Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کی ٹیسٹ تاریخ کی سب سے بڑی فتح، افغانستان کو شکست دی

Updated: June 08, 2026, 9:04 PM IST | Mallanpur

ہندوستانی اسپنرز مانو ستھار، واشنگٹن سندر اور کلدیپ یادو کی جادوئی بولنگ کی بدولت ہندوستان نے واحد ٹیسٹ میچ کے تیسرے ہی دن پیر کے روز فالو آن کا شکار افغان ٹیم کو دوسری اننگز میں محض۱۱۲؍ رنز پر ڈھیر کردیا۔

Team India.Photo:X
ہندوستانی ٹیم۔ تصویر:ایکس

ہندوستانی اسپنرز مانو ستھار، واشنگٹن سندر اور کلدیپ یادو کی جادوئی بولنگ کی بدولت ہندوستان  نے واحد ٹیسٹ میچ کے تیسرے ہی دن پیر کے روز فالو آن کا شکار افغان ٹیم کو دوسری اننگز میں محض۱۱۲؍ رنز پر ڈھیر کر کے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی فتح (اننگز اور ۳۰۰؍رن) اپنے نام کر لی ہے۔ ڈیبیو میچ میں تباہ کن بولنگ کرنے والے نوجوان اسپنر مانو ستھار کو ان کی شاندار کارکردگی پر پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔


ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن مجموعی طور پر ۱۴؍ وکٹ گریں، جہاں چائے کے وقفے کے بعد افغان ٹیم  ہندوستانی بولرس کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور آخری ۴؍وکٹ صرف ۱۴؍ رنز کے اضافے پر گر گئیں۔ افغانستان کے بلے باز شرف الدین اشرف انجری کے باعث دوسری اننگز میں بیٹنگ کے لیے میدان میں نہ اتر سکے۔چائے کے وقفے تک افغانستان نے ۹۸؍ رنز پر اپنے۵؍ ٹاپ آرڈر بلے باز گنوا دیے تھے۔ وقفے کے بعد کھیل شروع ہوتے ہی ہندوستانی بولرس افغان لوئر آرڈر پر ٹوٹ پڑے۔

یہ بھی پڑھئے:فلم ’’پیدی ‘‘پہلے ۴؍دنوں میں عالمی سطح پر ۳۰۰؍ کروڑ کا ہندسہ عبورنہ کر سکی


 ۳۲؍ویں اوور میں آغاز کرنے والے مانو ستھار نے افسر زازئی (۸؍ رنز) کو آؤٹ کر کے ہندوستانی کو چٹھی کامیابی دلائی۔ عظمت اللہ عمرزئی (۴؍ رنز) کو واشنگٹن سندر نے پویلین کی راہ دکھائی۔۳۶؍ویں اوور کی چوتھی اور پانچویں گیند پر کلدیپ یادو نے ننگیالیہ خروٹی (۶؍ رن) اور محمد سلیم (صفر) کو لگاتار گیندوں پر آؤٹ کر کے ۱۱۲؍ رنز پر افغان اننگز کا کام تمام کر دیا۔افغانستان کی جانب سے دوسری اننگز میں صدیق اللہ اٹل ۴۲؍ رنز بنا کر نمایاں رہے۔

یہ بھی پڑھئے:فیفاعالمی کپ ۲۰۲۶ء: اس سال کے ورلڈ کپ کا سب سے کم عمر کھلاڑی کون ہے؟

ہندوستان کی طرف سے واشنگٹن سندر نے۴، کلدیپ یادو نے ۳، جبکہ مانو ستھار اور محمد سراج نے ایک ایک وکٹ حاصل کیا۔یہ ٹیسٹ میچ راجستھان سے تعلق رکھنے والے بائیں ہاتھ کے نوجوان اسپنر مانو ستھار کے خوابوں کے آغازکے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے میچ میں مجموعی طور پر ۷؍ وکٹ حاصل کئے۔ پہلی اننگز میں ان کے ۶؍ وکٹوں کے تباہ کن اسپیل کی بدولت ہی ہندوستان نے افغانستان کو محض ۱۵۲؍ رنز پر سمیٹ کر ۴۱۲؍ رنز کی پہاڑ جیسی برتری حاصل کی تھی اور میچ کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK