• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جب وقت کا ’رستم‘ حیران رہ جاتا ہے!

Updated: October 02, 2026, 4:42 PM IST | Mumbai

۱۴؍سو قبل کا تاریخ کا ایک سبق جسے آج بھی انسانیت سمجھنے کی کوشش کررہی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ہر جنگ دو محاذوں پر لڑی جاتی ہے۔ایک محاذ زمین پر ہوتا ہے، جہاں ٹینک، میزائل، طیارے اور بحری بیڑے ہوتے ہیں۔ دوسرا محاذ انسان کے دل کے اندر ہوتا ہے جہاں خوف، اُمید، یقین، مقصد اور قربانی کا جذبہ ہوتا ہے۔ پہلے محاذ پر ہتھیار فیصلہ کرتے ہیں اوردوسرے محاذ پر ایمان، نظریہ اور حوصلہ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب یہ دوسرا محاذ شکست کھا جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی فوج خواہ کتنی ہی طاقتور ہو، کسی قوم کو زیادہ دیر تک سہارا نہیں دے سکتی  لیکن اگر دل کے اندر یقین زندہ ہو، تو وسائل کی کمی بھی ہمیشہ فیصلہ کن ثابت نہیں ہوتی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں چودہ سو سال پیچھے لے جاتی ہے۔ فارس کی عظیم سلطنت اپنے عروج پر تھی۔ اس کے دربار کی شان و شوکت، اس کی فوجوں کی کثرت، اس کے خزانے، اس کے محل اور اس کا غرور، سب کچھ اس یقین سے لبریز تھا کہ دنیا میں اس کے مقابلے کی کوئی طاقت باقی نہیں رہی۔ پھر ایک دن اس کے دربار میں ایک ایسا شخص داخل ہوا جس کے لباس میں کوئی شاہانہ جاہ و جلال نہ تھا، جس کے ہاتھ میں کوئی سونے کا عصا نہ تھا، اور جس کے پیچھے ہزاروں محافظ نہ تھے۔ لیکن اس کی آنکھوں میں وہ اعتماد تھا جو دنیا کے بڑے بڑے تاجداروں کے پاس بھی نہیں تھا۔وہ حضرت رِبعی بن عامرؓ تھے۔

یہ بھی پڑھئے: بیمار کی عیادت کیجئے خواہ وہ مسلم ہو یا غیرمسلم

رستم نے اس دن صرف ایک آدمی کو نہیں دیکھا۔اس نے پہلی مرتبہ ایک ایسے انسان کو دیکھا جس نے خوف سے آزادی حاصل کر لی تھی۔اور جب کوئی انسان خوف سے آزاد ہوجائے، تو پھر تاریخ کا رخ بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
رستم کے دربار میں آنے والے اس اجنبی کے ہاتھ میں نہ کوئی شاہی فرمان تھا، نہ کسی سلطنت کا پروانہ، نہ دولت کا غرور اور نہ لشکروں کی تعداد کا فخر۔ اس کے پاس اگر کچھ تھا تو  یقین تھا جسے نہ خریدا جا سکتا تھا، نہ چھینا جا سکتا تھا۔ایسا یقین جو پختہ اور غیر متزلزل تھا۔ 
یہی یقین ہر دور کی طاقت کے لئے سب سے بڑا معمہ رہا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں رستم کے دربار کی وہ مختصر ملاقات ایک دائمی سبق بن جاتی ہے۔ رستم کے سامنے کھڑا شخص صرف ایک سپاہی نہیں تھا۔وہ ایک ایسے تصورِ حیات کا نمائندہ تھا جس نے انسان کو یہ سکھایا تھا کہ عزت کا سرچشمہ طاقت نہیں، حق ہے۔ زندگی کا مقصد صرف زندہ رہنا نہیں، بلکہ سچ پر قائم رہنا ہے۔ اور موت کا خوف اس انسان کو غلام بنا سکتا ہے جس نے زندگی کو ہی اپنی آخری منزل سمجھ لیا ہو۔ رستم نے اس دن ایک لشکر نہیں دیکھا تھا۔ اس نے ایک ایسی فکر کو دیکھا تھا جسے شکست دینا تلواروں سے ممکن نہیں تھا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ہمیں حضرت رِبعی بن عامرؓ اور رستم کے درمیان ہونے والے اس تاریخی مکالمے کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، کہ اس مختصر گفتگو میں طاقت، آزادی، ایمان اور انسانی وقار کا فلسفہ پوشیدہ ہے۔
ذرا تصور کیجئے۔ایک طرف فارس کی عظیم سلطنت ہے۔ محلوں کی شان و شوکت، قیمتی قالین، ریشمی پردے، سونے چاندی سے مزین ستون، درباریوں کی قطاریں، جرنیلوں کی تلواریں اور ایک ایسا سپہ سالار جسے یقین ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کی سلطنت کو چیلنج نہیں کرسکتی۔ دوسری طرف عرب کے صحرا سے آنے والا ایک شخص۔ سادہ لباس، سادہ ہتھیار، کوئی ظاہری جاہ و جلال نہیں۔  روایات میں آتا ہے کہ حضرت رِبعی بن عامرؓ اپنے گھوڑے سمیت دربار میں داخل ہوئے۔ درباریوں نے شاہی آداب کا تقاضا کیا، مگر انہوں نے اس تکلف کو قبول نہ کیا۔ ان کے لیے اصل عظمت محل کی نہیں، اس پیغام کی تھی جس کے وہ نمائندہ تھے۔ رستم حیرت سے اس شخص کو دیکھ رہا تھا۔ وہ شاید یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ آخر اس اعتماد کا سرچشمہ کیا ہے؟ یہ شخص کس طاقت کے سہارے ایک عظیم سلطنت کے قلب میں اس بے خوفی کے ساتھ کھڑا ہے؟
رستم نے سوال کیا: ’’تم یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘یہ بظاہر ایک سفارتی سوال تھا، لیکن حقیقت میں یہ دو تہذیبوں کا مکالمہ تھا۔ ایک تہذیب جو طاقت کو انسان کی برتری کا معیار سمجھتی تھی، اور دوسری تہذیب جو انسان کو اللہ کا بندہ سمجھ کر ہر دوسری غلامی سے آزاد کرنا چاہتی تھی۔
حضرت رِبعی بن عامرؓ نے جواب دیا: ’’اللہ نے ہمیں اس لئے بھیجا ہے کہ ہم لوگوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لے آئیں، دنیا کی تنگی سے اس کی وسعت کی طرف، اور ظلم پر قائم نظاموں سے اسلام کے عدل کی طرف۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:’جنریشن گیپ‘ کے دَور میں: کتنے والدین اپنی ذمہ داریاں سمجھتے ہیں؟

یہ چند جملے بظاہر مختصر، سادہ اور آسان  ہیں مگر ان کے اندر ایک پوری تہذیب بول رہی تھی۔یہ مختصر ہونے کے باوجود غیر معمولی جملے تھے۔ 
ذرا غور کیجئے۔حضرت رِبعیؓ نے یہ نہیں کہا کہ ہم زمینیں فتح کرنے آئے ہیں۔انہوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ ہم دولت حاصل کرنے آئے ہیں۔انہوں نے سلطنت، خزانے یا اقتدار کا کوئی ذکر نہیں کیا۔انہوں نے انسان کی آزادی کی بات کی۔وہ آزادی جو کسی بادشاہ سے نہیں، اللہ کی بندگی سے حاصل ہوتی ہے۔یہی وہ جواب تھا جس نے رستم کو خاموش کر دیا۔ کیونکہ اس کے پاس ہر سوال کا عسکری جواب تھا، مگر اس سوال کا نہیں کہ اگر کوئی قوم اپنے مقصد کو جان و مال سے زیادہ عزیز سمجھنے لگے تو اسے کس ہتھیار سے شکست دی جائے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ حال سے آ کر ملتی ہے۔
ہر دور کا ’رستم‘ یہی سمجھتا ہے کہ طاقت کا سب سے بڑا اظہار دوسروں کو خوف زدہ کر دینا ہے۔لیکن ہر دور کے رِبعیؓ دنیا کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ خوف سے آزاد انسان کو زیر کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اسلام نے انسان کو سب سے پہلے اس کے دل میں موجود خوف سے آزاد کیا۔ اسے بتایا کہ عزّت، رزق، زندگی اور موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جب یہ یقین دل میں اتر جائے تو پھر بڑی سے بڑی طاقت انسان کے جسم کو تو نقصان پہنچا سکتی ہے، اس کے ارادے کو نہیں۔ 
یہی وہ حقیقت ہے جو ہر زمانے میں طاقت کے ایوانوں کو سب سے زیادہ حیران کرتی رہی ہے۔ کیونکہ ہتھیاروں کا مقابلہ ہتھیاروں سے کیا جا سکتا ہے، لیکن ’یقین‘ کا مقابلہ صرف ’یقین ‘سے ہوتا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس کی روشنی میں ہمیں آج کی عالمی سیاست، طاقت کی نفسیات اور مزاحمت کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ( ترجمان القرآن میں شامل طویل مضمون سے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK