Updated: May 27, 2026, 4:13 PM IST
| Washington
بی سی جی نے کہا کہ ہانگ کانگ میں اثاثوں کا ۶۰ فیصد سے زیادہ حصہ چین سے آیا ہے۔ ہانگ کانگ طویل عرصے سے چینی سرمائے اور عالمی مارکیٹوں کے درمیان ایک اہم راستے کے طور پر کردار ادا کرتا آیا ہے۔ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ اس شہر کا مستقبل کا سفر، چین کے معاشی اور ریگولیٹری حالات سے قریبی طور پر جڑا رہے گا۔
بوسٹن کنسلٹنگ گروپ (بی سی جی) کی ’گلوبل ویلتھ رپورٹ ۲۰۲۶ء‘ کے مطابق، ہانگ کانگ سوئٹزرلینڈ کو پیچھے چھوڑ کر پہلی بار دنیا کا سب سے بڑا کراس بارڈر ویلتھ بکنگ سینٹر (بیرونِ ملک سے آنے والی دولت کا مرکز) بن گیا ہے۔ رپورٹ میں ہانگ کانگ کی کراس بارڈر دولت کا تخمینہ تقریباً ۹۵ء۲ ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ اسے سوئزرلینڈ سے معمولی برتری حاصل ہوئی ہے جو ۹۴ء۲ ٹریلین ڈالر کی کراس بارڈر دولت کے ساتھ دوسرے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ یہ تبدیلی عالمی سطح پر آف شور دولت کے بہاؤ کے ایشیا کی طرف بڑے جھکاؤ کو ظاہر کرتی ہے۔
بی سی جی کے مطابق، ہانگ کانگ کی کراس بارڈر دولت میں ۲۰۲۵ء کے دوران ۷ء۱۰ فیصد اضافہ ہوا۔ اس کی بڑی وجہ چین (مین لینڈ چائنا) سے آنے والی دولت اور کیپٹل مارکیٹس میں بڑے آئی پی اوز (IPOs) اور انٹرنیٹ سے منسلک حصص (equities) میں ہونے والا زبردست منافع، جیسی مضبوط سرگرمیاں تھیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”یہ پہلا موقع ہے جب ہانگ کانگ نے دنیا کے سب سے بڑے کراس بارڈر بکنگ سینٹر کے طور پر سوئٹزرلینڈ کو معمولی فرق سے پیچھے چھوڑ دیا۔“
یہ بھی پڑھئے: معدنی سپلائی چین میں اجارہ داری توڑنے کے لیے کواڈ کی جانب سے اہم اعلان
چین، ہانگ کانگ کی ترقی کا بنیادی محرک
بی سی جی نے کہا کہ ہانگ کانگ میں اثاثوں کا ۶۰ فیصد سے زیادہ حصہ چین سے آیا ہے۔ ہانگ کانگ طویل عرصے سے چینی سرمائے اور عالمی مارکیٹوں کے درمیان ایک گیٹ وے (اہم راستے) کے طور پر کردار ادا کرتا آیا ہے۔ رپورٹ میں ہانگ کانگ کے ”عالمی منڈیوں کیلئے چین کے گیٹ وے کے طور پر مستحکم کردار“ کو تسلیم کیا گیا ہے اور یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ اس شہر کا مستقبل کا سفر، چین کے معاشی اور ریگولیٹری حالات سے قریبی طور پر جڑا رہے گا۔ بی سی جی نے پیشین گوئی کی ہے کہ ہانگ کانگ کی کراس بارڈر دولت میں ۲۰۳۰ء تک سالانہ اوسطاً ۹ فیصد کی شرح سے اضافہ ہوگا۔
سنگاپور نے ایشیائی ویلتھ نیٹ ورک کو مضبوط کیا
دریں اثناء، سنگاپور کی کراس بارڈر دولت میں بھی زبردست بڑھوتری درج کی گئی ہے۔ ۲۰۲۵ء میں اس میں ۳ء۱۰ فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنگاپور نے ۲۰۰۰ سے زیادہ سنگل فیملی دفاتر اور ۱۰۰ سے زیادہ آزاد ویلتھ منیجمنٹ کمپنیوں کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔ اس کے باعث مشرقی اور مغربی سرمائے کو جوڑنے والے ایک غیر جانبدار مالیاتی پلیٹ فارم کے طور پر اس کی حیثیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔ بی سی جی کا اندازہ ہے کہ سنگاپور کی کراس بارڈر دولت بھی ۲۰۳۰ء تک سالانہ تقریباً ۹ فیصد کی شرح سے بڑھے گی۔
یہ بھی پڑھئے: پریمیم کھپت میں اضافے کے باعث ہندوستانیوں نے غیر ملکی سفر پر ۴۵ء۱ لاکھ کروڑ روپے خرچ کئے: کوٹک رپورٹ
سوئزرلینڈ کی محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت برقرار
اپنا پہلا مقام کھونے کے باوجود، سوئزرلینڈ نے ۶ء۷ فیصد کی مضبوط شرحِ نمو برقرار رکھی۔ فی الحال یورپی ملک میں تقریباً ۹۴ء۲ ٹریلین ڈالر کی کراس بارڈر دولت ہے۔ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ سوئزرلینڈ میں اپنی دولت جمع کرنے والے افراد (کلائنٹس)، مغربی یورپ اور دنیا بھر کے خطوں سے تعلق رکھتے ہیں، جس سے کسی ایک معاشی محرک پر اس کا انحصار کم ہو جاتا ہے۔ بی سی جی نے واضح کیا کہ جیو پولیٹیکل عدم استحکام نے سوئزرلینڈ کے ایک روایتی محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت رکھنے والے مالیاتی مرکز کے کردار کو مزید تقویت دی ہے، جس نے مشرقِ وسطیٰ سمیت غیر مستحکم خطوں سے ”محفوظ سرمایہ کاری کے بہاؤ“ (flight-to-safety flows) کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔ رائٹرز نے مالیاتی صنعت کے رجحانات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی رپورٹ کیا کہ علاقائی کشیدگی کے درمیان خلیجی ممالک سے سوئس اداروں میں اثاثوں کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔