معاشی زندگی کے باب میں آپؐ کی عطا کردہ تعلیمات اور بنیادی تصورات اپنے معنی و مفہوم اور روح کے لحاظ سے انفرادیت کے حامل ہیں۔ اسلام کے دیئے ہوئے تصورِ معیشت کے تحت ہر شخص حتی القدور کسب معاش کا پابند ہے۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 4:50 PM IST | Dr. Tahir-ul-Qadri | Mumbai
معاشی زندگی کے باب میں آپؐ کی عطا کردہ تعلیمات اور بنیادی تصورات اپنے معنی و مفہوم اور روح کے لحاظ سے انفرادیت کے حامل ہیں۔ اسلام کے دیئے ہوئے تصورِ معیشت کے تحت ہر شخص حتی القدور کسب معاش کا پابند ہے۔
قومی زندگی کی تین بنیادی جہتوں: معاشرت، معیشت اور سياست میں سے معیشت ایک بنيادی مرکزی اور محوری اہمیت کی حامل جہت ہے۔ جس کی اصلاح نہ صرف معیشت اور معاشرت کو بلکہ سياست کو اور من حیث المجموع پوری زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس جہت سے مطالعہ ایسے واضح اُصول فراہم کرتا ہے جو زندگی کے معاشی پہلو میں آنے والی خرابیوں کی اصلاح اور اس پہلو کے ارتقاء کے حوالے سے جملہ تقاضوں کا احاطہ کرتا ہے۔
کوئی بھی نظام زندگی اس وقت تک وجود میں نہیں آسکتا جب تک اس کے پس منظر میں کوئی واضح تصور، اُصول اور ضابطہ موجود نہ ہو۔ اسلام کا معاشی نظام بھی ان بنیادی تصورات اور تعلیمات پر مبنی ہے جو قرآن و سنت سے میسر آتے ہیں۔ حضور نبی اکرم ؐ نے اپنے قول و عمل سے نہ صرف اسلام کے معاشی نظام کے خدو خال اور ان کے بنیادی تصورات واضح فرمائے بلکہ ایسی تعلیمات عطا فرمائیں جو معاشی رویوں اور رجحانات سے نہ صرف مختلف تھیں اور جو آنے والے زمانوں کے لئے ایک رہنما اُصول قرار پائیں۔
یہ بھی پڑھئے: بیمار کی عیادت کیجئے خواہ وہ مسلم ہو یا غیرمسلم
آپ ؐ نے مذہب کے روایتی تصور کے بالکل برعکس جہاں دنیا کی سرگرمیوں کو قربِ خداوندی کے حصول میں سدِّ راہ اور رکاوٹ سمجھا جاتا تھا، جائز اور درست معاشی سرگرمیوں کی اہمیت کو بيان فرمایا اور انسان کی طبیعت میں موجود معاشی میلانات کی اصلاح کے لئے بنیادی تصورات مثلاً تصورِ ملکیت وغیرہ کو بدلتے ہوئے ایسی تعلیمات عطا فرمائیں کہ جن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے معاشی زندگی ایک ایسے حسین اعتدال سے بہرہ ور ہوسکے جہاں ایک طرف تخلیقی معاشی سرگرمياں فروغ پذیر رہیں تو دوسری طرف افرادِ معاشرہ کے لئے ان تخلیقی اور معاشی سرگرمیوں سے مستفید ہونے اور ان سے نفع بخشی تک کے امکانات پانے کے تمام راستے بھی کھلے رہیں۔
معاشی سرگرمیوں کی اہمیت کا اِدراک
سیرتِ مبارکہ ؐ میں زندگی کے معاشی پہلو کی اہمیت واضح نظر آتی ہے۔ آپ ؐ نے نفع مند مال کی تعریف کی ہے اور اس مال کے کمانے کی خواہش اور اسے احسن طریقے سے خرچ کرنے اور اس مال کو مزید ثمر آور بنانے کو ضروری قرار دیا ہے اور ایسے صاحب حیثیت شخص کو سراہا ہے جو مال ملنے پر شاکر ہو اور اس مال کو لوگوں کی منفعت اور خیرخواہی کیلئے خرچ کرے۔ جبکہ اس ضمن میں سوائے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے اور کوئی چیز اس کے پیش نظر نہ ہو۔ حضور ؐ نے فرمایا: ’’وہ کتنا ہی اچھا مال ہے جو کسی نیک انسان کے پاس ہو۔‘‘ (احمد بن حنبل، المسند ۴، بخاری ، الادب المفرد)
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’اور تم بے سمجھوں کو اپنے (یا ان کے) مال سپرد نہ کرو جنہیں اللہ نے تمہاری معیشت کی استواری کا سبب بنایا ہے۔ ‘‘ (النساء:۵)
اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ مال و دولت زندگی کی استواری میں معاون و مددگار ہوتے ہیں۔
حضورؐ نے مال ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا :’’اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تین چیزیں ناپسند فرمائی ہیں : قیل و قال، مال کے ضياع اور کثرتِ سوال۔‘‘
( بخاری، کتاب الزکوٰۃ، مسلم کتاب الاقضیۃ)
یہ بھی پڑھئے: ’جنریشن گیپ‘ کے دَور میں: کتنے والدین اپنی ذمہ داریاں سمجھتے ہیں؟
تصورِ معاش کی ہمہ جہتی
حضورؐ کی عطا کردہ تعلیمات میں مسئلہ معاش کو براہ راست انسانی زندگی میں نیکی اور بدی کے امتیاز میں ایک موثر بلکہ فیصلہ کن عامل قرار دیا ہے۔ حدیث نبویؐ کی روشنی میں اس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے ۔ آپؐ نے فرمایا:’’ممکن ہے غربت و افلاس (کا رد عمل) کفر کی حد تک پہنچ جائے۔‘‘ (قضاعی ، مسند الشہاب، بیہقی، شعب الایمان) اسی طرح آپ ؐنے زندگی کے اعتدال کو بھی معتدل معاشی سرگرمیوں سے مشروط قرار دیا :
’’خرچ میں اعتدال آدھی معیشت ہے۔‘‘
(طبرانی، المعجم الاوسط، بیہقی ، شعب الایمان)
’’جس نے ميانہ روی اختيار کی وہ محتاج نہیں ہوگا۔‘‘
) طبرانی، المعجم الکبیر، ہیثمی، مجمع الزوائد)
طلب ِ حلال ایک فرض: حضورؐ نے رزق حلال کے حصول کو فرض قرار دیا ہے۔ ارشاد فرمایا:
’’رزق حلال کی تلاش فرض عبادت کے بعد (سب سے بڑا) فریضہ ہے۔‘‘ ( بیہقی، السنن الکبری، قضاعی، مسند الشہاب، دیلمی)
آپؐ نے ایک مقام پر یوں ارشاد فرمایا :
’’جب صبح کی نماز ادا کر لو تو اپنے رزق کی طلب سے غافل ہو کر سو نہ جاؤ، کیونکہ صبح کی نیند رزق کو روکتی ہے۔‘‘ (ہندی، کنز العمال،شعرانی، کشف الغمۃ عن جمیع الامۃ)
حضورﷺنے محنت مزدوری اور اپنی معیشت کو سنوارنے کیلئے جدو جہد کرنے والے کی تعریف کی اور مزدور کو اللہ تعالیٰ کا دوست قرار دیا ہے۔ ملاحظہ کیجئے یہ حدیث:
’’حضرت رافع بن خدیج ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمؐ سے پوچھا گیا : یا رسولؐ اللہ! کون سی کمائی سب سے پاکیزہ ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا : آدمی کا اپنے ہاتھ سے کمانا اور ہر جائز تجارت۔‘‘
’’حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ حضورؐ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر رحم کرتا ہے جو خرید و فروخت یا قرض کی واپسی پر دوسروں پر شائستہ ہیں اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔‘‘ (احمد بن حنبل، المسند، خطیب تبریزی ، مشکوٰۃ المصابیح)
حضرت صخر غامدی بیان کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا : ’’اے اللہ! میری اُمت کو اس کی صبح میں برکت دے۔‘‘ (ابن ماجہ، السنن ، کتاب التجارات)
راوی بیان کرتے ہیں کہ جب بھی آپ ؐ کوئی چھوٹا یا بڑا لشکر روانہ فرماتے تو شروع دن میں روانہ فرماتے۔
حضرت صخر ؓتاجر تھے۔ آپؐ کے فرمانِ مبارک کی روشنی میں وہ اپنے تجارتی قافلے شروع دن میں روانہ کرتے تو وہ بہت مالدار ہوگئے اور ان کا مال بہت بڑھ گیا۔گویا آپؐ نے ان اوقات کی بھی تعریف اور نشان دہی فرمائی جو معاشی سرگرمیوں میں برکت کا ذریعہ ہیں۔
اسلام کے دیئے ہوئے تصورِ معیشت کے تحت ہر شخص حتی القدور کسب معاش کا پابند ہے۔ بلا عذر شرعی تساہل، غفلت اور کاہلی کی زندگی بسر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ قرآن حکیم نے جا بجا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی اہمیت کو بیان کيا ہے اور اس امر کی ترغیب دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں خرچ کيا جائے۔ انفاق فی سبيل اللہ کی یہ فضیلت اور مقام تب ہی میسر آئے گا جب افراد معاشرہ حتی المقدور اپنی تمام تر توانائیوں کو حصول رزق حلال کیلئے بروئے کار لائیں گے۔ کیونکہ ایک ایسا معاشرہ جہاں افراد، معاشرہ کی تخلیقی سرگرمیوں کے بجائے عضو معطل بن جائیں کسی طور ایک فلاحی اور اہلِ انفاق کا معاشرہ نہیں بن سکتا۔ سو ایسے افراد کو اسلامی معاشرہ قطعاً گوارا نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھئے: مصیبت یا پریشانی؟ دُعا کیجئے، تدبیر اپنائیے اور اپنا محاسبہ کیجئے!
معاشی ترجیحات کا منصفانہ تعین
آپؐ کے عطا کردہ معاشی اصولوں اور رہنمائی کے مطابق اصل رِزق اور حق معاش میں سب انسان برابر ہیں۔ فرق اور تفاوت صرف درجات میں ہے۔ اصل رزق اور حقِ معاش میں کھانا، پینا، لباس، رہائش، بنیادی تعلیم اور علاج معالجہ جیسی تمام بنیادی ضروریات آجاتی ہیں جن میں تمام انسان برابر کے حقدار کے طور پر شامل ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’اور اس میں (جملہ مخلوق کے لئے) غذائیں (اور سامانِ معیشت) مقرر فرمائے (یہ سب کچھ اس نے) چار دنوں (یعنی چار ارتقائی زمانوں) میں مکمل کيا، (یہ سارا رِزق اصلاً) تمام طلب گاروں (اور حاجت مندوں) کے لئے برابر ہے۔‘‘ (حم السجدہ:۴۱)
الغرض معاشی زندگی کے باب میں آپ کی عطا کردہ تعلیمات اور بنیادی تصورات اپنے معنی و مفہوم اور روح کے لحاظ سے انفرادیت کے حامل ہیں۔ یہ اسلام کے معاشی نظام کی وہ خشت ِ اول ہیں جو اس کی پوری ساخت و تشکیل کو دنیا کے دیگر معاشی نظاموں سے ممتاز کرتی ہیں اور انسانیت کی فلاح و بہبود کی ضمانت عطا کرتی ہیں۔
زندگی کے معاشی اِستحکام کا تصور
ارشادِ ربانی ہے :
’’وہی ہے جس نے سب کچھ جو زمین میں ہے تمہارے لئے پیدا کیا۔‘‘ (البقرہ:۲۹)
ایک اور مقام پر ارشاد ہے: ’’اور بیشک ہم نے تم کو زمین میں تمکن و تصرّف عطا کيا اور ہم نے اس میں تمہارے لئے اسبابِ معیشت پیدا کئے، تم بہت ہی کم شکر بجا لاتے ہو۔ ‘‘ (الاعراف:۱۰)
اس آیت کریمہ میں زندگی کی بقاء اور استحکام کے پہلو کو بیان کیا گیا ہے۔ فی الحقیقت مال وہی ہے جس کے اندر طبعاً انسانوں کے لئے نفع کا سامان موجود ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف اشیاء و اموال پر ملکیت (یعنی قبضہ و تصرف) کا حق اس لئے عطا فرمایا ہے کہ اسے بروئے کار لا کر وہ ان اموال پر محنت صرف کریں اور ان کے اندر تخلیق کی گئی خوابیدہ منفعتوں اور افادیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: بارش رک گئی، کہیں اس کے ذمے دار ہم ہی تو نہیں؟ محاسبہ ضروری ہے!
حضور اکرم ؐنے بھی اپنی تعلیمات سے معاشرہ میں معاشی استحکام پیدا فرمایا۔ جب سوسائٹی کے معاشی حالات اجتماعی طور پر اچھے نہ تھے تو آپؐ نے ان لوگوں کو جن کے پاس مال و اسباب تھا اس میں دوسروں کو شریک کرنے کی ترغیب اور حکم ارشاد فرمایا تاکہ معاشرے میں معاشی تفاوت پروان نہ چڑھ سکے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:
l’’ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کے لئے کافی ہوتا ہے، دو آدمیوں کا کھانا چار کے لئے اور چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کے لئے کافی ہوتا ہے۔‘‘ ( صحیح مسلم)
l’’تم میں سے جس شخص کے پاس ضرورت سے زائد سواری ہے وہ اس کو دے دے جس کے پاس نہیں ہے۔ جس کے پاس ضرورت سے زائد سامان خورد و نوش ہے وہ اسے لوٹا دے جس کے پاس نہیں ہے۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ اسی طرح آپؐ مختلف اصنافِ مال کا ذکر فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ ضرورت سے زائد کسی بھی شے میں ہمارا حق نہیں رہا ۔‘‘ ( مسلم، کتاب اللقطۃ، باب استحباب المؤاساۃ بفضول المال۔ ابوداؤد)