Inquilab Logo Happiest Places to Work

۳۵؍ ہزار مربع فٹ کے ترنگے سے ڈومبیولی پُرجوش، ریکارڈ بنایا

Updated: August 16, 2026, 12:02 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

اس بے مثال کارنامے کو باضابطہ طور پر ورلڈ ریکارڈز انڈیا، ایشیا بک آف ریکارڈز اور انڈیا بک آف ریکارڈز میں درج کیا گیا۔

People are seen with a 35,000 square feet long national flag in Dombivali. Photo: INN
ڈومبیولی میں ۳۵ ؍ہزار مربع فٹ طویل قومی پرچم کے ساتھ لو گ نظر آرہے ہیں ۔ تصویر: آئی این این

یوم آزادی کے موقع پر ڈومبیولی شہر حب الوطنی اور قومی اتحاد کے رنگ میں رنگ گیا۔ ۳۵ ؍ہزار مربع فٹ طویل قومی پرچم کو ہاتھوں میں تھام کر نکالی جانے والی شاندار ترنگا ریلی نے ایک نیا باب رقم کر دیا۔ اس بے مثال کارنامے کو باضابطہ طور پر ورلڈ ریکارڈزانڈیا، ایشیا بک آف ریکارڈز اور انڈیا بک آف ریکارڈز میں درج کرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے جس سے اس تقریب کو تاریخی اور عالمی سطح پر منفرد اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پوترپورٹل ویب سائٹ کی سست رفتاری سے اُمیدوار پریشان

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر شری کانت شندے فاؤنڈیشن اور شہر کی ۱۰۰ ؍سے زائد سماجی و فلاحی تنظیموں کے اشتراک سے ترنگا ریلی نکالی گئی۔ اس کا مرکزی خیال ’ترنگا تھامیں گے، عالمی ریکارڈ بنائیں گے‘ رکھا گیا تھا۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز ڈومبیولی مشرق کے گھارڈا سرکل پر واقع شہید کیپٹن ونے کمار سچان کی یادگار کو خراجِ عقیدت پیش کرکے کیا گیا۔ اس کے بعد ہزاروں افراد پر مشتمل یہ کارواں لوک مانیہ تلک کے مجسمے، چار راستہ اور نیرورکر روڈ سے گزرتا ہوا دتا نگر کی جانب روانہ ہوا۔ ریلی کے پورے راستے میں شرکاء کی جانب سے فلک شگاف قومی نعرے لگائے گئے اور حب الوطنی کے ترانوں نے فضا کو پُرجوش بنا دیا۔ ریلی کا اختتام دتا نگر میں واقع ساورکر گارڈن میں ۱۵۰ ؍فٹ بلند پرچم کے ستون پر ہوا جہاں رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے کے ہاتھوں پرچم کشائی انجام پائی۔ اس تاریخ ساز تقریب میں میئر ہرشالی تھویل، رکن اسمبلی راجیش مورے اور میونسپل کمشنر ابھینو گوئل سمیت متعدد اہم شخصیات موجود تھیں۔ تقریب کی خاص بات سماج کے ہر طبقے کی بلا تفریق شرکت تھی جن میں ۵۰ ؍سے زائد اسکولوں کے ۱۰؍ ہزار سے زیادہ طلباء اور طالبات، ۱۰۰؍ سے زائد سماجی اور ادبی تنظیموں کے نمائندے، سابق فوجی، اسکاؤٹس اینڈ گائیڈ، این سی سی اور این ایس ایس کے کیڈٹس اورمختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندےشامل ہیں جنہوں نے باہمی اختلافات بھلا کر قومی پرچم کے وقار کے لئے شرکت کی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK