• Mon, 12 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا اسرائیلی افواج پر جنسی زیادتیوں کا الزام، آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

Updated: January 04, 2026, 2:05 PM IST | Washington

ایف ایف سی نے مزید کہا کہ وہ آئی سی سی اور اقوامِ متحدہ کے طریقہ کار سمیت بین الاقوامی قانونی راستے اختیار کرے گا۔ کولیشن نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حراستی مراکز تک رسائی حاصل کریں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

’فریڈم فلوٹیلا کولیشن‘ (ایف ایف سی) نے اسرائیلی پولیس اور جیل حکام پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے غزہ کے محاصرے کو چیلنج کرنے کی کوشش کے دوران حراست میں لئے گئے رضاکاروں، کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف ریپ سمیت جنسی تشدد کا ارتکاب کیا ہے۔ گروپ نے ان الزامات کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں ایف ایف سی نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا کے جہازوں پر قبضہ کیا اور سیکڑوں شہریوں کو حراست میں لیا۔ بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ دورانِ حراست اور تفتیش کے عمل میں جنسی تشدد کے واقعات پیش آئے۔ اسرائیلی حکام نے تاحال ان دعوؤں پر عوامی سطح پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ: انجلینا جولی کا رفح بارڈر (مصر) دورہ، زخمی فلسطینیوں سے ملاقات

یہ الزامات اس وقت منظرِ عام پر آئے جب جرمن صحافی اینا لیڈکے نے ۲۱ دسمبر کو ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بتایا کہ زبردستی تلاشی کے خلاف مزاحمت کرنے پر اسرائیلی تحویل میں ان کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی۔ لیڈکے فلوٹیلا کے جہاز ’کونشینس‘ پر سوار کارکنوں میں شامل تھیں۔ ایف ایف سی نے بتایا کہ وہ اس انکشاف کے بعد سے ان کی حمایت کر رہا ہے۔ کولیشن کے مطابق، اسرائیل کے ذریعے حراست میں رکھے گئے دیگر دو کارکنان، اطالوی صحافی ونسنزو فلونی اور آسٹریلوی کارکن سوریا میک ایون نے بھی جنسی تشدد کی اطلاع دی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مزید ایسے واقعات سامنے آسکتے ہیں، تاہم اس کا فیصلہ متاثرین خود کریں گے کہ وہ کب عوامی سطح پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی دباؤ کے بعد اسرائیل کا رفح گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے پر غور

کولیشن نے ”فوری، آزادانہ اور معتبر احتساب“ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ افعال انسانی وقار، بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے قوانین کی صریح اور سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔“ گروپ نے ان الزامات کو اسرائیلی حراستی مراکز میں بدسلوکی، بالخصوص فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کے وسیع تر سلسلے سے جوڑا اور ’فلسطینی سینٹر فار ہیومن رائٹس‘ سمیت فلسطینی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپس کی رپورٹس کا حوالہ دیا، جنہوں نے غزہ میں حالیہ اسرائیلی جنگ کے آغاز سے ہی فلسطینی قیدیوں پر منظم جنسی تشدد کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اداروں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیموں نے بھی اس سے قبل اسرائیلی حراست میں جنسی اور صنفی بنیاد پر بدسلوکی کو دستاویز کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کچھ معاملات جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی ۱۹؍ حقوقِ انسانی تنظیموں کی اپنی ہی حکومت کے فیصلے پر شدید تنقیدیں

دوسری طرف، اسرائیل ہمیشہ منظم بدسلوکی کے ان دعوؤں کی تردید کرتا آیا ہے۔ صہیونی ریاست کا کہنا ہے کہ اس کی سیکوریٹی فورسیز قانون کے دائرے میں کام کرتی ہیں اور کسی بھی غلط رویے کی تحقیقات کرتی ہیں۔ تاہم، انسانی حقوق کے گروپس طویل عرصے سے ان تحقیقات کو غیر مؤثر قرار دے کر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

ایف ایف سی نے مزید کہا کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) اور اقوامِ متحدہ کے طریقہ کار سمیت بین الاقوامی قانونی راستے اختیار کرے گا۔ کولیشن نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حراستی مراکز تک رسائی حاصل کریں۔ بیان میں زور دیا گیا ہے کہ ”ان جرائم کو قبضے اور فلسطینی حقوق سے انکار کے وسیع تر تناظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK