بنگلہ دیش کی مداخلت کام آئی، اسلام آباد حکومت نے ’’دوست ممالک کی درخواست پر‘‘ اپنی ٹیم کو ہندوستان کے خلاف کھیلنے کی اجازت دیدی
EPAPER
Updated: February 11, 2026, 6:48 AM IST | lahore
بنگلہ دیش کی مداخلت کام آئی، اسلام آباد حکومت نے ’’دوست ممالک کی درخواست پر‘‘ اپنی ٹیم کو ہندوستان کے خلاف کھیلنے کی اجازت دیدی
ٹی -۲۰؍ ورلڈ کپ میں ۱۵؍ فروری کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سری لنکا میں کرکٹ میچ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوگا۔ پی سی بی کے ساتھ آئی سی سی کی میٹنگ اور بنگلہ دیش کی مداخلت کے بعد پاکستانی سرکار بے بالآخر اپنی ٹیم کو اس کی اجازت دے دی ہے۔
میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے کو واپس لینے کا اعلان حکومت پاکستان نے ’’ایکس‘‘ پر یہ کہتے ہوئے کیا کہ ’’دوست ممالک کی درخواست کے پیش نظر‘‘ انہوں نے پاکستانی ٹیم کو ہندستان کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔ واضح رہے کہ اس میں بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کا اہم رول ہے جو خود ٹی -۲۰؍ کا حصہ نہیں ہے تاہم اس نے پاکستان کو اس بات کیلئے آمادہ کرنے میں اہم رول ادا کیاکہ ہندوستان کے خلاف اس کے میچ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے درمیان گزشتہ چند دنوں سے ہندستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے پاکستان حکومت کے فیصلے کو واپس لینے کے حوالے سے میٹنگوںکا سلسلہ جاری تھا۔ اقتصادی نقطہ نظر سے یہ اس ورلڈ کپ کا سب سے زیادہ منافع بخش میچ ہے۔
پیر کی شام ہی پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے کہہ دیاتھا کہ ’’ہندستان کے خلاف پاکستان کے میچ کا فیصلہ اگلے ۲۴؍ تا ۴۸؍ گھنٹوں میں آسکتا ہے۔‘‘ اِس اخبار نے اپنی پیر کی اشاعت میں یہ واضح کیا تھا کہ ’’امکانات روشن‘‘ ہوئے ہیں اس لئے ہند پاک میچ کا ہونا طے ہے۔
ایک طرف جہاں بنگلہ دیش نے ہند-پاک میچ کیلئے پاکستان کو آمادہ کرنے میں اہم رول ادا کیا وہیں آئی سی سی نے بھی بنگلہ دیش کے بارے میں اپنا موقف نرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیشی ٹیم پر ٹی-۲۰؍ ورلڈ کپ کیلئے ہندستان کے سفر سے انکار پر کوئی جرمانہ نہیں لگایا جائے گا۔ آئی سی سی نے ۲۰۲۸ء سے ۲۰۳۱ء کے درمیان بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو ایک اضافی آئی سی سی ٹورنامنٹ کیلئے میزبانی کے حقوق بھی دینے کا اعلان کیا ہے۔آئی سی سی کی جانب سے ہند پاک میچ کے تعلق سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے درمیان بات چیت ایک وسیع تر رابطے کا حصہ تھی اور دونوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ کھیل کے بہترین مفاد کیلئے دیانت داری، غیر جانبداری اور تعاون کے ساتھ تعمیری انداز میں مل کر کام کرنا ضروری ہے۔‘‘