Updated: July 08, 2026, 12:57 PM IST
|
Inquilab News Network
| Mumbai
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اُن کے جسد خاکی کو محفوظ رکھنے اور جنگ ختم ہونے کے بعد مختلف شہروں میں جلوس جنازہ نکالنے اور دُعائیہ تقریبات کا اہتمام کرنے کے ذریعہ عوام کو سنہرا موقع عنایت کیا گیا کہ وہ اپنے رہبر اعظم کا دیدار کرلیں، اُن کے جلوس جنازہ میں شریک ہوں۔
ایران ٹیم ۔تصویر:پی ٹی آئی
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اُن کے جسد خاکی کو محفوظ رکھنے اور جنگ ختم ہونے کے بعد مختلف شہروں میں جلوس جنازہ نکالنے اور دُعائیہ تقریبات کا اہتمام کرنے کے ذریعہ عوام کو سنہرا موقع عنایت کیا گیا کہ وہ اپنے رہبر اعظم کا دیدار کرلیں، اُن کے جلوس جنازہ میں شریک ہوں، اُن کیلئے منعقد کی جانے والی دُعائیہ تقریبات کا حصہ بنیں اور تدفین کے وقت موجود رہ کر اُنہیں الوداع کہیں۔ تقریبات ہفتہ بھر جاری رکھنے اور الگ الگ مقامات پر اس کا اہتمام کرنے کا منصوبہ ایرانی قیادت کی حکمت اور تدبر کا غماز ہے۔
اگر اُن کی شہادت کے فوراً بعد یا دوسرے تیسرے دن ہی تدفین کردی جاتی تو میزائلوں اور بموں کے خطرہ کے پیش نظر تدفین کا پورا عمل جتنی جلد ممکن ہوتا، مکمل کرنا پڑتا۔ نہ زیادہ لوگ شریک ہوپاتے نہ ہی دیگر ملکوں کی اعلیٰ قیادت یا اُن کے نمائندہ وفود کی میزبانی کا موقع ملتا۔ اس پس منظر میں جو فیصلہ کیا گیا اس میں ذہانت بھی ہے اور ندرت بھی۔ اس کی وجہ سے عوام کو رہبر اعظم سے اپنی گہری عقیدت اور محبت نیز الگ الگ ملکوں کی اعلیٰ قیادت کو ایران کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا موقع ملا۔
اس کا سیاسی زاویہ بھی ہے۔ اس کے ذریعہ ایران نے عوام کو جوڑنے اور اُن میں یکجہتی پیدا کرنے کی تدبر آمیز کوشش ہی نہیں کی، مخالفین بالخصوص امریکی قیادت کو یہ پیغام بھی دیا کہ آپ جس شخصیت کے خلاف لعن طعن کرتے تھے، جس سے خدا واسطے کا بیر رکھتے تھے، جس کے بارے میں یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ اس شخصیت سے عوام نالاں ہیں، اور یہی شخصیت ایران کی بدحالی کی ذمہ دار ہے تو وہ جاگتی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ ایرانی عوام اپنے سپریم لیڈر کو کس قدر عزیز رکھتے ہیں، اُن کے دلوں میں اس شخصیت کیلئے کتنا احترام ہے اور اگر اُنہوں نے ۳۷؍ سال تک قیادت سنبھالی تو اس کا حقیقی سبب کیا تھا۔ اتنے برس اقتدار میں رہنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اُن کے طویل دورِ اقتدار کے پس پشت حکومت کا آہنی پنجہ نہیں تھا جیسا کہ الزام عائد کیا جاتا ہے بلکہ رہبر اعظم کو رہبر اعظم ماننے اور اُن کے حکم کو بسر و چشم قبول کرنے کا وہ شاندار جذبہ تھا جو اہل ایران کو امتیاز عطا کرتا ہے۔
ایران کے مخالفین بالخصوص اسرائیل اور اُس کے مغربی پشت پناہوں نے اُس وقت جشن منایا تھا جب خامنہ ای اور اُن کے اہل خانہ کو جام شہادت نوش کرنا پڑا تھا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ شہادت دراصل اپنے وطن سے بے پناہ محبت اور اس کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کی وہ بہادری تھی جسے بنکرو ں میں چھپنے والے لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ خامنہ ای اور اُن کے اہل خانہ نے جام شہادت نوش کرکے اپنے موجودہ اور آنے والے عوام کے دلوں میں جگہ بنالی۔ عالمی تاریخ ِ شہادت اس سانحہ کو اپنے صفحات میں محفوظ کرچکی ہے جس پر موجودہ نسل کو بھی فخر ہے اور آنے والی نسلیں بھی فخر کریں گی۔ کم و بیش ۸۰؍ ملکوں کی اعلیٰ قیادت یا اُن کے نمائندوں کی شرکت اور خراج عقیدت پیش کرنے والے عوام کا تاریخی مجمع بھلے ہی ٹرمپ کی آنکھوں میں چبھ رہا ہو اور اُن کی عقل ٹھکانے نہ آرہی ہو مگر وہ تنہائی میں سوچتے ضرور ہوں گے کہ قیادتیں اپنے دعوؤں سے سپر پاور نہیں بنتیں، اپنے کردار و عمل سے بنتی ہیں۔