• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بلڈوزر کارروائی سے این ایس اے تک جسٹس اتل شری دھرن نے کئی قابل قدر فیصلے سنائے

Updated: September 12, 2026, 12:49 PM IST | Agency | New Delhi

اپنے متعدد اہم فیصلوں اور ریاستی اختیارات کے بے جا استعمال پر سخت سوال اٹھانے والے احکامات کے باعث اتل شری دھرن کی قانونی اور عوامی حلقوں میں پزیرائی۔

Allahabad High Court Judge Justice Atul Sreedharan. Photo: INN
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اتل شری دھرن۔ تصویر: آئی این این

الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتل شری دھرن گزشتہ تقریباً دس ماہ کے دوران اپنے متعدد اہم فیصلوں اور ریاستی طاقت کے استعمال پر سخت سوال اٹھانے والے احکامات کے باعث عدالتی حلقوں میں نمایاں ہوئے ہیں۔ ان کے فیصلوں میں شہری آزادی، مذہبی آزادی، این ایس اے کے تحت حراست، بلڈوزر کارروائی، حراستی موت، ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق اور عدالتی و قانونی نظام میں جواب دہی جیسے معاملات شامل ہیں۔ یاد رہے کہ جسٹس شری دھرن کی الہ آباد ہائی کورٹ منتقلی بھی ابتدا میں عدالتی حلقوں میں بحث کا موضوع بنی تھی۔ جسٹس اتل شری دھرن نے ۹۰ءکی دہائی میں دہلی میں سینئر ایڈوکیٹ گوپال سبرامنیم کےماتحت وکالت شروع کی تھی۔ بعد میں انہوں نے اندور منتقل ہوکر مدھیہ پردیش حکومت کے پینل کونسل کے طور پر بھی کام کیا۔ ۲۰۰۵ء سے ۲۰۱۳ءکے درمیان وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے رہے۔ ۲۰۱۶ء میں انہیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا اور  ۲۰۱۸ءمیں مستقل جج بنایا گیا۔ اگر انہیں سپریم کورٹ میں ترقی نہیں ملتی تو ان کاریٹائرمنٹ مئی ۲۰۲۸ء میں متوقع ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ڈرافٹ لسٹ جاری ہونے کے ۱۲؍ دن بعد بھی انوملی پر ووٹروں کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا

۲۰۲۳ء میں جسٹس شری دھرن نے جموں کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ منتقل کئے جانے کی درخواست کی تھی تاکہ ان کی بیٹی اندور میں پریکٹس کرسکے۔ اس درخواست کو اس وقت کے چیف جسٹس کی سربراہی والے کولیجیم نے منظور کرلیا تھا، تاہم مارچ۲۰۲۵ء میں انہیں دوبارہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ بھیج دیا گیا، جہاں وہ  سینئرٹی کے اعتبار سے کولیجیم میں شامل ہونے کی پوزیشن میں تھے۔ بعد میں ۲۰۲۵ء میں ان کا نام چھتیس گڑھ ہائی کورٹ منتقلی کے لئےبھی تجویز کیا گیا، جہاں وہ کولیجیم کا حصہ بن سکتے تھے، لیکن حکومت کی جانب سے غور کے بعد انہیں الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کردیا گیا، جہاں وہ سینئر ججوں میں شامل نہیں تھے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ پہنچنے کے بعد جسٹس شری دھرن کے کئی فیصلوں میں ریاستی طاقت کے استعمال اور شہری آزادیوں کے تحفظ پر خاص توجہ نظر آئی۔ تازہ ترین نمایاں فیصلوں میں نوئیڈا  میںاحتجاج سے متعلق آکرتی چودھری کی قومی سلامتی ایکٹ کے تحت حراست ختم کرنے کا حکم شامل ہے۔ عدالت نے نہ صرف حراست کو منسوخ کردیا بلکہ ضلع انتظامیہ کے طرز عمل پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے معاوضے کا حکم بھی دیا۔ 

مارچ ۲۰۲۶ء میں جسٹس شری دھرن کی سربراہی والی بنچ نے نماز سے متعلق ایک اہم معاملے کی سماعت کی۔ معاملہ مناظر خان کا تھا جنہیں سنبھل میں پولیس اور انتظامیہ نے امن و امان کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ہی پراپرٹی پر نماز ادا کرنے سے روک دیا تھا۔ ریاستی حکومت نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ نماز کی اجازت صرف ۲۰؍ افراد تک محدود تھی اور یہ پابندی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں مقامی انتظامیہ، خصوصاً پولیس سپرنٹنڈنٹ اور ضلع کلکٹر کے کردار پر سخت ریمارکس دئیے تھے جس سے یوپی کی یوگی حکومت کی بھی خاصی سبکی ہوئی تھی۔

جسٹس اتل شری دھرن کا کریئر  

الٰہ  آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتل شری دھرن نے ۹۰ءکی دہائی میں دہلی میں سینئر ایڈوکیٹ گوپال سبرامنیم کےماتحت وکالت شروع کی تھی۔ بعد میں انہوں نے اندور منتقل ہوکر مدھیہ پردیش حکومت کے پینل کونسل کے طور پر بھی کام کیا۔ ۲۰۰۵ء سے ۲۰۱۳ءکے درمیان وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے رہے۔ ۲۰۱۶ء میں انہیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا اور  ۲۰۱۸ءمیں مستقل جج بنایا گیا۔ اگر انہیں سپریم کورٹ میں ترقی نہیں ملتی تو ان کاریٹائرمنٹ مئی ۲۰۲۸ء میں متوقع ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عدلیہ میں کالی بھیڑوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، ہر سطح پرعدالتیں اکثریت نوازی کی طرف بڑھ رہی ہیں

عدالت نے کہا کہ اگر افسران کو لگتا ہے کہ وہ قانون پر عمل در آمدیقینی بنانے کے اہل نہیں  ہیںیا انہیں خدشہ ہے کہ نمازیوں کی تعداد بڑھنے سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوگا تو انہیں اپنے عہدوں سے استعفیٰ  دےدینا چا ہئے یا سنبھل سے باہر تبادلہ کی درخواست کرنی چا ہئے۔جسٹس شری دھرن نے فیصلے میں اس اصول پر زور دیا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر مذہبی برادری کو اپنے مقررہ عبادت گاہ میں پُرامن طریقے سے عبادت کرنے کا موقع فراہم کرے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر عبادت گاہ نجی ملکیت میں ہو تو لوگوں کو وہاں عبادت کے  لئے ریاست سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں  ہے۔ بلڈوزر کارروائی سے متعلق جولائی کے ایک اہم  لیکن منقسم فیصلے میں بھی جسٹس شری دھرن نے ریاستی طاقت کے استعمال کی حدود پر تفصیلی موقف اختیار کیا۔ یہ معاملہ ایک مسلم خاندان کی درخواست پر سامنے آیا تھا، جس کا الزام تھا کہ ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہونے کے بعد ان کے گھر اور کاروباری احاطے کو بلڈوزر کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔جسٹس شری دھرن نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے مکانات کی انہدامی کارروائی سے متعلق وضع  کئے گئے حفاظتی اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایسی کارروائی پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی حمایت کی۔ ان کے مطابق اگر کسی ملزم کے گھر کو صرف اس بنیاد پر منہدم کیا جارہا ہو کہ اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور کارروائی میں انتقامی عنصر موجود ہو تو ایسے انہدام کو روکا جانا چاہئے۔ انہوں نے ایسے معاملات میں طویل عرصے سے قائم رہائشی مکانات کے خلاف کارروائی کے  لئے پیشگی اطلاع کی ضرورت پر بھی زور دیا اور متعلقہ اہلکاروں کی جواب دہی کی ہدایت کی۔ اپنے فیصلے میں جسٹس شری دھرن نے بلڈوزر کارروائی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی سخت تبصرہ کیا تھا ۔ تاہم یہ فیصلہ منقسم تھا۔ مئی  میں حراستی موت کے ایک ۱۶؍سال پرانے معاملے میں بھی جسٹس شری دھرن کی بنچ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سی بی آئی کو تحقیقات میں مداخلت کرنے اور اہم شواہد حاصل کرنے کی ہدایت دی۔ معاملہ ایک معذور شخص کی مبینہ حراستی موت سے متعلق تھا، جس کے بارے میں پولیس کا دعویٰ تھا کہ اس نے جیل کے پیشاب گھر میں اپنی بیلٹ سے پھانسی لگا کر خودکشی کی تھی۔ اس شخص کے معذوری سرٹیفکیٹ کے مطابق اسے ۴۰؍ فیصد جسمانی معذوری تھی۔ عدالت نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ جیل کے لاک اپ کے اندر مسلسل نگرانی والے مقام پر ۴۰؍ فیصد جسمانی معذوری رکھنے والا شخص کس طرح بیلٹ کے ذریعے پھانسی لگا سکتا ہے۔

عدالت نے ویڈیو گرافی کی فوٹیج طلب کی، لیکن طویل عرصے تک اسے حاصل کرنے میں ناکامی اور ریاستی حکومت و پولیس کے مبہم رویے کے بعد سی بی آئی کو یہ ثبوت حاصل کرکے دو ماہ کے اندر عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی۔ اس معاملے میں عدالت نے ۱۶؍سال کی تاخیر پر بھی سخت تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس تاخیر نے پولیس اور ریاست کو ایسے حالات فراہم کیے جن میں شواہد اور حقیقت کو چھپایا جاسکتا تھا۔ عدالت نے قومی انسانی حقوق کمیشن کے کردار پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر کمیشن نے صرف پولیس کے بیان کی بنیاد پر حراستی موت کا معاملہ بند کردیا اور آزاد یا غیر جانبدار شواہد حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی تو اس سے کمیشن کے وجود ہی پر سوال اٹھتا ہے۔  

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: معاون موت کو قانونی حیثیت دینے والا تاریخی بل ہاؤس آف کامن سے مسترد

نومبر ۲۰۲۵ءمیں جسٹس شری دھرن اور جسٹس ارون کمار کی بنچ نے فتح پور میں نوری جامع مسجد کے ایک حصے کو منہدم کرنےپر بھی روک لگائی تھی۔ حکام سڑک چوڑی کرنے کے سرکاری منصوبے کے تحت مسجد کے بعض حصوں کو منہدم کررہے تھے۔ عدالت نے انہدامی کارروائی پر اگلی سماعت تک روک لگاتے ہوئے معاملہ دو دن بعد فہرست میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔ وکلا کے خلاف کارروائی کے معاملے میں بھی جسٹس شری دھرن نے سخت رویہ اختیار کیا۔ اس موقع پر عدالت نے وکالت کے پیشے میں اخلاقی ذمہ داری اور دیانت داری پر بھی سخت تبصرہ کیا۔ جسٹس شری دھرن کی بنچ نے کہا کہ عام شہری اپنی مجبوری، بے بسی اور ناامیدی کے باعث عدالت کا رخ کرتا ہے اور ایسے میں اسے اپنے وکیل پر مکمل اعتماد ہوتا ہے۔ اگر عدالت وکیل کی جانب سے کی گئی غلط کاری کو محض معافی یا آئندہ ایسی حرکت نہ دہرانے کی یقین دہانی کی بنیاد پر نظرانداز کردے تو بار کیلئے یہ غلط پیغام ہوگا کہ جب تک غلط کاری پکڑی نہ جائے، اسے جاری رکھا جاسکتا ہے۔ اسی سال اپریل میں مدارس سے متعلق ایک منقسم فیصلے میں جسٹس اتل شری دھرن اور وویک سرن کی بنچ نے قومی انسانی حقوق کمیشن کی جانب سےمدارس کی تحقیقات کیلئے کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کمیشن کی توجہ دیگر اہم شہری حقوق کے مسائل، خصوصاً ہجومی تشدد اور لنچنگ جیسے معاملات کی جانب نہ ہونے پر تنقید کی۔ 

حالیہ عدالتی فیصلوں کا مجموعی جائزہ

جسٹس اتل شری دھرن کے حالیہ عدالتی فیصلوں کا مجموعی جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی بنچ نے ریاستی اختیارات کے استعمال، شہری آزادی، مذہبی آزادی، انسانی حقوق اور انتظامی جواب دہی سے متعلق معاملات میں متعدد مواقع پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ این ایس اے حراست سے لے کر بلڈوزر کارروائی، عبادت کی آزادی، حراستی موت، جعلی دستاویزات، مسجد انہدام، ٹرانس جینڈر حقوق اور قانونی پیشے میں بدعنوانی تک انکے فیصلوں میں ریاست اور متعلقہ اداروں کو قانون کے دائرہ میں رکھنے پر زور نمایاں رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK