ہیں جنہوں نے ویمنز ہنڈریڈ کی ٹیموں میں حصہ داری خریدی ہے۔ ممبئی انڈینس کے مالکان نے ایم آئی لندن  کے ذریعے اس لیگ میں اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ ملکیت کے نئے ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے ساتھ ٹورنامنٹ کو مزید تجارتی بنانے کی سمت میں قدم بڑھائے گئے ہیں۔ کھلاڑیوں کی سیلری کی حد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس سے کھلاڑیوں کے لیے کمائی کے مواقع پہلے سے زیادہ ہو گئے ہیں اور لیگ میں مقابلے کی فضا مزید بہتر ہونے کی امید ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK