• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نبی کریمؐ نے صحابہ کرامؓ کے مزاج کی اصلاح کرکے دنیائے انسانی میں انقلاب پیدا کردیا

Updated: September 18, 2026, 4:02 PM IST | Dr. Ahmed Urooj Mudassir | Akola

آپؐ جانتے تھے کہ انسان کو صرف یہ بتا دینا کافی نہیں کہ کیا غلط ہے؛ اسے اس مقام تک پہنچانا بھی ضروری ہے جہاں وہ خود غلط اور درست میں امتیاز کرکے درست راستے کو اختیار کرسکے۔

A study of the Prophet’s Seerah reveals that the training imparted by the Prophet (PBUH) does not advocate fleeing from the world; rather, it seeks to establish a correct relationship with it. Picture: INN
سیرتِ نبویؐ کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ نبوی تربیت میں دنیا سے فرار نہیں بلکہ دنیا کے ساتھ درست تعلق پیدا کرنا مطلوب ہے۔ تصویر: آئی این این

تاریخ کے بڑے انقلاب عموماً آنکھوں کو دکھائی دیتے ہیں، کہیں تخت الٹتے ہیں، کہیں تاج بدلتے ہیں، کہیں سلطنتوں کی سرحدیں سمٹتی اور پھیلتی ہیں، کہیں نئے قوانین جنم لیتے ہیں اور کہیں پرانے نظام زمین بوس ہوجاتے ہیں۔ لیکن انسانی تاریخ کا سب سے گہرا انقلاب وہ ہوتا ہے جو آنکھوں کے سامنے نہیں، انسان کے اندر برپا ہوتا ہے، جب اس کی سوچ کا مرکز بدل جائے، اس کی ترجیحات نئی ہوجائیں، خواہشات کو نئی سمت ملے، غصہ ضبط میں ڈھل جائے، طاقت ذمہ داری بن جائے، تعلقات مفاد سے نکل کر اخوت میں داخل ہوجائیں اور زندگی کا مقصد اپنی ذات سے بلند کسی حقیقت سے وابستہ ہوجائے۔ رسول اکرم ﷺ کا انقلاب اسی نوع کا انقلاب تھا۔ آپؐ  نے سب سے پہلے انسان کو بدلا اور پھر انہی بدلے ہوئے انسانوں سے ایک ایسا معاشرہ تشکیل پایا جس نے دنیا کے فکری، اخلاقی اور اجتماعی نقشے کو بدل دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس انقلاب کے محض ناظر نہیں تھے؛ وہ اس کے پہلے مخاطب، پہلے تربیت یافتہ اور پھر اس کے امین بنے۔ ان میں سے ہر شخص اپنی فطرت، مزاج، صلاحیت، سابقہ زندگی اور انسانی کمزوریوں کے ساتھ آیا، مگر نبوی صحبت نے ان کے اندر موجود قوتوں کو ایسی سمت عطا کردی کہ ان کی ذات اپنے زمانے سے بلند ہوگئی۔ کسی کی شجاعت عدل کی محافظ بن گئی، کسی کی دولت سخاوت کا وسیلہ، کسی کی زبان دعوت کا ذریعہ، کسی کی نرمی رحمت کی علامت اور کسی کی سخت طبیعت حق پر استقامت کا مظہر۔ آپؐ نے انسانوں کو ایک ہی سانچے میں نہیں ڈھالا؛ مختلف طبیعتوں کو ایک ہی مقصد کے گرد جمع کرکے ایک ایسی جماعت پیدا کی جس کی شخصیتوں میں تنوع تھا، اور اقدار میں وحدت۔

یہ بھی پڑھئے: تعلیمات ِنبویؐ کی روشنی میں تدریسی و اخلاقی ذمہ داریاں

نبوی تربیت کی بنیاد انسان کو سمجھنے پر تھی۔ قرآن مجید نے اللہ کے رسولؐ کے اسی اسلوب کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی رحمت سے آپ ؐ ان کے لئے نرم ہوگئے، اور اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہوجاتے؛ پھر انہیں معاف کرنے، ان کیلئے مغفرت مانگنے اور معاملات میں ان سے مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ (آل عمران:۱۵۹) یہ آیت صرف ایک اخلاقی خوبی کی تعریف نہیں کرتی بلکہ تربیت کے ایک عظیم اصول کو سامنے لاتی ہے: انسان کی اصلاح اس کی عزت باقی رکھتے ہوئے کی جائے۔ غلطی کو غلطی کہا جائے، مگر انسان کو اس کی غلطی کے برابر نہ کردیا جائے؛ اسے حکم دیا جائے، مگر اس کی شخصیت کو بے وقعت نہ بنایا جائے؛ اس کی کمزوری کو دیکھا جائے، مگر اس کے اندر موجود امکان کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اللہ کے رسولؐکی تربیت اسی شعور پر قائم تھی۔ آپؐ  جانتے تھے کہ انسان کو صرف یہ بتا دینا کافی نہیں کہ کیا غلط ہے؛ اسے اس مقام تک پہنچانا بھی ضروری ہے جہاں وہ خود غلط اور درست میں امتیاز کرکے درست راستے کو اختیار کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ؐکی صحبت میں رہنے والا شخص محض احکام کا حافظ نہیں بنتا تھا، اس کی طبیعت آہستہ آہستہ ان احکام کے مطابق ڈھلنے لگتی تھی۔

انسانی مزاج کی سب سے مشکل اصلاح جذبات کے میدان میں ہوتی ہے، کیونکہ جذبات دلیل سے پہلے حرکت کرتے ہیں۔ آدمی خوشی میں اپنے آپ کو سنبھال لے تو یہ آسان ہے، لیکن غصے کے وقت زبان روک لینا، طاقت ہوتے ہوئے انتقام نہ لینا اور اشتعال کے باوجود عدل سے نہ ہٹنا ایک تربیت یافتہ شخصیت کی علامت ہے۔ ایک شخص نے  آپؐ سے نصیحت طلب کی تو آپؐ  نے فرمایا: ’’غصہ نہ کرو۔‘‘ وہ بار بار پوچھتا رہا اور آپؐ  ہر مرتبہ یہی فرماتے رہے۔ (صحیح بخاری) یہ مختصر نصیحت انسانی شخصیت کے ایک بڑے مرض کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ غصہ انسان کو چند لمحوں کے لئے اپنے ہی فیصلوں کا غلام بنا دیتا ہے۔ آپؐ نے اسے یہ نہیں سکھایا کہ جذبات ختم کردو؛ یہ سکھایا کہ جذبات تمہارے فیصلوں کے مالک نہ بن جائیں۔ اسی حقیقت کو ایک دوسری حدیث میں اس طرح بیان فرمایا کہ طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو کشتی میں پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) یوں قوت کا معیار ہی بدل گیا۔ جاہلی معاشرے میں طاقت کا اظہار غلبے سے ہوتا تھا؛ نبوی تربیت نے بتایا کہ سب سے پہلی فتح اپنے نفس پر ہے۔ یہ تبدیلی صرف ایک اخلاقی نصیحت نہ تھی؛ اس نے صحابہ کی شجاعت کو ایک نئی روح عطا کی۔ ان کے اندر قوت باقی رہی، مگر قوت خواہش کی غلام نہ رہی؛ غیرت باقی رہی، مگر غیرت عصبیت میں نہ ڈھلی؛ غصہ باقی رہا، مگر غصہ عدل کی حدود سے باہر نہ نکلا۔

جذبات کی تہذیب کے بعد انسانی تعلقات کی اصلاح خود بخود سامنے آتی ہے، کیونکہ آدمی دوسروں کے ساتھ وہی برتاؤ کرتا ہے جو اس کے اندر کی دنیا اسے سکھاتی ہے۔ عرب معاشرے میں قبیلہ انسان کی شناخت، وفاداری اور تحفظ کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ آدمی اپنے قبیلے کے ساتھ کھڑا ہوتا، خواہ حق اس کے ساتھ ہو یا باطل۔ اسلام نے اس انسانی وابستگی کو محض توڑا نہیں بلکہ اسے ایک وسیع تر اخلاقی رشتے میں تبدیل کردیا۔ ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار کے درمیان جو اخوت قائم ہوئی، وہ اسی تبدیلی کی عملی تصویر تھی۔ قرآن نے انصار کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ان کے پاس ہجرت کرکے آئے، ان کے دلوں میں ان کے لئے کوئی تنگی نہیں اور اپنی ضرورت کے باوجود انہیں اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔ (الحشر:۹) یہاں ایک معاشرتی حکم سے زیادہ ایک قلبی انقلاب دکھائی دیتا ہے۔ انسان کی فطری ترجیح اپنی ذات، اپنے گھر، اپنے مال اور اپنے قریبی لوگوں سے شروع ہوتی ہے؛ نبوی تربیت نے اس دائرے کو وسیع کیا اور انسان کو یہ سکھایا کہ دوسرے کی ضرورت بھی میرے اخلاقی شعور کا حصہ ہے۔ انصار نے مہاجرین کیلئے اپنے گھر اور وسائل کھولے، مہاجرین نے اپنے وطن، کاروبار اور آسائشیں چھوڑیں، اور یوں دو مختلف پس منظر رکھنے والے گروہ ایک ایسی اخوت میں بندھ گئے جس کی بنیاد خون، زمین اور قبیلہ نہیں بلکہ ایمان، محبت اور مقصد تھا۔ یہ وہ تبدیلی تھی جس نے ایک منتشر معاشرے کو جماعتی شعور عطا کیا۔

یہ بھی پڑھئے:فتاوے: تقسیم پہ رضامندی کے بعد انکار، مسافر امام کی اقتداء، ایئر فون لگاکر نماز پڑھنا

اسی جماعتی شعور کے ساتھ حضورؐنے صحابہ کی شخصی صلاحیتوں کو بھی محفوظ رکھا۔ آپؐ  نے سب کو ایک جیسا نہیں بنایا، بلکہ ہر شخص کی نمایاں خوبی کو خیر کے میدان میں استعمال کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نرم دلی اور صدق نے انہیں وفاداری اور قربانی کی مثال بنایا؛ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قوت اور جلال عدل کی قوت بن گئے؛ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حیا اور سخاوت امت کی خدمت کا ذریعہ بنیں؛ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے علم اور شجاعت نے انہیں امت کی علمی و عملی تاریخ کا روشن کردار بنایا؛ حضرت بلالؓ کی استقامت نے ثابت کردیا کہ ظاہری کمزوری ایمان کی قوت کو شکست نہیں دے سکتی؛ حضرت مصعب بن عمیرؓ نے جوانی، حسن اور آسائش کے باوجود مقصد کے سامنے دنیا کو چھوڑ دینے کی مثال قائم کی۔ رسولؐ اللہ کی تربیت نے ان کی فطری قوتوں کو ختم نہیں کیا بلکہ ان کی سمت درست کی۔ یہ انسانی شخصیت کی اصلاح کا نہایت اہم پہلو ہے: صلاحیت کو دبانا تربیت نہیں؛ صلاحیت کو صالح مقصد دینا تربیت ہے۔

اسی لئے نبوی تربیت میں دنیا سے فرار نہیں بلکہ دنیا کے ساتھ درست تعلق پیدا کرنا مطلوب تھا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا واقعہ اس توازن کو نہایت خوب صورتی سے سامنے لاتا ہے۔ حضرت سلمانؓ نے ابو الدرداءؓ کو عبادت میں اس قدر انہماک کے ساتھ دیکھا کہ انہیں یاد دلایا: تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے اہل کا بھی تم پر حق ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے اس بات کی تصدیق فرمائی: ’’سلمان نے سچ کہا۔‘‘ (صحیح بخاری) اس واقعے میں انسانی زندگی کے کئی پہلو ایک ساتھ متوازن ہوجاتے ہیں۔ عبادت انسان کی روح کو بلند کرتی ہے، مگر جسم کی ضرورت بھی حق ہے؛ خاندان ذمہ داری ہے، مگر عبادت سے غفلت بھی درست نہیں۔ نبوی تربیت انسان کو یک رُخا نہیں بناتی بلکہ اس کی زندگی کے مختلف تقاضوں میں عدل پیدا کرتی ہے۔ یہی توازن بعد میں صحابہ کی اجتماعی زندگی میں نمایاں ہوا۔ وہ تاجر بھی تھے اور عابد بھی، مجاہد بھی تھے اور گھر والے بھی، حکمراں بھی تھے اور طالبِ علم بھی؛ مگر ان تمام حیثیتوں کے اوپر بندگی اور جواب دہی کا شعور قائم تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، وقت دراصل زندگی ہے، اور زندگی دوبارہ نہیں ملتی!

نبوی تربیت کی روشن مثال حضرت انسؓ بن مالک

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی دس سالہ رفاقت اس تربیتی مزاج کی نہایت روشن شہادت ہے۔ وہ کم عمری میں حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور دس برس آپؐ کے ساتھ رہے۔ ایک بچے سے بھول چوک کا امکان ہر لمحہ رہتا ہے، لیکن حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ آپؐ نے ان دس برسوں میں کبھی انہیں ’’اُف‘‘ تک نہیں کہا، نہ کسی کام کے کرنے پر یہ پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور نہ کسی کام کے چھوڑنے پر یہ کہا کہ تم نے اسے کیوں نہیں کیا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) 

اس روایت کی عظمت اس کے الفاظ سے زیادہ اس مدت میں پوشیدہ ہے جس کا یہ احاطہ کرتی ہے۔ دس برس کسی شخصیت کو بنانے کیلئے کم نہیں ہوتے۔ اگر تربیت خوف، تحقیر اور مسلسل سرزنش کے ذریعے کی جائے تو انسان شاید حکم ماننے لگے، لیکن اس کے اندر اعتماد، محبت اور ذمہ داری کی وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی جو اسے آگے بڑھنے کے قابل بنائے۔ اللہ کے رسولؐ نے حضرت انسؓ کی شخصیت کو ڈانٹ کے بوجھ تلے نہیں دبایا؛ انہیں صحبت، اعتماد اور حسنِ معاملہ کے ذریعے پروان چڑھایا۔ 

نتیجہ یہ ہوا کہ یہی انسؓ آگے چل کر علمِ حدیث کے عظیم راوی بنے اور امت نے ان کے ذریعے نبوی زندگی کے بے شمار پہلو محفوظ کیے۔ یہ تربیت کی وہ صورت ہے جس میں مربی اپنے زیرِ تربیت شخص کو اپنے خوف کا اسیر نہیں بناتا بلکہ اسے اپنی صلاحیت پہچاننے کا موقع دیتا ہے۔

جب مزاج سنور جاتا ہے، تعلقات درست ہوجاتے ہیں اور زندگی میں توازن پیدا ہوجاتا ہے تو تربیت کا اگلا مرحلہ ذمہ داری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو ہمیشہ اپنے گرد بٹھائے نہیں رکھا بلکہ انہیں عملی میدان میں اتارا۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ کو مدینہ میں تعلیم و دعوت کے لیے بھیجا گیا۔ حضرت معاذ بن جبل ؓکو یمن روانہ کیا گیا۔ حضرت اسامہ بن زید ؓکو کم عمری کے باوجود ایک لشکر کی قیادت سونپی گئی۔ یہ مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ نبوی تربیت کا مقصد صرف اچھے تابع پیدا کرنا نہیں تھا؛ مقصد ایسے انسان پیدا کرنا تھا جو ذمہ داری اٹھا سکیں۔ قرآن نے بھی  آپؐ کے اس مزاج میں مشاورت کو ایک نمایاں مقام دیا: ’’اور ان سے معاملات میں مشورہ کیجئے۔‘‘ (آل عمران: ۱۵۹) مشاورت انسان کو یہ احساس دیتی ہے کہ اس کی رائے کی قدر ہے، اس کی ذمہ داری حقیقی ہے اور اسے اجتماعی خیر میں اپنا حصہ ادا کرنا ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے صحابہ کو اعتماد دیا، ان کی صلاحیتوں کو آزمایا، انہیں مختلف میدانوں میں کام کرنے کا موقع دیا اور یوں ان کے اندر خود ذمہ داری کا شعور پیدا کیا۔ اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ آپؐ کے وصال کے بعد وہ ایک شخصیت کے سہارے کھڑی جماعت نہ رہے؛ انہوں نے علم سنبھالا، دعوت پھیلائی، حکومت چلائی، عدل قائم کیا اور نئی نسلوں کی تربیت کی۔

یہ بھی پڑھئے: بچوں کو صرف مستقبل کا وارث نہ سمجھیں انہیں مستقبل کا معمار بنانے کی جہد کریں

یہاں نبوی انقلاب کی وہ جہت سامنے آتی ہے جو اسے دنیا کے بیشتر تاریخی انقلابات سے ممتاز کرتی ہے۔ آپؐ  نے ایسا نظام نہیں بنایا جو صرف آپؐ کی موجودگی میں چلتا؛ آپؐ نے ایسے انسان بنائے جو آپؐ  کی تربیت کے بعد خود خیر کے امین بن سکیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالی، حضرت عمرؓ نے عدل و نظم کو نئی بلندی دی، حضرت عثمانؓ نے قرآن کے مصاحف کی تدوین و اشاعت کے عظیم کام میں مرکزی کردار ادا کیا، حضرت علیؓ نے علم و فقہ کی روایت قائم کی جس سے نسلیں مستفید ہوئیں، اور بے شمار صحابہ رضی اللہ عنہم نے تعلیم، دعوت، قضا، جہاد اور اصلاح کے میدانوں میں اپنے عظیم  ذمہ داری اٹھائی۔ اگر نبوی تربیت صرف اطاعت پیدا کرتی تو آپؐ  کے وصال کے بعد خلا پیدا ہوتا؛ مگر آپؐ  نے اطاعت کے ساتھ بصیرت، محبت کے ساتھ ذمہ داری اور ایمان کے ساتھ کردار پیدا کیا ۔ اسی لئے وہ جماعت تاریخ کے ایک موڑ پر رک نہیں گئی، ٹھہر نہیں گئی، کہیں کنفیوژ نہیں ہوئی بلکہ آگے بڑھتی چلی گئی۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں اس داخلی انقلاب کی زندہ شہادت ہیں۔ ان کے حالات کو غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نبوی تعلیم نے صرف ان کے اعمال نہیں بدلے بلکہ ان اعمال کے پیچھے موجود محرکات کو بھی بدل دیا تھا۔ عزت اب نسب اور قبیلے کی محتاج نہ رہی؛ تقویٰ معیار بن گیا۔ دولت صرف جمع کرنے کی چیز نہ رہی؛ امانت بن گئی۔ شجاعت محض دشمن پر غلبہ حاصل کرنے کا نام نہ رہی؛ حق کے لئے ثابت قدم رہنے کا وصف بن گئی۔ زبان صرف اظہارِ ذات کا وسیلہ نہ رہی؛ حق، خیر خواہی اور نصیحت کی ذمہ دار ہوگئی۔ طاقت صرف اپنے اختیار کے اظہار کا ذریعہ نہیں رہی؛ کمزور کے حق کی حفاظت کا وسیلہ بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ انفرادی اصلاح اجتماعی قوت میں تبدیل ہوئی۔ ایک شخص بدلتا ہے تو اس کا گھر متاثر ہوتا ہے، کئی گھر بدلیں تو محلہ بدلتا ہے، محلے بدلیں تو معاشرہ بدلتا ہے، اور جب معاشرے کے اخلاقی پیمانے بدل جائیں تو تاریخ اپنا رخ بدل دیتی ہے۔

اللہ کے نبیؐ کی تربیت کا کمال یہ بھی تھا کہ آپؐ  نے انسان کو اس کی کمزوریوں کے باوجود قبول کیا، مگر اسے کمزوریوں کے حوالے نہیں کیا۔ جو شخص غصے والا تھا اسے ضبط سکھایا، جو جاہل تھا اسے علم دیا، جو سخت تھا اس کے اندر رحمت پیدا کی، جو خود غرض تھا اسے ایثار کا ذوق دیا، جو بکھرا ہوا تھا اسے مقصد عطا کیا اور جو اپنی ذات کے گرد محدود تھا اسے امت اور انسانیت کی خیر خواہی کے وسیع میدان میں کھڑا کردیا۔ اس تربیت میں محبت بھی تھی اور احتساب بھی، نرمی بھی تھی اور اصول بھی، معافی بھی تھی اور ذمہ داری بھی۔ 

یہ بھی پڑھئے:یاد رہے، وقت دراصل زندگی ہے، اور زندگی دوبارہ نہیں ملتی!

یہی امتزاج نبوی تربیت کو محض جذباتی شفقت بننے سے بچاتا ہے۔ اگر صرف نرمی ہوتی تو شخصیت میں مضبوطی نہ آتی، اگر صرف سختی ہوتی تو دل قریب نہ آتے؛ رسولؐ اللہ  نے دونوں کے درمیان ایسا توازن قائم کیا جس میں انسان محبت کے ماحول میں اپنی اصلاح قبول کرتا اور ذمہ داری کے میدان میں اپنی صلاحیت ظاہر کرتا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ کے اندر پیدا ہونے والی تبدیلی وقتی نہیں تھی۔ وقتی تبدیلی حالات کے بدلنے سے ختم ہو جاتی ہے، مگر جب انسان کی قدر و قیمت کا تصور، مقصدِ حیات اور اخلاقی شعور بدل جائے تو تبدیلی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ آپؐ  نے صحابہ کو صرف یہ نہیں بتایا کہ کون سا عمل درست ہے؛ بلکہ آپؐ نے ان کے اندر درست عمل کی محبت بھی پیدا کی۔ صرف یہ نہیں بتایا کہ ظلم برا ہے؛ عدل کو ان کیلئے قدر بنادیا۔ صرف یہ نہیں کہا کہ غریب کی مدد کرو؛ سخاوت اور ایثار کو دل کی کیفیت بنادیا۔ صرف غصے سے روکنے پر اکتفا نہیں کیا؛ نفس پر قابو پانے کو قوت کا معیار بنادیا۔ صرف اخوت کا حکم نہیں دیا؛ مہاجر اور انصار کو ایک دوسرے کے دکھ سکھ کا شریک بنادیا۔ جب حکم دل کی قدر بن جائے تو عمل بوجھ نہیں رہتا؛ کردار بن جاتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں نبوی انقلاب کی معنویت پوری طرح آشکار ہوتی ہے۔ حضور اقدسؐ نے صحابہ کے ظاہری حالات سے پہلے ان کے اندر کی ترجیحات تبدیل کیں۔ ان کے لئے زندگی کا مرکز بدل گیا تو زندگی کے فیصلے بھی بدل گئے۔ ان کے فیصلے بدلے تو عادات بدلیں، عادات بدلیں تو کردار نمایاں ہوا، کردار بدلا تو تعلقات کا انداز بدلا، اور تعلقات بدلے تو معاشرے کی ساخت میں تبدیلی آگئی۔ اس پورے عمل میں کوئی تصنع یا مصنوعی پن نہیں تھا۔ نہ ان کی فطرت ختم ہوئی، نہ ان کی شخصی شناخت؛ بلکہ ان کی فطرت کو تزکیہ ملا اور ان کی صلاحیتوں کو مقصد۔ یہی وجہ ہے کہ نبوی معاشرہ یک رنگ معاشرہ نہیں تھا؛  وہاں نیرنگی تھی، تنوع تھا، رنگا رنگی تھی، مختلف مزاج، مختلف صلاحیتیں اور مختلف طبیعتیں موجود تھیں، مگر سب ایک اخلاقی مرکز سے وابستہ تھیں۔

دنیائے انسانی میں آپؐ کے برپا کردہ انقلاب کو اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آپؐ  نے سب سے پہلے انسان کے اندر یہ احساس پیدا کیا کہ وہ بے مقصد نہیں ہے، اس کی زندگی جواب دہ ہے؛ وہ صرف اپنی ذات کیلئے نہیں، دوسروں کے حقوق کے لئے بھی ذمہ دار ہے؛ اس کی قوت صرف اس کی ملکیت نہیں، اللہ کی عطا ہے؛ اس کا مال صرف اس کا حق نہیں، اس میں محتاج کا حصہ بھی ہے؛ اس کی زبان آزاد نہیں، اس سے نکلنے والے ہر لفظ کی اخلاقی قیمت ہے؛ اس کا غصہ اس کا حاکم نہیں، اسے اپنے نفس کا نگہبان بننا ہے۔ جب یہ شعور انسان کی شخصیت میں اتر گیا تو صحابہرضی اللہ تعالیٰ عنہم  کے کردار میں وہ پختگی پیدا ہوئی اور شخصیتوں میں ایسا استحکام در آیا کہ جس نے انہیں تاریخ کے سب سے مؤثر انسانی گروہوں میں تبدیل کردیا۔

یہ بھی پڑھئے:قصہ سات جواں مَردوں کا

سروردوعالم ؐ نے صحابہ کو صرف ایک نیا عقیدہ نہیں دیا، ایک نیا انسان دیا۔ آپؐ نے ان کے ذہنوں کو وحی سے روشن کیا، دلوں کو ایمان سے زندہ کیا، مزاجوں کو اخلاق سے سنوارا، جذبات کو ضبط سکھایا، تعلقات کو اخوت عطا کی، صلاحیتوں کو مقصد بخشا اور زندگی کو آخرت کی جواب دہی سے جوڑ دیا۔ پھر یہی تربیت یافتہ انسان مکہ سے مدینہ، مدینہ سے عرب اور عرب سے دنیا کے مختلف گوشوں تک خیر، علم، عدل اور دعوت کا پیغام لے کر پہنچے۔ ان کی طاقت اس لئے مؤثر ہوئی کہ وہ نفس کی غلام نہیں تھی؛ ان کی دولت اس لئے بابرکت ہوئی کہ وہ ذاتی نمود کی اسیر نہ تھی؛ ان کی قیادت اس لئے دیرپا ہوئی کہ اس کے پیچھے جواب دہی کا احساس تھا۔

نبویؐ تربیت کی حکمت!

دنیا بدلنے کا راستہ ہمیشہ دنیا سے شروع نہیں ہوتا؛ کبھی وہ ایک دل سے شروع ہوتا ہے۔ ایک دل کی اصلاح سے ایک کردار بنتا ہے، کردار گھر سے بنتا ہے ، گھروں سے معاشرہ بنتا ہے اور معاشرہ سے تاریخ۔ اللہ کے رسولؐ   نے اسی بنیادی حقیقت پر انسانی تعمیر کی۔ آپ ؐ نے صحابہ کے مزاج کی اصلاح کی، مگر اس اصلاح کو محض شخصی خوبی نہ رہنے دیا؛ اسے کردار بنایا، کردار کو جماعتی قوت بنایا اور جماعتی قوت کو انسانیت کی خیر خواہی کا ذریعہ بنادیا۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کی زندگیاں آج بھی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ انسان جب اپنی خواہش کی غلامی چھوڑ دے، اپنے نفس پر حکومت کرنا سیکھ لے، اپنے مقصد کو بلند کرلے اور اپنے اخلاق کو وحی کے تابع کردے تو اس کی ذات محض ایک فرد نہیں رہتی، وہ اپنے عہد کی تعمیر میں شریک ہوجاتی ہے۔

عمل کا راستہ، عمل کی روح

خاتم النببینؐ نے صحابہ کے ہاتھوں میں صرف عمل کا راستہ نہیں رکھا؛ ان کے دلوں میں عمل کی روح پیدا کردی۔ آپ ؐ نے ان کی قوت کو ختم نہیں کیا، اسے حق کا محافظ بنایا؛ ان کے جذبات کو دبایا نہیں، انہیں اخلاق کا تابع کیا؛ ان کی شخصیات کو مٹایا نہیں، انہیں تزکیے سے نکھارا؛ ان کی زندگی کو محدود نہیں کیا، اسے مقصد سے وسیع کردیا۔ چنانچہ وہ لوگ جو کبھی اپنی ذات، اپنے قبیلے اور اپنے مفاد کے دائرے میں گھومتے تھے، ایسے انسان بن گئے جن کی نگاہ پوری انسانیت کی خیر پر تھی۔ ان کی اصلاح انفرادی تھی مگر اس کے اثرات اجتماعی ہوئے؛ ان کی تربیت چند برسوں میں ہوئی مگر اس کے ثمرات صدیوں تک پھیلتے گئے۔یہی نبوی انقلاب کا راز ہے: اللہ کے رسولؐنے پہلے انسان کے اندر دنیا بدلی، پھر اسی بدلی ہوئی دنیا کو انسانوں کے درمیان پھیلا دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مزاج سنورے تو کردار سنورے، کردار سنورے تو معاشرہ سنورا، اور جب معاشرہ سنورا تو تاریخ نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK