ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ ایران جمعہ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے گا ۔
EPAPER
Updated: April 08, 2026, 12:00 PM IST | Karachi
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ ایران جمعہ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے گا ۔
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ ایران جمعہ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے گا ۔ مذاکرات جمعہ ۱۰؍ اپریل کو اسلام آباد میں شروع ہوں گے، اور امریکی فریق پر مکمل عدم اعتماد کے ساتھ کیے جائیں گے۔ ایران ان مذاکرات کے لیے دو ہفتوں کا وقت مختص کرے گا، جس میں فریقین کی باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔ اس دوران مکمل قومی یکجہتی برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔ یہ بات ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے حوالے سے کہی گئی۔
کونسل نے کہا کیا کہ اس مدت کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا جائے گا ، انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا مطلب امریکہ کے ساتھ جنگ کا خاتمہ نہیں ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ آئندہ مذاکرات کے دوران ’’معمولی سی غلطی‘‘ کرتا ہے تو ایران پوری طاقت کے ساتھ جواب دے گا ۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے میں وزیر اعظم پاکستان شریف اور فیلڈ مارشل منیر کا خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے ان کی انتھک کوششوں کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی دو طرفہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے ۔ امریکی لیڈر نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی حفاظت کی ضمانت دینے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔ امریکہ نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کے پاس ہی برقرار رہے گا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کو عالمی امن کے لیے ایک بڑا دن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو ہموار بنانے میں مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایسا اس لیے چاہتا ہے کیونکہ وہ اس صورتحال سے تنگ آ چکا ہے، اور اسی طرح باقی فریقین بھی تھک چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بہتر بنانے میں تعاون کرے گا اور اس سلسلے میں کئی مثبت اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:ایران جنگ کے اثرات: امریکہ کے میزائل ذخائر میں کمی سنگین چیلنج
ٹرمپ نے کہا کہ اس سے بڑے پیمانے پر معاشی فوائد حاصل ہوں گے اور ایران اپنی تعمیرِ نو کا عمل شروع کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ’’ہم ہر طرح کی سپلائی فراہم کریں گے اور یہیں قریب موجود رہیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سب کچھ درست طریقے سے چل رہا ہے۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالات بہتری کی جانب بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دور مغربی ایشیا کے لیے، امریکہ کی طرح، ایک سنہری دور ثابت ہو سکتا ہے۔