وہائٹ ہاؤس نے سخت امیگریشن پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے زور دیا کہ یہ اقدامات، ٹرمپ انتظامیہ کی امریکی مفادات کے تحفظ کی ترجیح کے عین مطابق ہیں۔
EPAPER
Updated: March 24, 2026, 1:54 PM IST | New Delhi
وہائٹ ہاؤس نے سخت امیگریشن پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے زور دیا کہ یہ اقدامات، ٹرمپ انتظامیہ کی امریکی مفادات کے تحفظ کی ترجیح کے عین مطابق ہیں۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت میں امریکہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں سے ہندوستان اور چین سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ۲۰۲۵ء کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران دونوں ممالک کو جاری کئے گئے ویزوں میں بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوری سے اگست ۲۰۲۵ء کے درمیان، امریکہ نے ۲۰۲۴ء کے اسی عرصے کے مقابلے تقریباً ۲ لاکھ ۵۰ ہزار ویزے کم جاری کئے۔ مجموعی طور پر، مستقل رہائش (گرین کارڈ) اور عارضی ویزوں دونوں میں ۱۱ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
یہ کمی طلبہ کیلئے اسٹوڈنٹ ویزا (تعلیمی ویزا)، ہنر مند افراد کیلئے ورک پرمٹ اور فیملی بیسڈ امیگریشن سمیت تمام زمروں میں دیکھی گئی۔ خاص طور پر، ہندوستانی اور چینی شہریوں کو جاری کئے گئے ویزوں میں تقریباً ۸۴ ہزار کی کمی واقع ہوئی۔ یہ اعدادوشمار، امریکہ میں داخل ہونے والے طلبہ اور ہنرمند کارکنوں کی تعداد میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: لاگارڈیا ایئرپورٹ پر طیارہ اور فائر ٹرک میں تصادم، متعدد پروازیں معطل
مختلف زمروں کے ویزوں میں نمایاں کمی
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق، گزشتہ سال جاری کئے گئے اسٹوڈنٹ ویزوں کی تعداد میں سب سے زیادہ گراوٹ آئی۔ امریکہ نے جنوری سے اگست ۲۰۲۴ء کے درمیان ۳ لاکھ ۴۴ ہزار سے زائد اسٹوڈنٹ ویزے جاری کئے تھے، لیکن ۲۰۲۵ء میں اسی عرصے کے دوران یہ تعداد کم ہو کر صرف ۲ لاکھ ۳۸ ہزار رہی۔
خاندان کی بنیاد پر ملنے والے امریکی ویزوں میں بھی بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ ”فیملی پریفرنس“ زمرہ، جس میں امریکی شہریوں کے بہن بھائی اور بالغ بچے شامل ہیں، کے ویزوں میں تقریباً ۲۷ فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ اعدادوشمار کے مطابق، اس زمرے میں ۲۰۲۵ء کے پہلے آٹھ ماہ میں تقریباً ۴۴ ہزار ویزے کم جاری کئے گئے۔
دیگر زمروں میں بھی اسی طرح کے رجحانات ریکارڈ کئے گئے۔ بحری اور فضائی کمپنیوں کے ملازمین کے ویزوں میں ۳۰ ہزار ۸۷۶ ویزوں کی کمی ہوئی، جبکہ ثقافتی تبادلے کے تحت جاری کئے جانے والے ویزوں میں ۲۹ ہزار ۵۹۴ ویزوں کی کمی آئی۔ منگیتر اور شریکِ حیات کے ویزے تقریباً آدھے رہ گئے۔ ۲۰۲۴ء میں ان کی تعداد ۳۷ ہزار ۲۲۹ تھی جو ۲۰۲۵ء میں ۱۸ ہزار ۸۹۴ رہ گئی ہے۔ دریں اثنا، کاروباری اور سیاحتی ویزوں میں بھی تقریباً ۴ء۳ فیصد یعنی تقریباً 2 لاکھ ویزوں کی کمی واقع ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز پرایرانی تسلط کمزور کرنے کیلئے ٹرمپ کاخارگ پر قبضے کا منصوبہ: رپورٹ
امریکہ نے سخت امیگریشن پالیسی کا دفاع کیا
وہائٹ ہاؤس نے ان سخت اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سخت پالیسیاں، ٹرمپ انتظامیہ کی امریکی مفادات کے تحفظ کی ترجیح کے عین مطابق ہیں۔ امریکی صدارتی محل کی ترجمان ایبیگیل جیکسن نے کہا کہ یہ پالیسیاں ٹرمپ کے اس مینڈیٹ کی عکاسی کرتی ہیں جس کے تحت ”امریکی شہریوں کو مقدم رکھا جائے گا۔“
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے اس بات پر زور دیا کہ ویزا حاصل کرنا ”استحقاق ہے، حق نہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ غیر چیک شدہ ہجرت کی اجازت دے کر قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔