موجودہ دور میں مال و دولت کے حصول کی بڑھتی ہوئی خواہش نے زندگی کے کئی پہلوؤں کو متاثر کیا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے دولت کو کامیابی کا معیار سمجھنے کے رجحان سے حرص و طمع، غیر ضروری اخراجات اور معاشرتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ اسلامی تعلیمات رزقِ حلال کے حصول کے ساتھ قناعت، اعتدال اور اللہ کی رضا کو زندگی کا اصل مقصد قرار دیتی ہیں۔
عام لوگوں کو لگژری لائف اسٹائل کا خواب دکھا کر انہیں الجھا دیا جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این
آج دنیا میں ایک مرض عام ہوتا جا رہا ہے، وہ ہے حرص و طمع، مال کی بے انتہا طلب، اور روزی روٹی کے حصول میں حد درجہ انہماک اور اصل مقصد ِ زندگی فراموش کر کے حصولِ مال کو مقصد ِ حیات بنا لینا اور اپنا اوڑھنا بچھونا اسی کو بنا لینا۔ اس کے سبب دنیا کا امن و سکون غارت ہو چکا ہے، گھروں کا سکون برباد ہو رہا ہے، ڈپریشن کی بیماری عام ہو رہی ہے، سکونِ قلب عنقا ہوتا جا رہا ہے اور رشتوں میں دراڑ پیدا ہو رہی ہے کیونکہ شادیوں میں بھی صرف مال ہی کو مدِ نظر رکھا جا رہا ہے، جبکہ انسانی احساسات و جذبات ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن اور سنیما شب و روز یہ جدوجہد کر رہے ہیں کہ عوام کو مال کا رسیا بنا دیا جائے، ان کے اذہان میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ بڑا مالدار بننا ہی اصل کامیابی ہے ورنہ زندگی اجیرن ہے؛ حصولِ مال ہی کامرانی کی دلیل اور عقلمندی کا ثبوت ہے۔ اس کی خاطر امیر افراد کی تصاویر اور واقعات میں نمک مرچ لگا کر سوشل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے، ان کا طرزِ زندگی دکھایا جاتا ہے تاکہ عوام کو حرص و طمع میں مبتلا کیا جا سکے اور ان کو اس نہ ختم ہونے والی غیر ضروری دوڑ میں اتارا جائے تاکہ وہ اس سے مرعوب ہوکر اپنی حیثیت سے بڑھ کر خریداری کریں خواہ اس کے لئے انہیں قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے۔ اس طرح سودی قرض بھی عام ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سیرتِ نبویؐ میں معیشت کے حوالے سے جامع معلومات اور رہنمائی ملتی ہے
اسی حرص و طمع کا نتیجہ ہے کہ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر مخربِ اخلاق فلمیں و پروگرام دکھائے جا رہے ہیں جن کے سبب معاشرہ تباہ ہو رہا ہے، نونہالوں کے ذہن خراب ہو رہے ہیں، اور عورتوں کے خلاف جرائم کا گراف اوپر جا رہا ہے؛ مگر پروڈکشن کمپنیوں کو صرف کمائی سے اور حکومت کو ٹیکس سے مطلب ہے۔ مضر اشیاء بازار میں بیچی جا رہی ہیں جن کے استعمال سے کروڑوں افراد جاں لیوا بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں اور ان کے گھر اجڑ رہے ہیں، مگر کمپنیوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی کیونکہ لالچ نے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے اور انسانی جذبات کو مار دیا ہے۔ حصولِ مال کے لئے نشے کا کاروبار دھڑلے سے چل رہا ہے؛ شراب، گٹکھا و دیگر نشہ آور اشیاء عام ہو رہی ہیں۔ حکومت بھی اس لئے ان پر پابندی نہیں لگاتی کیونکہ ایک بڑی رقم (ٹیکس کی) موقوف ہو جائے گی، پھر چاہے نشہ عوام کو برباد ہی کیوں نہ کر دے! الگ ناموں سے سٹہ و جوا جاری ہے، کمپنیاں مہلک ادویات بیچ رہی ہیں، نقلی اشیاء کی فروخت جاری ہے اور خطرناک کیمیکلز سے بنی مصنوعات کھلے عام بک رہی ہیں۔ ان سب کے پسِ پشت کیپٹلزم اور زیادہ کمانے کی خواہش کا جذبہ کارفرما نظر آتا ہے۔
ان مضر اشیاء کو خریدنے والے عوام اپنی کمائی سے یہ چیزیں خرید کر ’’آ بیل مجھے مار‘‘ کا مصداق بن رہے ہیں، ان کا دھیان بھی ان چیزوں کی جانب نہیں جاتا کیونکہ سوشل میڈیا اور پروپیگنڈوں کے ذریعہ ان کے ذہنوں کو منتشر کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی تعمیر، تحفظ اور تعلیم پر توجہ نہ دے سکیں، لالچ کے جال میں پھنس کر کولہو کا بیل بنیں اور اصل مقصدِ زندگی بھول جائیں۔
ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی تعلیمات عام کی جائیں تاکہ دنیا امن و امان کا گہوارہ بن سکے۔ لوگوں کو اصل مقصد ِ حیات بتایا جائے؛ اصل مقصد ِ زندگی اللہ کو راضی کرنا، حقوق اللہ و حقوق العباد کی ادائیگی کرنا، کسی کو تکلیف نہ پہنچانا، جن چیزوں کو اسلام نے جائز کہا ہے ان پر عمل پیرا ہونا، اور ناجائز چیزوں سے پرہیز کرنا ہے۔ رزق کمانا ضرورت ہے اور جائز ہے، مگر اس کو مقصد ِ حیات نہیں بنایا جاسکتا۔ روزی کا مالک اللہ ہے، وہ جسے جتنا چاہے دیتا ہے؛ ہمیں چاہئے کہ راضی اور خوش رہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جب وقت کا ’رستم‘ حیران رہ جاتا ہے!
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
’’اﷲ اپنے بندوں میں سے جس کیلئے چاہتا ہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے، اور جس کیلئے (چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے، بیشک اﷲ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘ (سورہ العنکبوت:۶۲)
انسان کو چاہئے کہ روزی کے لئے محنت ضرور کرے مگر اسے ذہن پر سوار نہ کرے، مال کی فکر میں خود کو ضائع نہ کرے، اور ڈپریشن نہ پالے۔ اللہ نے خود اپنی ہر مخلوق کی روزی کا ذمہ لیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور زمین میں کوئی چلنے پھرنے والا (جاندار) نہیں ہے مگر (یہ کہ) اس کا رزق اﷲ (کے ذمۂ کرم) پر ہے ۔‘‘ (ہود:۶)