Updated: April 02, 2026, 10:03 AM IST
|
Agency
| New Delhi
حزب مخالف کی پارٹیوں نے ایف سی آر اے بل کو سخت گیر اور آمرانہ قرار دیتے ہوئے اس پر اعتراض کیا تھا۔
ایف سی آر اے ترمیم کیخلاف پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج کیا گیا ۔تصویر:پی ٹی آئی
مرکزی حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں کے شدید اعتراض اور پھر پارلیمنٹ میں شدید احتجاج کے بعد ایف سی آر اے بل ۲۰۲۶ء کو فی الحال موخر کردیا ہے۔ یہ بل بدھ کو بحث کیلئے پیش کیا جانا تھا تاہم اپوزیشن کے شدید دبائو کے باعث حکومت کو اسے مؤخر کرنا پڑا۔یہ بل جو ۲۵؍ مارچ کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا، جلد ہی ایک بڑے سیاسی تنازع کا سبب بن گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسے ’’سخت گیر‘‘ اور ’’آمرانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کے ذریعے حکومت غیر سرکاری تنظیموں یعنی این جی اوز اور اقلیتی اداروں پر غیر معمولی کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ بل بنیادی طور پر ایف سی آر اے قانون ۲۰۱۰ء میں ترمیم کیلئے لایا گیا تھا جو غیر ملکی فنڈنگ کے استعمال اور وصولی کو منظم کرتا ہے۔ اس قانون کے تحت غیر سرکاری تنظیموں کو غیر ملکی امداد حاصل کرنے کیلئے وزارتِ داخلہ میں رجسٹریشن کروانا ضروری ہوتا ہے، تاکہ شفافیت برقرار رہے اور قومی مفادات کے خلاف سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ترمیمی بل کی سب سے متنازع تجویز ایک ’’نامزد اتھاریٹی‘‘ کا قیام تھا۔ اس پر اپوزیشن نے سب سے زیادہ اعتراض کیا۔
اس نامزد اتھاریٹی کو یہ اختیار حاصل ہوتا کہ اگر کسی این جی او کا ایف سی آر اے لائسنس ختم ہو جائے، منسوخ کر دیا جائے یا وہ خود واپس کر دے تو اس کے غیر ملکی فنڈس اور اثاثوں پر عارضی یا مستقل کنٹرول حاصل کرلیا جائے۔اس کا مطلب یہ تھا کہ اسکول، اسپتال، ہاسٹل یا فلاحی ادارے جو جزوی طور پر غیر ملکی فنڈز سے بنائے گئے ہوںحکومت کے کنٹرول میں آ سکتے تھے۔ مزید یہ کہ ایسے اثاثوں کی فروخت یا منتقلی سے حاصل ہونے والی رقم’کنسولیڈیٹیڈ فنڈ آف انڈیا ‘ میں جمع کر دی جاتی جو مرکزی حکومت کا بنیادی خزانہ ہے۔حکومت کا موقف تھا کہ موجودہ قانون میں اس بات کی وضاحت نہیں ہے کہ اگر کسی این جی او کا لائسنس ختم ہو جائے تو اس کے اثاثوں کا کیا ہوگا، اس لئے یہ ترمیم قانونی خلا کو پُر کرنے اور غیر ملکی فنڈس کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لئے ضروری ہے۔
اپوزیشن جماعتوں جن میں کانگریس، بائیں بازو کی پارٹیاں اور ترنمول کانگریس شامل ہیں، نے اس بل کی سخت مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے ذریعے حکومت کو حد سے زیادہ اختیارات مل جائیں گے اور معمولی خلاف ورزیوں یا تکنیکی غلطیوں کی بنیاد پر بھی اداروں کے اثاثے ضبط کئے جا سکیں گے۔خاص طور پرکیرالا میں عیسائی برادری اور چرچ رہنماؤں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ مختلف کیتھولک بشپ نے خبردار کیا کہ اگر یہ بل منظور ہو گیا تو چرچ کے زیر انتظام اسکول، اسپتال اور فلاحی ادارےجو بیرونی عطیات سے قائم ہوئے ہیںسرکاری کنٹرول میں جا سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ بل پیش کرکے مودی حکومت ایک مشکل صورتحال میں پھنس گئی تھی۔
اگر وہ بل کو آگے بڑھاتی تو کیرالا میں ۹؍ اپریل کو ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل عیسائی ووٹروں کے ناراض ہونے کا خطرہ تھا۔ دوسری جانب بل کو واپس لینا یا مؤخر کرنا اس تاثر کو جنم دیتا کہ حکومت غیر ملکی فنڈیڈ این جی اوز کے معاملے میں نرم رویہ اختیار کر رہی ہے۔اسی سیاسی دباؤ کے پیش نظر حکومت نے فی الحال بل کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق اس وقت تقریباً ۱۶؍ ہزار تنظیمیں ایف سی آر اے کے تحت رجسٹرڈ ہیں، جو سالانہ تقریباً ۲۲؍ ہزار کروڑ روپے کی غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرتی ہیں۔ ایسے میں اس قانون میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔