Updated: February 05, 2026, 1:09 PM IST
| Washington
امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات سے قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی حملوں کے بعد اپنا جوہری منصوبہ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک عمان کے دارالحکومت مسقط میں اہم بات چیت کی تیاری کر رہے ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ اور خامنہ ای۔ تصویر: آئی این این۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ گرمیوں کے دوران امریکی حملوں کے بعد ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے این بی سی نیوز کو د یئے گئے ایک انٹرویو میں کہا:’’انہوں نے اس مقام پر واپس جانے کی کوشش کی۔ وہ اس کے قریب بھی نہیں جا سکے، وہاں مکمل تباہی ہو چکی تھی۔ لیکن وہ ملک کے ایک اور حصے میں نیا مقام شروع کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ ہمیں اس کا پتہ چل گیا۔ میں نے کہا، ‘اگر تم نے ایسا کیا تو ہم تمہارے ساتھ بہت برا سلوک کریں گے۔ ‘‘یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ جمعہ کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کیلئے ملاقات کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس ہفتے کے آغاز میں مذاکرات کے انعقاد پر شکوک پیدا ہو گئے تھے، تاہم، وہائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے انادولو کو تصدیق کی کہ مذاکرات ہوں گے۔ ایران نے بھی مذاکرات کے آگے بڑھنے کی تصدیق کی، جہاں وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ بات چیت جمعہ کی صبح شروع ہوگی۔
ایران اور امریکہ کے جوہری مذاکرات خطرے میں، مقام اور فارمیٹ پر اختلاف
امریکہ نے ایران کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ جمعہ (۶؍ فروری) کو طے شدہ جوہری مذاکرات کے مقام اور طریقۂ کار میں تبدیلی کے تہران کے مطالبات کو قبول نہیں کرے گا۔ اس معاملے سے واقف دو امریکی حکام کے مطابق، یہ اختلاف سفارتی کوششوں کو پٹڑی سے اتار سکتا ہے اور اس بات کا امکان بڑھا سکتا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ فوجی آپشن کی طرف جائیں۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پہلے اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ جمعہ کو استنبول میں مذاکرات ہوں گے، جن میں کئی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک مبصر کے طور پر شریک ہوں گے۔ تاہم، ایرانی حکام نے منگل (۳؍ فروری) کو کہا کہ وہ اجلاس کو عمان منتقل کرنا چاہتے ہیں اور اسے صرف دو طرفہ مذاکرات تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ ایران کا مؤقف تھا کہ اس فارمیٹ سے بات چیت صرف جوہری امور تک محدود رہے گی اور میزائل پروگرام جیسے موضوعات شامل نہیں ہوں گے، جو امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی ترجیحات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین: ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی زیر غور
امریکی حکام نے ایران کی تجویز کا جائزہ لیا لیکن بدھ (۴؍ فروری) کو اسے مسترد کر دیا۔ ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق:’’ہم نے ان سے کہا کہ یا تو یہی ہوگا یا کچھ نہیں، اور انہوں نے کہا ‘ٹھیک ہے، پھر کچھ نہیں۔ ‘‘ اہلکار نے مزید کہا کہ اگر ایران پہلے سے طے شدہ فارمیٹ پر واپس آنے پر آمادہ ہو جائے تو امریکہ اس ہفتے یا اگلے ہفتے ملاقات کیلئے تیار ہے۔ ‘‘اہلکار نے کہا ’’ہم جلد ایک حقیقی معاہدہ چاہتے ہیں، ورنہ لوگ دوسرے آپشنز پر غور کرنا شروع کر دیں گے۔ ‘‘اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ اسی دوران، وہائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور صدر کے داماد و مشیر جیرڈ کشنر کے جمعرات کو قطر جانے کی توقع ہے، جہاں وہ ایران سے متعلق امور پر قطری وزیرِاعظم سے بات چیت کریں گے۔ امریکی حکام کے مطابق، ان ملاقاتوں کے بعد وہ ایرانی حکام سے مذاکرات کیلئے آگے بڑھنے کے بجائے میامی واپس جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: انڈونیشیا: ہاتھی کی سواری پر پابندی، ایسا کرنے والا پہلا ایشیائی ملک
مذاکرات پر سوالات کے دوران ٹرمپ کا بیان: ایرانی لیڈر کو’’بہت فکر مند ہونا چاہئے‘‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ’’بہت فکر مند ہونا چا ہئے‘‘ کیونکہ اس ہفتے طے شدہ مذاکرات غیر یقینی کا شکار ہو رہے ہیں۔ این بی سی نیوز کو د یئے گئے انٹرویو کے اقتباسات میں ٹرمپ نے کہا:’’انہیں بہت فکر مند ہونا چا ہئے۔ ہاں، واقعی ہونا چا ہئے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، وہ ہم سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ ‘‘یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانےکیلئے خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کے احکامات دہئے ہیں۔ ایرانی مظاہرین کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے کہا:’’ہم نے ان کا ساتھ دیا ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’وہ ملک اس وقت ہماری وجہ سے بدحالی کا شکار ہے۔ ہم گئے، ہم نے ان کے جوہری اثاثے ختم کر دیئے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن۔ اگر ہم نے ان کا جوہری پروگرام ختم نہ کیا ہوتا تو مشرقِ وسطیٰ میں امن نہ ہوتا، کیونکہ عرب ممالک ایسا کبھی نہ کر پاتے۔ وہ ایران سے بہت خوفزدہ تھے۔ ‘‘ٹرمپ جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر کئے گئے حملوں کا حوالہ دے رہے تھے۔