انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی۲۰؍ کرکٹ کی کھیلنے کی شرائط میں کئی تبدیلیاں کی ہیں، جن میں وقت ضائع کرنے، گیند کی خصوصیات، فیلڈنگ اور مختلف فارمیٹس سے متعلق قوانین شامل ہیں۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 10:06 PM IST | Dubai
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی۲۰؍ کرکٹ کی کھیلنے کی شرائط میں کئی تبدیلیاں کی ہیں، جن میں وقت ضائع کرنے، گیند کی خصوصیات، فیلڈنگ اور مختلف فارمیٹس سے متعلق قوانین شامل ہیں۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی۲۰؍ کرکٹ کی کھیلنے کی شرائط میں کئی تبدیلیاں کی ہیں، جن میں وقت ضائع کرنے، گیند کی خصوصیات، فیلڈنگ اور مختلف فارمیٹس سے متعلق قوانین شامل ہیں۔ یہ تبدیلیاں یکم اکتوبر یا اس کے بعد شروع ہونے والی بین الاقوامی سیریز پر لاگو ہوں گی، جبکہ جاری سیریز پرانے قوانین کے تحت جاری رہیں گی۔
یہ تبدیلیاں یکم اکتوبر یا اس کے بعد شروع ہونے والی بین الاقوامی سیریز پر لاگو ہوں گی، جبکہ جاری سیریز سابقہ قوانین کے تحت ہی کھیلی جائیں گی۔ آئی سی سی کی مردوں کی کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین سورَو گنگولی نے کہا کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قوانین کو جدید کرکٹ کے مطابق بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل کے ضوابط میں کچھ اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں کرکٹ کی گیندوں سے متعلق دفعات، فیلڈنگ کے بعض پہلوؤں میں مزید وضاحت اور کھیل کی رفتار بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:نتیش سیواچ نے۶۴؍ سال کا انتظار ختم کیا، گریکو رومن کشتی کا چاندی کا تمغہ جیتا
ہندوستان کے سابق کپتان نے کہا کہ ان تبدیلیوں پر احتیاط سے غور کیا گیا ہے تاکہ کھیل کے ضوابط جدید کرکٹ کی ضروریات کے مطابق رہیں اور کھیل کی سالمیت اور تسلسل بھی برقرار رہے۔ نئے قوانین کے مطابق مقررہ وقت کے اندر گیند کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہ ہونے والے بلے باز کو پہلی خلاف ورزی پر وارننگ اور دوسری خلاف ورزی پر آخری وارننگ دی جائے گی۔ تیسری اور اس کے بعد ہر خلاف ورزی پر فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کو پانچ پنالٹی رنز ملیں گے۔ بار بار خلاف ورزی کرنے پر ضابطۂ اخلاق کے تحت بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔نئے ضوابط میں گیند کے سائز اور وزن سے متعلق بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ آئی سی سی نے مردوں، خواتین اور جونیئر کرکٹ کی گیندوں کے لیے الگ الگ سائز اور وزن مقرر کیے ہیں۔ اس سے پہلے خواتین اور جونیئر کرکٹ میں اکثر ایک ہی گیند استعمال کی جاتی تھی، جس میں محدود حد تک فرق کی اجازت تھی۔ اوورتھرو کی تعریف بھی واضح کی گئی ہے۔ اوورتھرو سے مراد رن روکنے یا رن آؤٹ کی کوشش کے دوران گیند کو وکٹوں کی جانب پھینکنا ہے، جبکہ غلط فیلڈنگ کو اوورتھرو نہیں سمجھا جائے گا۔ امپائر کو یہ فیصلہ کرنے میں بھی زیادہ اختیار ہوگا کہ گیند کا کھیل میں رہنا کب ختم سمجھا جائے۔ اب یہ ضروری نہیں ہوگا کہ گیند لازماً گیندباز یا وکٹ کیپر کے ہاتھ میں ہو۔
یہ بھی پڑھئے:عالیہ بھٹ ارتھ شاٹ پرائز ۲۰۲۶ء کی ممبئی تقریب میں شرکت کریں گی
رن آؤٹ یا اسٹمپنگ کے دوران گیند پکڑنے والے فیلڈر کے لیے گیند پر مکمل کنٹرول ضروری ہوگا۔ صرف گیند کو ہاتھ سے چھونا، جس سے وکٹیں ٹوٹ جائیں، کافی نہیں ہوگا۔اگر دونوں ٹیمیں میچ سے قبل رضامند ہوں تو آزمائشی طور پر ڈے ٹیسٹ میں گلابی گیند استعمال کی جاسکتی ہے، خاص طور پر خراب روشنی کے باعث کھیل میں ہونے والی رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے۔ ایک بار رضامندی کے بعد آزمائش کے دوران اس فیصلے کو تبدیل نہیں کیا جاسکے گا۔
نئے ضوابط کے مطابق اگر اوور مکمل نہ ہوا ہو اور حالات کھیل کے لیے موزوں ہوں تو دن کے آخری اوور کے دوران وکٹ گرنے کے بعد کھیل خود بخود ختم نہیں ہوگا، بلکہ باقی گیندیں کرائی جائیں گی۔ ٹی ۲۰؍ میں اب اننگز کے درمیان ۱۵؍ منٹ کا وقفہ مقرر ہوگا، جسے وقت کے ضیاع کی صورت میں کم کرکے کم از کم ۱۰؍ منٹ کیا جاسکتا ہے۔ ون ڈے اور ٹی۲۰؍ میں اب ہیڈ کوچ یا کوچنگ اسٹاف کا نامزد رکن بھی ڈرنکس بریک کے دوران میدان میں داخل ہوسکے گا۔ محدود اوورز کی کرکٹ میں پہلے سے نافذ وائیڈ بال کے قانون کو بھی مستقل کردیا گیا ہے۔ گیند پھینکے جانے کے وقت بلے باز کے پاؤں کی پوزیشن کو وائیڈ کا فیصلہ کرنے کے لیے معیار بنایا جائے گا، چاہے بلے باز بعد میں آف سائیڈ کی جانب منتقل ہوجائے۔