• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہنگری کی غوطہ خور زوفیا ٹوروچک نے ۳۵۰؍ فٹ گہرائی میں غوطہ لگا کر عالمی ریکارڈ بنایا

Updated: October 11, 2026, 5:04 PM IST | New Delhi

ہنگری کی مشہور آزاد غوطہ خور زوفیا ٹوروچک نے سمندر کی گہرائی میں غوطہ لگانے کے کھیل میں شاندار کارنامہ انجام دیتے ہوئے ۳۵۰؍فٹ، یعنی تقریباً ۱۰۷؍ میٹر کی گہرائی تک پہنچ کر خواتین کے عالمی ریکارڈ میں اپنا نام درج کرایا۔

Zsófia Törőcsik.Photo:INN
زوفیا ٹوروچک۔ تصویر:آئی این این

ہنگری کی مشہور آزاد غوطہ خور زوفیا ٹوروچک نے سمندر کی گہرائی میں غوطہ لگانے کے کھیل میں شاندار کارنامہ انجام دیتے ہوئے ۳۵۰؍فٹ، یعنی تقریباً ۱۰۷؍ میٹر کی گہرائی تک پہنچ کر خواتین کے عالمی ریکارڈ میں اپنا نام درج کرایا۔ اکتوبر ۲۰۲۶ء میں قبرص کے شہر لیماسول میں منعقدہ عالمی مقابلے میں انہوں نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے ۱۰۸؍ میٹر کی گہرائی تک غوطہ لگایا، جس سے خواتین کے فری اممرژن مقابلے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم ہوا۔ اس غیر معمولی کامیابی کے بعد ان کی خوشی دیدنی تھی۔ انہوں نے سمندر کی سطح پر واپس آنے کے بعد گہرائی کی تصدیق کرنے والا نشان ہوا میں اچھال کر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ آج ان کی خوشی آسمان کو چھو رہی ہے۔ زوفیا ٹوروچک نے قبرص میں ہونے والی اے آئی ڈی اے عالمی گہرائی چیمپئن شپ ۲۰۲۶ء کے دوران ۱۰۸؍ میٹر کی گہرائی تک پہنچنے اور بحفاظت سطحِ آب پر واپس آنے کا مشکل مرحلہ صرف چار منٹ میں مکمل کیا۔ یہ مقابلہ آزاد غوطہ خوری کے شعبے میں دنیا کے اہم مقابلوں میں شمار ہوتا ہے، جس میں کھلاڑی اپنی سانس روک کر سمندر کی انتہائی گہرائیوں تک پہنچنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس کامیابی کے ساتھ ٹوروچک نے فری امرژن زمرے کا عالمی خطاب بھی اپنے نام کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:’ایوینجرز: اینڈ گیم‘ اب تک کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بنی، ’اوتار‘ دوسرے نمبر پر

فری امرژن غوطہ خوری ایک ایسا کھیل ہے جس میں کھلاڑی آکسیجن کے سلنڈر یا پنکھوں کے بغیر اپنی سانس روک کر پانی میں اترتے ہیں۔ اس مخصوص زمرے میں غوطہ خور سمندر میں نصب ایک رسی کو ہاتھوں کی مدد سے پکڑ کر نیچے اترتے اور پھر اسی طرح اوپر واپس آتے ہیں۔ اس کے لیے غیر معمولی جسمانی قوت، سانس پر قابو، ذہنی یکسوئی اور دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by AIDA INTERNATIONAL (@aidafreediving)


گہرائی میں پانی کا دباؤ بڑھنے کے ساتھ جسم پر پڑنے والے اثرات بھی شدید ہوتے جاتے ہیں، اس لیے اس کھیل میں تربیت، حفاظتی انتظامات اور مقررہ اصولوں کی پابندی انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔اس مقابلے میں یوکرین کی غوطہ خور نتالیہ ژارکووا نے ۱۰۳؍ میٹر کی گہرائی تک پہنچ کر چاندی کا تمغہ حاصل کیا جبکہ اسپین کی ازابیل سانچیز آران نے ۹۲؍ میٹر کے ساتھ کانسے کا تمغہ جیتا۔ اس طرح ٹوروچک نے اپنی قریبی حریف ژارکووا کو پانچ میٹر کے فرق سے پیچھے چھوڑ دیا۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان ۲۰۲۶ء کے دوران عالمی ریکارڈ کے لیے سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:غزہ جنگ بندی: ایک سال بعد بورڈ آف پیس نے کیا حاصل کیا؟

اپنی کامیابی کے بعد زوفیا ٹوروچک نے کہا کہ عالمی ریکارڈ قائم کرنا ان کے لیے بے حد خوشی اور ذاتی کامیابی کا لمحہ ہے۔ ان کے مطابق، جب انسان ہر مرتبہ اپنی حدود کو پیچھے چھوڑتا ہے تو اس کے اندر یہ یقین مضبوط ہوتا ہے کہ وہ واقعی اس منزل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ان کا یہ کارنامہ صرف گہرائی کا نیا ریکارڈ قائم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس بات کی بھی مثال ہے کہ مشکل اہداف کے حصول کے لیے جسمانی تیاری کے ساتھ ذہنی مضبوطی کتنی اہم ہوتی ہے۔  زوفیا ٹوروچک اس سے پہلے اگست ۲۰۲۶ء میں کروشیا کے جزیرے لاستوو میں ۱۰۷؍ میٹر، یعنی تقریباً ۳۵۰؍ فٹ، کی گہرائی تک غوطہ لگا کر خواتین کے فری اممرژن زمرے کا عالمی ریکارڈ قائم کر چکی تھیں۔ اکتوبر میں قبرص میں ۱۰۸؍ میٹر تک پہنچ کر انہوں نے اپنی ہی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا۔ 
ان کی مسلسل کامیابیاں آزاد غوطہ خوری کے کھیل میں بڑھتے ہوئے عالمی مقابلے اور انسانی صلاحیتوں کی نئی حدود کو نمایاں کرتی ہیں۔ سمندر کی تاریک اور گہری تہوں میں چند منٹ تک سانس روک کر غوطہ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے، لیکن ٹوروچک نے اپنی تربیت، حوصلے اور خود اعتمادی کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ اعلیٰ سطح پر کامیابی کے لیے مہارت کے ساتھ مستقل مزاجی بھی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK