جیت کے باوجود ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے سپاٹ پچ کو تنقید کا شانہ بنایا۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 12:59 PM IST | Agency | Guwahati
جیت کے باوجود ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے سپاٹ پچ کو تنقید کا شانہ بنایا۔
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے چیف کوچ گوتم گمبھیر نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے یک روزہ میچ میں ہندوستان کی جانب سے ۴۰۶؍رنوں کے ریکارڈ ہدف کا تعاقب کرنے کے بعد گوہاٹی کی پچ کے حالات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلے اور گیند کے درمیان کچھ زیادہ مقابلہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بلے بازی ہے، کرکٹ نہیں۔
دوسرے یک روزہ میچ میں ویسٹ انڈیز پر جیت کے بعد گمبھیر نے اسٹار اسپورٹس سے کہاکہ’’دیکھیے، اگر مجھے پوری طرح ایمانداری سے کہنا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ بلے اور گیند کے درمیان کچھ زیادہ مقابلہ ہونا چاہیے، کیونکہ آپ کرکٹ کی بات کرتے ہیں۔ لیکن یہ کرکٹ نہیں ہے، یہ صرف بلے بازی ہے۔ سوچیے کہ ایک نوجوان گیند باز اس پچ پر گیند بازی کر رہا ہے، حریف ٹیم ۴۰۰؍رن بناتی ہے اور پھر ہم ۴۰۰؍ رن کا تعاقب کرتے ہیں۔ ظاہر ہے، ریکارڈ کے لئے یہ شاندار ہے، ناظرین کے لئے یہ شاندار ہے، نشریاتی ادارے کیلئے یہ شاندار ہے، لیکن اگر آپ ایک سچے کرکٹ شائق اور کوچ کی حیثیت سے مجھ سے پوچھیں تو مجھے گیند بازوں کے ساتھ بھی ہمدردی رکھنی ہوگی۔ جب آپ اس طرح کی پچ پر گیند بازی کرتے ہیں تو یہ گیند بازوں کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اس لئے ہمیں گیند بازوں کو بھی کچھ مدد دینی چاہیے تاکہ کم از کم ان کے پاس کام کرنے کے لئے کچھ تو ہو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:آئی سی سی نے یکم اکتوبر سے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی۲۰؍ کے قوانین میں تبدیلی کی
گیندبازوں کیلئے ہمدردی کا اظہار
یہ پوچھے جانے پر کہ ایسے حالات کا سامنا کرتے وقت ایک کوچ گیند بازوں کی حمایت کیسے کرسکتا ہے، گمبھیر نے کہا کہ ان کی کارکردگی کا جائزہ گیند بازی کے اعداد و شمار کے بجائے منصوبوں پر عمل درآمد کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ’’پہلی بات یہ ہے کہ آپ کو گیند بازوں کے لئے تھوڑی ہمدردی اور کچھ گنجائش چاہیے۔ اکثر آپ گیند بازوں کے تئیں سخت نہیں ہوسکتے، کیونکہ کبھی کبھی گیند بازی کے اعداد و شمار ایسے ہوتے ہیں کہ انہوں نے اتنی خراب گیند بازی نہیں کی ہوتی جتنی کہ ان کے اعداد و شمار بتاتے ہیں۔ کیونکہ گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، مجھے لگتا ہے کہ آپ صرف اچھی جگہوں پر ہی گیند بازی کرسکتے ہیں کیونکہ اس کے علاوہ اندر ۵؍فیلڈر، ۲؍نئی گیندیں، اور آج کل جس طرح کی طاقتور بلے بازی ہوتی ہے، اسے دیکھتے ہوئے گیند بازوں کے پاس واقعی زیادہ متبادل نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کوچ اور معاون عملے کی حیثیت سے آپ سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا وہ اپنی گیند بازی یا اپنے منصوبوں کو صحیح طریقے سے نافذ کر پائے؟ اگر وہ ایسا کر پائے ہیں تو آپ کو ان کے تئیں زیادہ سخت نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آپ صرف ان کے تجزیے کو دیکھ کر بہت سخت ہوجاتے ہیں تو ہم کبھی بھی گیند باز تیار نہیں کر پائیں گے۔
عاقب نبی کے بارے میں کیا کہا؟
ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے گیندبازوں کی کارکردگی کے تعلق سے کہا کہ ’’ ذرا سوچیے، عاقب نبی اپنا پہلا میچ کھیل رہے ہیں۔ کہیں نہ کہیں آپ کو انہیں تھوڑی حمایت دینے اور ان کے لئے کچھ اضافی گنجائش یا اضافی متبادل رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آج کسی بھی گیند باز کے لیے زیادہ کچھ نہیں تھا۔‘‘
عالمی کپ کیلئے تیاری کر لینی چاپئے
۲۰۲۷ءکے یک روزہ عالمی کپ میں تقریباً ایک سال کا وقت باقی ہونے کے درمیان، گمبھیر نے کہا کہ ہندوستان کے پاس اپنے متبادل طے کرنے کے لئے جتنا وقت دکھائی دے رہا ہے، اس سے کم وقت ہے۔انہوں نے کہاکہ’’آپ نے کہا کہ ایک سال ہے، لیکن اس ایک سال میں ۳؍ماہ انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) میں چلے جائیں گے، ۳؍ ماہ ہندوستان۔آسٹریلیا سیریز میں چلے جائیں گے۔ تو اس سیریز کے بعد ہمارے پاس بمشکل ۲۰؍ یک روزہ میچ ہوں گے اور ۲۰؍ میچ واقعی اتنے زیادہ نہیں ہوتے، جن میں سری لنکا کے خلاف ۳؍اور زمبابوے کے خلاف ۳؍میچ شامل ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ زیادہ وقت نہیں ہے۔ اس لئے ہم جو بھی منصوبہ بناتے ہیں، جو بھی متبادل تیار کرتے ہیں، ہمیں اسے جلد از جلد کرنا ہوگا۔ اس لئے اس سے پہلے، آئی پی ایل کے بعد ہمارے جو بھی متبادل ہوں گے، ہماری ممکنہ بڑی اور وسیع تصویر میں جو بھی ٹیم تیار ہوگی، ہم انہیں آئی پی ایل کے بعد ہی کھلائیں گے۔ اس لیے ابھی ہمارے لئے مختلف متبادل آزمانے کا وقت ہے۔ جس طرح آج عاقب کو موقع ملا، اسی طرح ہم کم از کم زمبابوے سیریز تک دوسرے کھلاڑیوں کو موقع دینے کی کوشش کریں گے اور دیکھیں گے کہ وہ ہمیں اس فارمیٹ میں کیا دے سکتے ہیں۔‘‘
تیسرے میچ میں عاقب کو موقع مل سکتا ہے
انہوں نے کہاکہ’’ہم عاقب کو اگلے میچ میں بھی موقع دے سکتے تھے جب وہ بے نتیجہ میچ ہوتا، لیکن بے نتیجہ میچ میں آپ کے پاس وہ دباؤ نہیں ہوتا جو سیریز جیتنے کے دباؤ کے ساتھ آتا ہے۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ عالمی کپ پوری طرح دباؤ سے تعلق رکھتا ہے۔ کرکٹ اس طرح بدلنے والی نہیں ہے، صرف دباؤ مختلف ہوگا کیونکہ عالمی کپ ۴؍ سال میں ایک بار آتا ہے، اس لئے ہم گیند بازوں کو دباؤ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر گرنور برار۔ گرنور سے پہلے ۱۰؍اووروں میں گیند بازی کرانا، آخری اووروں میں گیند بازی کرانا، مجھے معلوم ہے کہ لوگ ان کے اعداد و شمار کے بارے میں بات کریں گے، لیکن مشکل حالات میں، مشکل صورتحال میں وہ جتنی زیادہ گیند بازی کریں گے، ہندوستانی کرکٹ کیلئے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ کیونکہ آپ ان سے درمیانی اووروں میں گیند بازی کراکر اچھے اعداد و شمار یا اچھے اعداد حاصل کرسکتے ہیں۔ ان سے دفاعی گیند بازی کراسکتے ہیں، لیکن ایسے وقت میں ہم انہیں جتنا زیادہ آزمائیں گے، ہندوستانی کرکٹ کیلئےاتنا ہی اچھا ہوگا۔‘‘