Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ہم ہتھیار کسی کے سپرد نہیں کریں گے، انہیں محفوظ رکھیں گے‘‘

Updated: August 02, 2026, 12:00 PM IST | Gaza

حماس نے واضح کیا کہ غزہ امن معاہدے کی تمام شقیں ایک دوسرے سے مشروط ہیں، اسرائیل شرائط کی پابندی کرے گا تبھی حماس بھی تمام شقوں پر عمل کرے گا۔

Hamas leader Ghazi Hamad explained the agreement. Photo: INN
حماس لیڈر غازی حماد نے معاہدےکی وضاحت کی۔ تصویر: آئی این این

فلسطینی جنگجو تنظیم حماس نے کہا ہے کہ غزہ امن معاہدے کی شقیں ایک دوسرے سے مشروط ہیں۔ یہ معاہدہ ایک مکمل پیکیج ہے۔ اس لئے یہ بات غلط ہے کہ ہم اپنے ہتھیار کسی کے سپرد کرنے جا رہے ہیں ۔ ہم ان ہتھیاروں کو محفوظ رکھیں گے۔ اگر اسرائیل معاہدے کی پاسداری کرتا ہے تو ہم بھی ان ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریں گے۔ 
یاد رہے کہ ایک روز قبل خبر آئی تھی کہ حماس نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بنائی کوئی پیس کونسل کے ذریعے تجویز کئے گئے امن معاہدے میں مزید ۲؍شرائط کو رتسلیم کر لیا ہے۔ ان میں سے ایک غیر مسلح ہو جانا یا اپنے ہتھیار ڈال دینا بھی ہے۔ اس اعلان کو امریکہ اپنی کامیابی قرار دے رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہےکہ ایران کے خلاف محاذ آرائی میں امریکہ کو جو کامیابی حاصل ہوئی اسی کا اثر ہے کہ ہم حماس کے غیر مسلح ہونے سے متعلق معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ وہائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاکسی کو یقین نہیں تھا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کا معاہدہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ حماس کے اہم اتحادی ایران پر کس قدر دباؤ پڑا ہے۔ ‘‘ لیکن ٹرمپ کی یہ بات ادھوری ہے کیونکہ امن معاہدے میں غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلاء بھی شامل ہو جو پورے تنازع کی جڑ ہے۔ اگر اسرائیلی فوج غزہ کو خالی کر دیتی ہے تو حماس اپنے ہتھیاروں کا استعمال بند کر دے گا۔ اسی کی وضاحت حماس لیڈر ڈاکٹر غازی حماد نے کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ماحولیاتی بحران صرف زمین کو نہیں، ذہنوں کو بھی زخمی کر رہا ہے: عالمی سروے

غازی حماد نے ایک ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ غزہ امن معاہدہ ایک مکمل پیکیج ہے، جس کے کسی ایک حصے پر باقی نکات سے الگ ہو کر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ حماس کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد کا انحصار اسرائیل کی طرف سے اپنی تمام ذمہ داریوں کو مکمل طور پر پورا کرنے پر ہوگا، کیونکہ اسرائیل کا معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا ایک طویل ریکارڈ موجود ہے۔ غازی حماد نے کہا کہ حماس نے ثالثوں اور فلسطینی گروپوں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد اس معاہدے پر رضامندی ظاہر کی ہے، کیونکہ غزہ کے حالات انسانی اور سیکوریٹی کے اعتبار سے انتہائی مشکل ہیں۔ موجودہ مرحلہ غیر معمولی ہے اور غزہ کے عوام کو بچانے کیلئے غیر معمولی فیصلوں کی ضرورت ہے۔ حماد نے مزید کہا کہ حماس اس معاہدے سے خوش نہیں ہے، تاہم غزہ میں تباہی اور انسانی مشکلات کی شدت نے جنگ روکنے اور ایک نئے مرحلے کی طرف بڑھنے کیلئے راستہ تلاش کرنا ضروری بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا’’اگر اسرائیل منصوبے کی شقوں پر عمل نہیں کرے گا تو ہم بھی اپنی ذمہ داریوں کی پابندی نہیں کریں گے۔ اسی لئے ہم اسلحہ کسی کے حوالے نہیں کریں گے بلکہ اسے محفوظ رکھا جائے گا۔ 
امریکہ کا بیان کچھ اور اسرائیل کا کچھ اور 
اس معاہدے کے بعد ایک طرف امریکہ نے وعدہ کیا ہے کہ اسرائیل معاہدے پر عمل کرتے ہوئے اپنی فوجیں غزہ سے ہٹالے گا لیکن دوسری طرف اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے اس معاہدے کو نا قابلِ قبول قرار دے دیا ہے۔ ایتمار بن گویر نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پرلکھا ہے کہ ۷؍ اکتوبر کے واقعات کے بعد حماس کا ہر رکن ایک جائز نشانہ بن چکا ہے۔ حماس کارکنان کو نشانہ بنانے سے روکناتحریک کو دوبارہ منظم کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ ٹارگٹیڈ کلنگ کی کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں۔ مقامی آبادی کو نقل مکانی پر مجبورکرنا چاہئے اور اسرائیل کو فتح حاصل کرنی چاہئے۔ دوسری طرف امریکہ نے حماس کے وفد کی موجودگی میں ایک ثالث کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں یہ ضمانت دی ہے کہ غزہ میں امن معاہدے کو نافذکرنے میں باہمی عمل درآمد کے اصول کی پاسداری کی جائے گی۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو اسکی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق واشنگٹن نے اس بات کا تیقن دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو معاہدے کی شقوں پر عمل کرنے کا پابند بنائے گا۔ انخلا اور طے شدہ تمام ذمہ داریوں کو ادا کیا جائے گا۔ معاہدے میں غزہ سے اسرائیلی فوج کر انخلاء اور حماس کے کارکنان پر حملہ نہ کرنا سب سے اہم شقیں ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK