• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں بچت کی مضبوط اور قدیم روایت : مکیش امبانی

Updated: February 04, 2026, 8:27 PM IST | Mumbai

ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر مکیش امبانی نے کہا کہ ہندوستان میں بچت کی روایت مضبوط رہی ہے، لیکن یہ پیداوار بخش سرمایہ کاری میں تبدیل نہیں ہو سکی۔ جیو بلیک راک گھریلو بچت کو کیپٹل مارکیٹ سے جوڑ کر آمدنی اور دولت پیدا کرنے والا ذریعہ بن سکتا ہے۔

Mukesh Ambani.Photo:INN
مکیش امبانی۔ تصویر:آئی این این

ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش  امبانی نے کہا کہ ہندوستان  میں بچت کی روایت بہت پرانی اور مضبوط رہی ہے، لیکن یہ بچت بڑے پیمانے پر پیداوار بخش سرمایہ کاری اور دولت سازی میں تبدیل نہیں ہو سکی۔ امبانی نے کہا کہ اس خالی جگہ کو  جیو بلاک راک  پُر کر سکتا ہے۔ اگر گھریلو بچت کو قابل اعتماد اور آسان سرمایہ کاری کے آپشنز کے ذریعے کیپٹل مارکیٹ سے جوڑا جائے تو یہ بچت آمدنی اور اثاثہ بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ممبئی میں جیو بلیک راک   کے فائر سائیڈ چیٹ کے دوران جیو بلیک راک کے سی ای او لیری فنک   کے ساتھ بات چیت میں، امبانی نے اس تبدیلی کو  ہندوستان  کے لیے ایک بڑی اقتصادی امکان بتایا۔
بچت تو ہوئی، لیکن پیداوار بخش نہیں
مکیش امبانی نے کہا کہ پچھلے پانچ چھ دہائیوں میں  ہندوستانیوں نے لگاتار بچت کی ہے، لیکن یہ بچت بڑے پیمانے پر پیداوار بخش نہیں رہی۔ ان کے مطابق  جیو بلیک راک کا اصل موقع گھریلو رویوں میں تبدیلی لانے میں ہے۔ یہ پلیٹ فارم لوگوں کو صرف بچت جمع کرنے سے آگے بڑھا کر کیپٹل مارکیٹ میں فعال حصہ داری کی ترغیب دے گا اور اس کے لیے آسان اور قابل اعتماد سرمایہ کاری کے آپشن فراہم کرے گا۔
سیورز سے سرمایہ کار بننے کا راستہ 
مکیش امبانی نے کہا کہ جیو بلیک راک  کا فوکس سیورز کو سرمایہ کار میں بدلنے اور گھر میں رکھی بچت کو آمدنی پیدا کرنے والے اثاثوں میں تبدیل کرنے کے مواقع فراہم کرنے پر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا   ہندوستانیوں کو بچت کے ساتھ ساتھ یہ اختیار دینا ہے کہ وہ اپنی بچت کو آمدنی میں بدل سکیں۔

یہ بھی پڑھئے:کولمبو کا موسم پاکستان کا ویلن بننے کو تیار: ورلڈ کپ سے اخراج کا خطرہ منڈلانے لگا

بچت کا ذہنی رجحان برقرار رہے
ریلائنس کے چیئرمین نے کہا کہ اس تبدیلی میں  ہندوستان  کی مضبوط بچت کی سوچ کو کمزور نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے برقرار رکھتے ہوئے سوچ کا دائرہ وسیع کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوچ کو صرف نقصان اور خطرے سے بچنے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ لوگوں کو سرمایہ کاری سے ڈرنے کے بجائے اسے سمجھنے اور اپنانے کا موقع ملنا چاہیے۔ سرمایہ کاری کے مواقع آسان اور سب کے لیے قابل رسائی ہونے چاہئیں۔ عام لوگوں کے لیے سرمایہ کاری کوئی خاص یا مشکل چیز نہیں، بلکہ ایک عام اور فطری اختیار بننا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے:منوج باجپائی کی ’’گھوس خور پنڈت‘‘ عنوان کے سبب تنازع کا شکار

سرمایہ کی تقسیم کا سماجی مقصد
مکیش امبانی نے کہا کہ ریلائنس  انڈسٹریز  اور  بلیک راک  کا نظریہ بنیادی طور پر ایک جیسا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لیری فنک  کے ساتھ بات چیت میں یہ بات طے پائی کہ سرمایہ کی تقسیم کا مقصد صرف وقتی منافع تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ امبانی کے مطابق، اگر سرمایہ کو پہلے معاشرے اور معیشت کے وسیع مفاد میں استعمال نہیں کیا جاتا تو اس کا مقصد نامکمل رہ جاتا ہے۔ یہی سوچ رِلائنس کے فلسفے کی بنیاد بھی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK