ہندوستان اور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے پر ایک میٹنگ ہونے والی تھی، لیکن معتبر ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے اس غیرجانبدار عبوری تجارتی معاہدے کی آفیشل میٹنگ کو ری شیڈول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 7:27 PM IST | New York
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے پر ایک میٹنگ ہونے والی تھی، لیکن معتبر ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے اس غیرجانبدار عبوری تجارتی معاہدے کی آفیشل میٹنگ کو ری شیڈول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے پر ایک میٹنگ ہونے والی تھی، لیکن معتبر ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے اس غیرجانبدار عبوری تجارتی معاہدے کی آفیشل میٹنگ کو ری شیڈول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے پہلے ۱۰؍ فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا، جسے بعد میں ۱۵؍ فیصد کر دیا گیا۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک نے میٹنگ کو ری شیڈول کیا ہے۔
فریقین نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے اثرات پر غور کرنے کے لیے میٹنگ ری شیڈول کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے چیف ٹریڈ نیگوشی ایٹرز کی قیادت والی ٹیموں کے درمیان تین روزہ میٹنگ پہلے ۲۳؍ فروری کو امریکہ میں ہونی تھی۔ ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ غیرجابندارتجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ہندوستانی ٹیم کا واشنگٹن کا مجوزہ دورہ بعد میں ہوگا۔ پہلے فریقین امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے سے سامنے آنے والی تازہ معلومات کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میٹنگ کے لیے ایک نئی تاریخ مقرر کی جائے گی جو دونوں فریقین کے لیے موزوں ہو۔ یاد رہے کہ جمعہ کو سپریم کورٹ میں بڑے جھٹکے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتہ کو عالمی ٹیرف ۱۰؍ فیصد سے بڑھا کر ۱۵؍ فیصد کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے:ٹی وی کی ’گوپی بہو‘دیوولینا بھٹّاچارجی نے شوہر کے ساتھ افطار کیا
ٹروتھ سوشل پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے لکھاکہ ’’امریکی سپریم کورٹ کے کئی مہینوں کے غور و فکر کے بعد، کل جاری کیے گئے ٹیرف پر بے وجہ، غلط طور پر لکھے گئے اور انتہائی امریکہ مخالف فیصلے کی مکمل اور تفصیلی جانچ کے بعد میں امریکی صدر کے طور پر ممالک پر فوری طور پر لاگو ہونے والے ۱۰؍ فیصد عالمی ٹیرف کو بڑھا کر ۱۵؍ فیصد کر دوں گا، جن میں سے کئی ممالک دہائیوں سے بغیر کسی بدلے (جب تک میں نہیں آیا!) امریکہ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، اسے مکمل طور پر قانونی اور جائز ۱۵؍ فیصد سطح تک بڑھا دوں گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:کارلوس الکاراز کا قطر اوپن کے خطاب پر قبضہ
یاد رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کو ٹرمپ کے بڑے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ ایگزیکٹو برانچ نے ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر درآمدی ڈیوٹی لگا کر اپنے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ججوں نے ۳۔۶؍کے فیصلے میں کہا کہ دنیا بھر سے امریکہ میں آنے والی مصنوعات پر ٹیرف لگانے کے ٹرمپ کے جارحانہ طریقے کی ۱۹۷۷ء کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے ) کے تحت اجازت نہیں تھی۔اس فیصلے کے بعد ٹرمپ کے کئی، لیکن سب نہیں، ٹیرف غیر مؤثر ہو گئے۔ گورنروں کے ساتھ میٹنگ کے دوران اس بارے میں بتایا جانے پر ناراض ٹرمپ نے فیصلے کو شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس ایک بیک اپ پلان موجود ہے۔