سن رائزرز حیدرآباد کے نوجوان تیز گیند باز ثاقب حسین رائل چیلنجرز بنگلور کے خلاف کھیلا گیا میچ کبھی نہیں بھول پائیں گے۔
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 2:57 PM IST | New delhi
سن رائزرز حیدرآباد کے نوجوان تیز گیند باز ثاقب حسین رائل چیلنجرز بنگلور کے خلاف کھیلا گیا میچ کبھی نہیں بھول پائیں گے۔
سن رائزرز حیدرآباد کے نوجوان تیز گیند باز ثاقب حسین رائل چیلنجرز بنگلور کے خلاف کھیلا گیا میچ کبھی نہیں بھول پائیں گے۔ بہار کے رہنے والے ۲۱؍سالہ اس کھلاڑی نے میچ میں عظیم بلے باز وراٹ کوہلی کو آؤٹ کر کے اپنے کریئر کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ میچ کے بعد ثاقب کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، وہیں انہوں نے اپنے نام ایک بڑا ریکارڈ بھی کر لیا ہے۔ثاقب حسین کیلئے آئی پی ایل کا یہ پہلا سیزن بے حد شاندار گزر رہا ہے۔ بنگلور کے خلاف میچ میں انہوں نے کوہلی کے علاوہ ایک اور وکٹ اپنے نام کیا۔ اس جاندار کارکردگی کی بدولت ثاقب نے اس سیزن کے ۱۰؍ میچوں میں اپنی وکٹوں کی تعداد کو ۱۵؍ تک پہنچا دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : ایم ایس دھونی کا ہر آئی پی ایل سیزن کھیلنے کا سلسلہ ٹوٹ گیا
سب سے خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اس سال کھیلے گئے ہر ایک میچ میں کم از کم ایک وکٹ ضرور حاصل کیا ہے۔ یہ آئی پی ایل میں ایک خاص ریکارڈ ہے، جو آج تک کسی گیند باز کے نام نہیں رہا ہے۔ثاقب حسین آج کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ پہلی بار آئی پی ایل میں کھیل رہے بہار کے اس گیند باز نے لیجنڈ وراٹ کوہلی کی وکٹ کو اپنی ’ڈریم وکٹ‘ (خوابوں کی وکٹ) قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوہلی کو آؤٹ کرنا ان کا خواب تھا اور اب وہ خواب پورا ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : آئی پی ایل ۲۰۲۶ء: پنجاب کنگز کو لکھنؤ کے خلاف بڑی جیت درکار
جیت کے بعد سن رائزرز حیدرآباد کے گیند باز ثاقب حسین نے میچ کے گیم پلان کے بارے میں بتایا کہ ان کا منصوبہ پوری طرح سے پچ کے مزاج کو بھانپ کر گیند بازی کرنے کا تھا۔ انہیں سینئر کھلاڑی ورون بھیا (ورون چکرورتی) سے بھی کافی مدد ملی جنہوں نے انہیں کسی دباؤ میں نہ آ کر اپنی طاقت کے مطابق گیند بازی کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اسی حکمت عملی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ثاقب نے عظیم بلے باز وراٹ کوہلی کو آؤٹ کیا۔ مستقبل کے حوالے سے ثاقب کافی پُرامید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی بڑی امید کے بجائے صرف اپنے کھیل میں لگاتار سدھار لانا چاہتے ہیں اور میدان پر ہمیشہ اپنا ۱۰۰؍فیصد تعاون دینے کے لئے پُرعزم ہیں۔میچ کی بات کریں تو حیدرآباد نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے۴؍وکٹ پر ۲۵۵؍رن بنائے تھے جس کے جواب میں بنگلور۴؍وکٹ پر ۲۰۰؍رن ہی بنا سکی۔ شکست کے باوجود بنگلور ٹاپ پوزیشن پر برقرار رہے۔