مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو یقین دلایا ہے کہ بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں سرحد پر لے جاکر اُس طرف دھکیلے گئے کچھ افراد کو ان کی شہریت کی تصدیق کیلئے ہندوستان واپس لایا جائے گا۔
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 12:25 PM IST | New Delhi
مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو یقین دلایا ہے کہ بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں سرحد پر لے جاکر اُس طرف دھکیلے گئے کچھ افراد کو ان کی شہریت کی تصدیق کیلئے ہندوستان واپس لایا جائے گا۔
مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو یقین دلایا ہے کہ بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں سرحد پر لے جاکر اُس طرف دھکیلے گئے کچھ افراد کو ان کی شہریت کی تصدیق کیلئے ہندوستان واپس لایا جائے گا۔ اس محض شبہ کی بنیاد پر زبردستی بنگلہ دیش کی سرحد پر دھکیل دیئے جانے والوں کی ملک واپسی کے تئیں امید کی کرن نظر آئی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوایمالیا باغچی اور جسٹس وپل پنچولی پر مشتمل بنچ کے سامنے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے یہ یقین دہانی کرائی۔ عدالت مرکزی حکومت کی طرف سے دائر درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی جن میں کلکتہ ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ مذکورہ فیصلے میں بنگالی بولنے والے بعض افراد کو ہندوستان واپس لانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہاکہ حکومت انہیں واپس لائے گی، ان کے ہندوستانی شہریت کے دعووں کی تصدیق کرے گی اور پھر تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: پیٹرول خریدنے کیلئے’ سات بارہ‘ ہونا ضروری؟
جواب دہندگان کی نمائندگی کرنے والےسینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے نے عدالت سے سالیسٹر جنرل کے اس بیان کو ریکارڈ کرنے کی درخواست کی۔ اس پر تشار مہتا نے کہا کہ یہ موقف کیس کے خاص حالات کی روشنی میں اختیار کیا جا رہا ہے اور اسے مستقبل میں ریفرنس کیلئے بطورمثال پیش نہیں جاسکےگا۔
سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ان افراد کو واپس لانے میں آٹھ سے دس دن لگیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ ستمبر۲۰۲۵ءمیں کلکتہ ہائی کورٹ نے ہیبیس کارپس کی درخواستوں پرسونالی خاتون، ان کے شوہر دانش شیخ اور بیٹے صابر شیخ کی وطن واپسی کا حکم دیا تھا۔ ایک الگ کیس میں سویٹی بی بی اور ان کے بیٹوں قربان اور امام کو بھی واپس لانے کا حکم دیا گیا۔ دسمبر۲۰۲۵ء میں مرکزی حکومت نے حاملہ سنالی خاتون اور ان کے بیٹے کو انسانی بنیادوں پر ہندوستان واپس لانے پر اتفاق کیا تھا۔