Updated: January 08, 2026, 4:39 PM IST
|
Agency
| New Delhi
سروے میں انکشاف، ۵۵؍ فیصد نے شکایت کی کہ آن لائن آرڈر کرنے پر کھانے کی قیمت زیادہ وصولی جاتی ہے، پیکیجنگ سے بھی ناخوش۔
۸۷؍فیصد صارفین کا کہنا ہے کہ فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارمس کو اپنے ایپس پر آن لائن قیمت اورریسٹورنٹ میں جا کر کھانے کی قیمت کو واضح کرنا چاہئے۔ تصویر: آئی این این
زومیٹو، سویگی اور بلنکٹ جیسے فوڈ ڈیلیوری ایپس کیلئے کام کرنے والے ڈیلیوری ملازمین تو ان کمپنیوں سے نالاں ہیں ہی، صارفین بھی خوش نہیں ہیں۔اس کا انکشاف ’’لوکل سرکلس‘‘ کے حالیہ سروے میں ہوا ہے۔ ۵۵؍ فیصد صارفین کی شکایت ہے کہ جب وہ اِن ایپس کے ذریعہ آن لائن کھانا آرڈر کرتے ہیں تو ریسٹورنٹ میں جا کر کھانے یا خود پارسل لے جانے کے مقابلے میں انہیں زیادہ رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔
اس کی وجہ ایپس کی جانب سے ریسٹورنٹس سے وصول کیا جانے والا۲۰؍ سے۳۰؍ فیصد تک کا بھاری کمیشن بتایا گیا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر صارفین کی جیب پر پڑتا ہے۔ سروے میں ملک کے۳۵۹؍ اضلاع کے ۷۹؍ ہزار سے زائد کے جوابات کو شامل کیاگیاہے۔ ان میں ۶۱؍ فیصد مرد اور۳۹؍ فیصد خواتین ہیں۔ سروے میں شامل کئے گئے افراد میں سے ۴۵؍ فیصد ٹائر وَن (پہلے زمرے کے) کے شہروں سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ۳۳؍فیصد کا تعلق ٹائر ٹو (دوسرے زمرے) اور ۲۲؍ فیصڈ کا تعلق ٹائر تھری اینڈ فور(تیسرے اور چوتھے زمرے) کے شہروں نیز اور دیہی علاقوں سے ہے۔ سروے میں وہی لوگ شامل کئے گئے جنہوں نے ’لوکل سرکلس‘ میں رجسٹریشن کروایا ہے۔
قیمتیں بڑی شکایات میں شامل
سروے کے مطابق قیمتوں کا مسئلہ فوڈ ڈیلیوری ایپس کے خلاف بڑی شکایات میں شامل ہے۔ تقریباً ہر ۴؍ میں سے ۳؍ صارفین نے کہا کہ انہیں یا تو مینو کی زیادہ قیمتوں، زیادہ ٹیکس اور پلیٹ فارم چارجیا دونوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ۱۰؍ فیصد صارفین نے کہا کہ آن لائن مینو کی قیمتیں ریسٹورنٹ کی قیمتوں سے زیادہ ہوتی ہیں، جبکہ۹؍ فیصد نے حد سے زیادہ ٹیکس اور ڈیلیوری فیس کی شکایت کی۔سروے میں سوالوں کا جواب دینے والوں میں سے۷۵؍فیصد فوڈڈیلیوری ایپس استعمال کرتے تھے۔ ان میں۵۸؍ فیصد مہینے میں ایک سے ۵؍ بار جبکہ ایک فیصد مہینے میں۱۰؍ سے ۳۰؍ بار آرڈر کرتے ہیں۔
میعار اور پیکیجنگ پر بھی عدم اطمینان
قیمتوں کے علاوہ کھانے کے معیار اور ڈیلیوری سے متعلق مسائل بھی بڑی تشویش کا باعث ہیں۔ ۹۵؍ فیصد سے زیادہ صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں کھانے کے معیار یا پیکجنگ سے متعلق شکایات رہی ہیں۔ تقریباً۵۶؍ فیصد نے بتایا کہ انہیں سال میں ایک سے زیادہ بار ایسا کھانا ملا جو گرا ہوا خراب یا غلط طریقے سے سنبھالا گیا تھا۔
۲۵-۲۰۲۴ء میں ۷؍ ہزار سے زائد شکایتیں
صارفین نے چھپے ہوئے پیکیجنگ چارجس، غیر واضح ڈیلیوری فیس اور چیک آؤٹ کے وقت توقع سے زیادہ بل آنے جیسے مسائل کی بھی نشاندہی کی ہے ۔۲۵-۲۰۲۴ء میں فوڈ ڈیلیوری ایپس کے خلاف۷؍ہزار سے زیادہ شکایات درج کی گئیں جو مسلسل عدم اطمینان کو ظاہر کرتی ہیں۔ کئی صارفین نے غیر محفوظ فوڈ پیکیجنگ، باسی کھانا، کھانا گرم نہ نہ رہنا اورصارفین کے مسائل کے حل میں کوتوہی( کمزور کسٹمر سپورٹ) اور ریفنڈ میں تاخیر یا انکار پر بھی تشویش ظاہر کی۔
ڈسکاؤنٹس سے محدود راحت
اگرچہ ایک تہائی صارفین نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ انہیں زیادہ تر آرڈرس پر ریسٹورنٹ یا بینک سے ڈسکاؤنٹ مل جاتا ہے لیکن تقریباً۴۵؍ فیصد نے کہا کہ انہیں ان ڈسکاؤنٹس سے زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔ بہت کم صارفین کا خیال ہے کہ فوڈ ڈیلیوری ایپس سے آرڈر کر کے کچھ پیسے بچا لیتے ہیں۔ ۳۷؍فیصد نے کہا کہ کچھ مواقع پر فوڈ ڈلیوری ایپس کے ذریعے وصول کی گئی رقم ریسٹورنٹ کے بل میں درج قیمت سے کم تھی، لیکن اکثریت نے کہا کہ انہیں ایسا فائدہ کبھی حاصل نہیں ہوا۔