Inquilab Logo Happiest Places to Work

تیز گیند باز محمد سمیع نے سبکدوشی کی قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا

Updated: April 01, 2026, 9:47 AM IST | Agency | New Delhi

کہا کہ ’’ فی الحال ریٹائرمنٹ کے بارے میں نہیں بلکہ ٹیم انڈیا میں واپسی کے بارے میں غور کر رہا ہوں۔‘‘

Shami.Photo:INN
سمیع۔ تصویر:آئی این این
نئی دہلی (ایجنسی): ٹیم انڈیا کے مایہ ناز تیز گیند باز محمد سمیع نے اپنے ریٹائرمنٹ کی قیاس آرائیوں پر روک لگاتے ہوئے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ اس بارے میں نہیں سوچ رہےہیں بلکہ وہ ٹیم انڈیا میں واپسی کے بارے میں غور کررہے ہیں۔  ۳۵؍ سالہ تجربہ کار تیز گیند باز  نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ وہ اسی دن کرکٹ کو خیرباد کہیں گے جب انہیں کھیل سے ’’بوریت‘‘محسوس ہونے لگے گی۔
 
 
  سمیع نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے خیالات دراصل ذہنی تھکن کی علامت ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق جب کسی کھلاڑی کے ذہن میں یہ خیال آنا شروع ہو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ  اب  اپنے کھیل سے لطف اندوز نہیں ہو رہا ہے۔ سمیع نے کہا کہ وہ ابھی مکمل طور پر فٹ ہیں، پُرجوش ہیں اور کھیل کا لطف اٹھا رہے ہیں، اس لئے ریٹائرمنٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتابلکہ میں تو ٹیم میں واپس آنا چاہتا ہوں۔ 
 
محمد سمیع نے گفتگو کے دوران بالکل دوٹوک انداز میںکہا کہ جب میں تھک جاؤں گا تو خود ہی کرکٹ چھوڑ دوں گا، لیکن ابھی میں ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہا۔ اگر یہ خیال ذہن میں آئے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ پہلے ہی تھک چکے ہیں۔ اور اگر آپ تھک گئے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بور ہو چکے ہیں۔ میں اسی دن کرکٹ چھوڑوں گا جب مجھے واقعی بوریت محسوس ہوگی۔واضح رہے کہ محمد سمیع نے ۲۰۲۳ء کے ونڈے ورلڈ کپ میں ہندوستان کی شاندار کارکردگی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔انہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں تن تنہا ٹیم انڈیا کو کئی میچوں میں اپنی گیند بازی کی بدولت فتح دلائی تھی ۔ اس کے بعد وہ ۲۰۲۵ء کی چمپئن  ٹرافی جیتنے والی  ہندوستانی ٹیم کا بھی حصہ رہے اور وہاں بھی انہوں نے بہترین مظاہرہ کیا تھا ۔  یہ  ہندوستانی ٹیم میں ان کا آخری ٹورنامنٹ تھا کیوں کہ اس کے بعد سے انہیں مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے جبکہ گھریلو کرکٹ  میںبھی وہ بہترین مظاہرہ کررہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK