• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا بورڈ آف پیس غزہ کیلئے ہے؟

Updated: February 12, 2026, 12:00 PM IST | Ramzi Barud | New Delhi

حقیقت یہ ہے کہ دکھایا کچھ جارہا ہے اور بیچا کچھ جائے گا۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بورڈ آف پیس غزہ کی تعمیر نو کیلئے ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا ہو مگر امریکہ کا مقصد صرف اتنا نہیں ہوسکتا کیونکہ اسے اپنے مفادات کے آگے کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔

The Peace Board Of Gaza.Photo:INN
پیس بورڈ آف غزہ۔فوٹو:آئی این این
امریکہ کی عادت ہے کہ وہ یا تو کوئی نیانظام لے کر آتا ہے یا موجودہ نظام کی نئی تشکیل پر زور دیتا ہے۔ اس کی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیجئے۔ اس نے ہمیشہ یہی کیا ہے۔ یہ تین جملے بے محل بھی لگ سکتے ہیں اور غیر ضروری بھی۔ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ لیجئے آپ امریکہ میں خامیاں نکال رہے ہیں جبکہ اس کا صدر بورڈ آف پیس بنا کر قیام امن کیلئےسرگرداں ہے۔ ٹرمپ نے جب ورلڈ اکنامک فورم (ڈیواس) میں اس کا اعلان کیا تو بہت سوں نے عجلت میں رائے قائم کی اور کہا کہ صدرِ امریکہ نے خود کو امریکی خارجہ پالیسی سے الگ کرلیا ہے اور اب وہ کچھ نیا سوچ رہے ہیں۔ مگر ایسی رائے قائم کرنے والے غلطی پر ہیں۔ اس لئے کہ وہ ٹرمپ کی شعبدہ بازی کے زیر اثر ہیں جس کے تحت وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُنہوں نے جنگیں رُکوائیں، عالمی تنازعات کو حل کروایا اور اس طرح دُنیا کو محفوظ بنانے پر خاص توجہ دی۔ اُن کی یہ سرگرمیاں نظر کا دھوکہ ہیں۔ اُنہوں نے ڈیواس میں جو کیا وہ قیام ِ امن میں امریکہ کی خود ساختہ تاریخی قیادت کی دعویداری تھا جس کے تحت اُنہوں نے نام نہاد سفارتی پیش رفتوں کی ستائش کی اور بورڈ آف پیس کو ایک غیر جانبدار اور ہمدردانہ میکانزم قرار دیا نیز یہ کہا کہ اس کے ذریعہ کرۂ ارض کے سب سے زیادہ غیر مستحکم خطہ کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔مگر، اکثر لوگ یہ نہیں سمجھ پائے۔ اُنہیں حالات کا بغور مشاہدہ کرنا چاہئے۔ ٹرمپ وہی کررہے ہیں جو امریکی خارجہ پالیسی ساز کرتے آئے ہیں۔ وہ یہ کہ دُنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی تنازع ہو وہاں مداخلت کرنا اور پھر یہ باور کرانے کی کوشش کرنا کہ ہم اسے ٹھیک کردیں گے۔ اس دوران وہ عالمی اتفاق رائے کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور ایسا سیاسی نظام قائم کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں جس کی تعریف بھی وہی بیان کرتے ہیں، اس کی باگ ڈور بھی وہی سنبھالتے ہیں اور بالآخر، اُس پر کنٹرول بھی اپنا ہی رکھتے ہیں۔بورڈ آف پیس کیا ہے؟ اسے آپ ایسا سیاسی کلب کہہ سکتے ہیں جس میں وہی شریک ہوسکتا ہے جس کو مدعو کیا گیا ہو، اس کی روح رواں ٹرمپ ہی ہوں گے، کوئی اور نہیں۔ اس بورڈ کے ذریعہ امریکہ عالمی اُمور کا خود ساختہ نگراں بننا چاہتا ہے۔ اپنی اس نئی حیثیت میں وہ خود کو ایسے خانے میں رکھنے کا خواہشمند ہے جس میں اقوام متحدہ جیسا ادارہ ہی فٹ ہوسکتا ہے۔ گویا، اُس کی کوشش ہے کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا نعم البدل بن جائے اور پھر اس عالمی ادارہ پر پورا کا پورا کنٹرول امریکہ کا ہو۔ ٹرمپ نے اپنے اس عزم کا کھلم کھلا اظہار نہیں کیا مگر بین الاقوامی قوانین کا مذاق اُڑانا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد کے عالمی نظام کی نئی تشکیل کے تعلق سے فکرمند ہونا بہت کچھ سمجھاتا ہے کہ اُن کے حقیقی عزائم کیا ہیں۔ 
 
 
جو ادارہ قائم کیا جارہا ہے وہ غزہ کی تعمیر نو کیلئے ہے۔ وہ آبادی جسے اسرائیل نے تہس نہس کردیا اور جہاں نسلی صفائے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، اُس کو نئے سرے سے تعمیر کرکے بظاہر ہمدردی کی نام نہاد تاریخ مرتب کی جارہی ہے اور ستم ظریفی دیکھئے کہ اس میں اہل غزہ کو شامل نہیں کیا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ہمدردی کیوں دکھائی جارہی ہے جبکہ اسرائیل کی مسلط کی ہوئی جنگ کے دوران سیاسی پشت پناہی سے لے کر فوجی تعاون اور سفارتی طور پرتل ابیب کا دفاع کرنے تک سب کچھ امریکہ کی سرپرستی میں ہوا، چاہے صدر بائیڈن رہے ہوں یا ٹرمپ ہوں۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ٹرمپ کا سروکار امن سے ہے خاص طو ر پر غزہ سے نہیں ہے تو سوال یہ ہوگا کہ بورڈ آف پیس کی حقیقت کیا ہے؟ میرے خیال میں بورڈ آف پیس کا خاکہ غزہ کی تعمیر نو سے متعلق ہے نہ ہی انصاف سے۔ اس کا مقصد غزہ کے مسائل و مصائب کی آڑ میں ایک ایسا امریکی نظام کرنا ہے جو پہلے مشرق وسطیٰ میں قائم ہو اور پھر دیگر خطوں میں اس کی توسیع کی جائے۔ خود سوچئے کیا ۳۶۵؍ مربع کلو میٹر کے غزہ کو کسی ایسے سیاسی نظام (بورڈ) کی ضرورت ہے جس میں کئی درجن عالمی لیڈر ہوں جن میں سے ہر ایک مبینہ طور پر ایک ارب ڈالر کی ممبر شپ لے؟ غزہ کو کس چیز کی ضرورت ہے؟ تعمیر نو کی اور اس کے عوام کو اپنے بنیادی حقوق کی۔ اس کے علاوہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اسرائیل کو اُس کے جرائم کی سزا ملے۔ اقوام متحدہ، بین الاقوامی قانون، حقوق انسانی کے اداروں اور خود فلسطینیوں کے ذریعہ یہ چند مقاصد بآسانی پورے کئے جاسکتے ہیں۔ بورڈ آف پیس کے پیش نظر یہ مقاصد نہیں ہیں بلکہ اس کے ذریعہ ایک ایسا نظام مقصود ہے جس میں اسرائیل اور امریکہ کے سیاسی اورجغرافیائی مفادا ت کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فلسطین سو سال پیچھے چلا جائے گا اور خود کو اُس دور میں پائے گا جس میں مغربی طاقتیں اُس کے مستقبل کا تعین نسل پرستانہ بنیاد پر کرتی تھیں ۔ یہی ہے بورڈ آف پیس۔ اس کےذریعہ ٹرمپ عالمی لیڈر ہونے کے اپنے خبط کو طاقت دیں گے اور امریکہ ہر تنازع سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے گا۔ کنیڈا کی مصنفہ نومی کلین نے اپنے ناول ’’دی شاک ڈاکٹرین‘‘ میں اس تصور سے بحث کی تھی کہ کس طرح جنگوں، آسمانی آفات یا سماجی انتشار کو ایک انقلابی پالیسی کے ذریعہ بھنایا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس اس خاکہ کے عین مطابق ہے۔اسی لئے غزہ کی تباہی کو انصاف اور جوابدہی کے نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ سیاسی حقائق کو تبدیل کرنے کے موقع کے طور پر دیکھا جارہا ہے تاکہ امریکی غلبہ بڑھے اور بین الاقوامی ضابطے حاشئے پر لا دیئے جائیں۔ امریکہ کی کارگزاریوں کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ امریکہ تو ہمیشہ یہی کرتا رہا ہے۔
 
 
۱۹۴۵ء میں اس نے لیگ آف نیشنز کو ختم کرکے اقوام متحدہ کی تشکیل کا راستہ ہموار کیا تھا۔ اس کے منصوبہ ساز اُس وقت کے امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ تھے جنہیں ایک نئے عالمی ادارہ کی ضرورت تھی جو دُنیا میں امریکی مفادات کے حصول کیلئے آلۂ کار بنے ۔  اسی مقصد کے تحت سلامتی کونسل بنائی گئی اور اسی کے تحت ویٹو سسٹم جاری کیا گیا تاکہ عالمی اُمور پر واشنگٹن کی دھاک قائم ہو۔ اقوام متحدہ نے جب جارج بش کو عراق پر حملے کی اجازت نہیں دی تب اس ادارہ کو ’’بے معنی‘‘ قرار دیا گیا ۔ تب ہی جارج بش نے جو سینئر بش تھے، عالمی اتحاد قائم کرکے عراق پر حملہ کیا، اس کی اینٹ سے اینٹ بجائی اور پورے خطہ کو غیر مستحکم کردیا۔ اس کے اثرات آج بھی باقی ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کے عزائم اور طریق کار آج بھی  وہی ہے جو کل تھا۔ نئے نئے حالات میں امریکہ جو کچھ کرتا ہے وہ اپنے انہی عزائم اور طریق کار کے مطابق کرتا ہے۔ اس میں تبدیلی نہیں آتی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK