• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیمار کی عیادت کیجئے خواہ وہ مسلم ہو یا غیرمسلم

Updated: October 02, 2026, 4:38 PM IST | Dr. Sirajuddin Nadwi | Mumbai

انسان جب بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اسے جو بے چینی اور تکلیف ہوتی ہے وہ، وہی جانتا ہے۔ مصیبت اور پریشانی کے اس عالم میں اگر کوئی اس کی خیریت معلوم کرتا ہے، کسی بھی حیثیت سے اس کی ڈھارس بندھاتا ہے، اس کی خدمت کرتا ہے تو اسے بڑا سہارا محسوس ہوتا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

انسان جب بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اسے جو بے چینی اور تکلیف ہوتی ہے وہ، وہی جانتا ہے۔ مصیبت اور پریشانی کے اس عالم میں اگر کوئی اس کی خیریت معلوم کرتا ہے، کسی بھی حیثیت سے اس کی ڈھارس بندھاتا ہے، اس کی خدمت کرتا ہے تو اسے بڑا سہارا محسوس ہوتا ہے۔ اس کی آدھی تکلیف دور ہوجاتی ہے۔ پھر اس کا یہ احساس اسے بڑا حوصلہ دیتا ہے کہ بیماری میں اس کی خدمت کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ اسلام نے مریض کی عیادت کرنے پر بڑا زور دیاہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں حکم دیا:’’مریض کی عیادت کرو۔‘‘(ابوداؤد)

ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی عیادت پر ابھارتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’جب بھی کوئی مسلمان صبح کو کسی مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو شام تک پچاس ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں اور اگر شام کو عیادت کرتا ہے توصبح تک پچاس ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں اور جنت میں اس کے لئے چنے ہوئے پھل ہوں گے۔‘‘(جامع ترمذی)

یہ بھی پڑھئے:اُمت میں یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ وہ آخری حد تک سو‘د سے بچے

عیادت وتیمارداری کو آپؐ نے ہر مسلمان کے لئے ضروری قرار دیا اور اسے اپنے مسلمان بھائی کا حق قرار دیا۔ آپؐ نے ارشادفرمایا:’’مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں۔ جب تو اس سے ملے تواسے سلام کر اور جب وہ تجھے دعوت دے تو قبول کر اور جب وہ تجھ سے نصیحت چاہے تو اس کو نصیحت کر اور جب اسے چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو تو‘ اسے یہ دعا دے: یرحمک اللہ  اور جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کر اور جب اس کی وفات ہو تو اس کے جنازے میں شریک ہو۔‘‘(صحیح مسلم)

نبی کریم ؐ نے نہایت مؤثر اور دلنشین انداز میں عیادت کی اہمیت وفضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ خدا قیامت کے روز ایک بندے سے پوچھے گا: ’’اے ابنِ آدم میں بیمار تھا تو نے میری عیادت نہیں کی۔ وہ عرض کرے گا:’’اے خدا تو سارے جہانوں کا پروردگار ہے، تیری بیماری او ر عیادت کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔‘‘  اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے بندے، کیاتجھے یاد نہیں رہا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا مگر تو نے اس کی عیادت نہیں کی۔ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔‘‘ [صحیح مسلم]

یہ بھی پڑھئے:’جنریشن گیپ‘ کے دَور میں: کتنے والدین اپنی ذمہ داریاں سمجھتے ہیں؟

عیادت وتیمارداری کے سلسلہ میں مسلم و غیرمسلم میں فرق نہ کیجئے۔ ہر بیمار کی عیادت کرنے کی کوشش کیجئے۔ آپ کا رشتہ دار ہو یا نہ ہو، پڑوسی ہو یا غیر پڑوسی۔ نبی کریم ﷺ نے یہودیوں اور منافقین کی بھی عیادت فرمائی ہے۔ بلکہ شدید تکلیف پہنچانے والے دشمنوں کی عیادت کیلئے بھی تشریف لے گئے۔  سیرت کا یہ مشہور واقعہ آپ نے ضرور سنا ہوگا کہ ایک عورت پیارے نبیؐ کے اوپر کوڑا پھینکتی تھی۔ اس نے ایک دن آپ پر کوڑا نہ پھینکا تو آپؐ نے اس کے بارے میں  پوچھا۔  پتہ چلا کہ وہ بیمار ہے۔ آپؐ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، وہ آپؐ کے اس حسنِ اخلاق سے بہت متاثر ہوئی۔اس نے اپنے کرتوت کی معافی مانگی اور اسلام لے آئی۔  یادرکھئے کہ بیمار کی عیادت پر اسلام نے نہ صرف ابھارا ہے اور اس کی تاکید کی ہے بلکہ بیمار کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے اسے بہت سی رعایت بھی دی ہے۔ ذرا سوچئے جس کمزور مخلوق پر اللہ نے خود ترس کھایا ہو اور اس سے بہت سے فرائض وواجبات ساقط کردیئے ہوں وہ مخلوق آپ کی توجہ کی کتنی مستحق ہے۔n

عیادت کی دعا
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم ؐ کسی  کی عیادت فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اس پر رکھتے اور فرماتے:
‘‘اَللّٰہُمَّ رَبَّ النَّاِس اِذْھَبِ الْبَأسَ اَشْفِ اَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ اِلَّا شَفَاءُ کَ لَا یُغَادِرُ سَقَمًا’’[متفق علیہ](اے انسانوں کے رب! تکلیف کو دور فرمادے۔اے خدا شفا عطا فرما تو ہی شفا بخشنے والا ہے، شفا تیرے ہی بس میں ہے، ایسی شفا فرما جو کسی بیماری کو نہ رہنے دے)۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK