Updated: November 28, 2025, 10:31 AM IST
|
Agency
| Chennai
آج سے جونیئر ہاکی ورلڈ کپ کی شروعات،۲۴؍ٹیموں کی شرکت،چنئی اور مدورائی میں میچ کھیلے جائیںگے،میزبان ٹیم کی نگاہیں۹؍سال بعد خطاب جیتنے پر مرکوز
ہندوستان کی جونیئر ہاکی ٹیم ورلڈ کپ کیلئے تیار ہے۔ تصویر:آئی این این
ٹورنامنٹ کی تاریخ میں مشترکہ طور پر دوسری سب سے کامیاب ٹیم، میزبان ہندوستان جمعہ کو یہاں مردوں کے جونیئر ہاکی ورلڈ کپ کے اپنے پہلے پول میچ میں چلی کے خلاف ایک بڑی فتح درج کرکے ۹؍ سال بعد اپنی سرزمین پر خطاب جیتنے کی مہم کا شاندار آغاز کرنے کی کوشش کرے گا۔۲؍ بار کی چمپئن ہندوستانی ٹیم نے آخری بار یہ ٹورنامنٹ ۲۰۱۶ء میں لکھنؤ میں ہریندر سنگھ کی رہنمائی میں جیتا تھا۔واضح رہے کہ ہریندر سنگھ اب سینئر خواتین ٹیم کے کوچ ہیں۔
موجودہ ٹورنامنٹ میں ہندوستان کو پول ’بی ‘میں رکھا گیا ہے اور وہ اس گروپ سے آگے بڑھنے کا سب سے بڑا دعویدار ہے۔ہندوستان اور چلی کے علاوہ عمان اور سوئزر لینڈ پول’ بی‘ میں شامل دیگر ٹیمیں ہیں۔ پاکستان نے’آپریشن سیندور‘کے بعد حفاظتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستان کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد اس کی جگہ عمان کو شامل کیا گیا ہے۔ ہندوستان نے ۲۰۰۱ء میں ہوبارٹ اور ۲۰۱۶ء میں لکھنؤ میں خطاب جیتا تھا۔ ۴۶؍ سال پہلے ۱۹۷۹ءمیں شروع ہوئے اس ٹورنامنٹ میں جرمنی سب سے کامیاب ٹیم ہے، جس نے۷؍ ٹائٹل جیتے ہیں۔ ہندوستان کے علاوہ، ارجنٹائنا نے بھی۲؍ بار ۲۰۰۵ء اور ۲۰۲۱ءمیں جونیئر ورلڈ کپ جیتا تھا۔ پاکستان نے ۱۹۷۹ءمیں فرانس میں کھیلا گیا پہلا ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا، جبکہ آسٹریلیا نے ۱۹۹۷ء میں ملٹن کینز میں ہندوستان کو شکست دے کر یہ خطاب جیتا تھا۔ہندوستان۲۰۲۳ء میں کوالالمپور میں کھیلے گئے پچھلے جونیئر ورلڈ کپ میں چوتھے نمبر پر رہا تھا۔ وہ کانسےکے تمغے کے میچ میں اسپین سے تین ایک سے ہار گیا تھا۔ تب جرمنی چمپئن بنا تھا۔اس بار ورلڈ کپ چنئی اور مدورائی میں کھیلا جائے گا جس میں ریکارڈ ۲۴؍ ٹیمیں خطاب کیلئے مقابلہ کریں گی۔ ٹیموں کو ۶؍ گروپ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر گروپ میں ۴؍ ٹیمیں ہیں جو راؤنڈ روبن کی بنیاد پر ایک دوسرے کا سامنا کریں گی۔ ہر گروپ سے ٹاپ پر رہنے والی ٹیم اور دوسرے نمبر پر رہنے والی ۲؍ ٹیمیں کوارٹر فائنل میں جگہ بنائیں گی۔عالمی درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر موجود ہندوستان خطاب کا مضبوط دعویدار ہے۔ جرمنی انڈر ۔۲۱؍کیٹیگری میں دنیا کی سرفہرست رینکنگ والی ٹیم ہے۔
یہ ٹورنامنٹ ۲؍ بار کے اولمپک میڈلسٹ گول کیپر سے کوچ بنے پی آر سریجیش کے لئے سب سے بڑی آزمائش ہوگی جو مستقبل میں سینئر ٹیم کی رہنمائی کے لئے اپنی کوچنگ کی صلاحیت ثابت کرنے کیلئے بے تاب ہوں گے۔ ملائیشیا میں سلطان جوہر کپ میں چاندی کا تمغہ جیتنے کے بعد ہندوستانی ٹیم اچھے فارم میں ہے اور وہ ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے کا بھی پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔لیکن سلطان جوہر کپ کے دوران پنالٹی کارنر پر گول کرنے میں ناکامی اب بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ہندوستان نے ٹورنامنٹ میں ۵۳؍پنالٹی کارنر پر صرف ۸؍ گول کئے تھے۔
سریجیش ٹیم کی اس کمزوری سے واقف ہیں اور انہوں نے اس کیلئے مناسب اقدامات بھی کئے ہیں۔سریجیش نے ملائیشیا سے واپسی پر کہا تھا’’ملائیشیا میں پنالٹی کارنر پر گول نہ کر پانا تشویش کا باعث تھا لیکن ہم نے اس مسئلے کا حل نکال لیا ہے۔ ہم نے پنالٹی کارنر اور پنالٹی کارنر دفاع، دونوں پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ہمارے پاس اچھے ڈریگ فلکر ہیں، جو دن میں۲۰۰؍سے ۳۰۰؍بار فلک کرتے ہیں۔ انہوں نے ٹورنامنٹ سے تجربہ حاصل کیا ہے اور اب بہتر طریقے سے تیار ہیں۔‘‘
ہندوستانی کپتان روہت کو پنالٹی کارنر پر اضافی ذمہ داری لینی ہوگی کیونکہ سب سے تجربہ کار ڈریگ فلکر اریجیت سنگھ ہندل کندھے کی چوٹ کی وجہ سے باہر ہیں۔بکرم جیت سنگھ اور پرنس دیپ سنگھ گول کیپر ہیں، جبکہ دفاع میں کپتان روہت، عامر علی، انمول ایکا، طالم پریو بارٹا، سنیل پلکشپا بینور اور شاردانند تیواری ذمہ داری سنبھالیں گے۔مڈ فیلڈ میں انکت پال، ادروہت ایکا، تھوناوجام انگالمبا لوانگ، منمیت سنگھ اور روسن کوجور ہوں گے جبکہ سوربھ آنند کشواہا، عرشدیپ سنگھ، اجیت یادو، دلراج سنگھ اور گرجوت فارورڈ لائن کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
سریجیش نے اپنے کھلاڑیوں کو حریفوں کے تیز جوابی حملوں کےلئے بھی تیار کیا ہوگا جو سلطان جوہر کپ کے دوران ایک مسئلہ تھا۔ ہندوستان کو ملائیشیا میں پاکستان اور آسٹریلیا جیسی ٹیموں کے تیز جوابی حملوں سے نمٹنے میں جدوجہد کرنی پڑی تھی۔ ایف آئی ایچ کی درجہ بندی میں ۱۸؍ ویں نمبر پر موجود چلی سے جمعہ کو ہندوستان کو خاص چیلنج ملنے کی امید نہیں ہے لیکن کسی بھی ٹیم کو کمزور سمجھنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ اس لئے ہندوستانی ٹیم ایسا کرنے سے بچنا چاہے گی۔ہندوستانی ٹیم چلی کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتح کے ساتھ اپنی مہم کا آغاز کرنا چاہےگی۔