Updated: February 10, 2026, 6:09 PM IST
| Moscow
روسی وزیر خارجہ سرگئی لارووف نے ایک بیان میں امریکہ پر ہندوستان پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے، تاکہ روسی تیل خریدنے سے روکنے کیلئے دبائو بنایا جاسکے؛روسی تیل کی خریداری کے تعلق سے غیر یقینی صورتحال کے درمیان امریکہ پر روس کا یہ بڑا الزام ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نےایک اہم بیان میں، پیر ۹؍ فروری کو کہا کہ ہندوستان اور دیگر شراکت داروں کو روسی تیل خریدنے سے روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ لاوروف نے ایسے وقت میں براہ راست امریکہ کا نام لیا، جب ہندوستان نے ٹرمپ کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے کا یقین دلایا ہے۔دریں اثناءلارووف نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ اقتصادی غلبہ حاصل کرنے کے اپنے مقصد کے لیے ٹیریف،پابندیوں اور براہ راست ممانعت جیسے جبری حربے استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستان اور ہمارے دیگر شراکت داروں کو سستے، قابل رسائی روسی توانائی کے وسائل خریدنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں مہنگے داموں امریکی ایل این جی خریدنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: چین امریکہ تعلقات میں بہتری کے اشارے، صدر شی جن پنگ امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں: ٹرمپ
تاہم انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ یوکرین کے ساتھ امن معاہدہ کرتے وقت، ماسکو اس بات کو بھی ذہن میں رکھے گا کہ واشنگٹن ہندوستان اور دیگر برکس رکن ممالک جیسے اہم سٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ اپنے تجارت، سرمایہ کاری کے تعاون اور فوجی-تکنیکی تعلقات پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ لارووف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستانی وزیر خارجہ وکرم مسری نے کہا تھا کہ ’’قومی مفاد ہی ہندوستان کے توانائی سے متعلق فیصلوں کی رہنمائی کرتا رہےگا، اور اس بات پر زور دیا تھا کہ ملک کی توانائی پالیسی کے کلیدی محرکات مناسب دستیابی، منصفانہ قیمتوں کا تعین اور رسد کا قابل اعتماد ہونا ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی صارفین کے مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔جبکہ اس سے قبل اتوار کو، مرکزی وزیر تجارت اور صنعت پیوش گوئل نے واضح کیا تھا کہ روسی تیل کے درآمدات کے بارے میں ہندوستان کے فیصلے صرف گھریلو خریدار کرتے ہیں اور حال ہی میں طے پانے والے ہندوستان -امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کے فریم ورک کا ان پر کوئی حکم نہیں چلتا، اور کہا کہ اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا ملک کے اسٹریٹجک مفاد میں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: با اثر لیڈران کو بچوں کیساتھ زیادتی پر جوابدہ نہ بنانا انصاف کیخلاف ہے
مزید برآں وزارت خارجہ نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ معروضی مارکیٹ کی شرائط اور بدلتی ہوئی بین الاقوامی منظرنامے کے مطابق توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا ہندوستان کی اس حکمت عملی کا مرکز ہے جو اپنی آبادی کے لیے توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنائی گئی ہے۔جبکہ وزیر اعظم مودی نے پیر۲؍ فروری کو امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کی تصدیق کی اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت کی تعریف کی، اسے عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اہم قرار دیا۔یاد رہے کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان اس معاہدے کے حصے کے طور پر روسی تیل خریدنابند کر دے گا۔جبکہ حکومت یا وزیر اعظم مودی نے اب تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
علاوہ ازیں ٹرمپ، جنہوں نے گزشتہ سال کے آخر میںہندوستانی برآمدات پر۲۵؍ فیصد ٹیریف لگایا تھا اور بعد میں روس سے تیل خریدنے پر دہلی کو سزاکے طور پر اسے دوگنا کرکے ۵۰؍ فیصد کر دیا تھا، نے اب ٹیریفکو گھٹا کر۱۸؍ فیصد کر دیا ہے۔۹؍ فروری کو معاہدے پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے، وہائٹ ہاؤس نے اس معاہدے کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیا، اور معاہدے کے اہم نکات کا ذکر کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس میں ہندوستان کی روسی تیل کی خریداری کے بارے میں کچھ واضح ذکر نہیں تھا۔جبکہ ٹرمپ اور مودی کے مابین ٹیلی فونک گفتگو میں کہا گیا تھا کہ’’ امریکہ نے روسی فیڈریشن کا تیل خریدنے سے متعلق ہندوستان کی یقین دہانی کے بعد درآمدات پر اضافی۲۵؍ فیصد ٹیریف ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔‘‘